وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت بامقصد بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے، اور اپوزیشن چاہے تو ملک کے بڑے آئینی و قومی معاملات پر مل بیٹھ کر حل تلاش کرے۔
اہم نکات
- وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے دوران اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی۔
- وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، اپوزیشن بامقصد بات چیت کرے تو اس کا خیرمقدم ہوگا۔
- خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے آئینی تقاضے مکمل، دوسرا مرحلہ مکمل ہو چکا۔
- اب تیسرا مرحلہ شروع ہو گیا جس کا مقصد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور صوبے میں دائمی امن ہے۔
- دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کو شدت پسندوں سے کلیئر کیا جائے گا؛ کنٹرول کے بعد صوبے کا نظم و نسق صوبائی حکومت کو سونپا جائے گا۔
- پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی قراردادوں کی 214 ووٹوں سے منظوری۔
اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت
طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرِاعظم نے خود اپوزیشن لیڈر سے کہا کہ بیٹھیں اور بات کریں۔ ان کے بقول حکومت کی پیشکش سنجیدہ اور بامقصد ہے، اور ملکی مفاد کے معاملات پر بیٹھنے کی جگہ سے زیادہ بات چیت کا ماحول اہمیت رکھتا ہے۔
وزیرِاعظم نے ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ایک سال سے تعطل کا شکار ہے جو ایک اہم آئینی تقاضا ہے، اور اس پر کسی کو سیاسی رنگ نہیں ڈالنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کا تیسرا مرحلہ
وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے تمام آئینی تقاضے پورے ہو چکے ہیں، اور اس عمل کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ ان کے بقول صوبے میں سیاسی مقاصد کارفرما نہیں تھے؛ اگلا بڑا چیلنج ترقی اور امن کی بحالی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صوبے میں تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، جس کا واحد مقصد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور دائمی امن کا قیام ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کو شدت پسندوں سے کلیئر کیا جائے گا، اور دہشت گردی پر کنٹرول کے بعد صوبے کا نظم و نسق صوبائی حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔

طارق فضل چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ گورنر خیبر پختونخوا نے صوبائی حکومت کے اختیارات کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے، اور صوبے میں اب کوئی سیاسی مداخلت نظر نہیں آئے گی۔ ان کے بقول وفاقی حکومت کی اولین ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ، امن کا قیام اور ترقی ہے۔
پارلیمنٹ کا کردار اور اگلے اقدامات
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قراردادوں کو اکثریتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے دونوں قراردادیں ایوان میں پیش کیں۔ قراردادوں کے حق میں 214 ووٹ ڈالے گئے جبکہ مخالفت میں 56 ارکان نے ووٹ دیا۔
مزید تازہ ترین قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔