جے یو آئی مجلس شوریٰ کا دو روزہ اجلاس 18 اور 19 اکتوبر کو اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔ جماعت کے ترجمان اسلم غوری کے مطابق اجلاس کی صدارت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے، اور اس میں ملک بھر سے مرکزی مجلس شوریٰ کے ارکان شرکت کریں گے۔
اہم نکات
- جے یو آئی مجلس شوریٰ کا اجلاس 18 اور 19 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگا
- اجلاس کی صدارت جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے — ترجمان اسلم غوری
- خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ کا معاملہ ایجنڈے میں سرفہرست
- اپوزیشن اتحاد کو مضبوط اور دائرہ کار وسیع کرنے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں گی
- خطے اور مشرق وسطیٰ خصوصاً حرمین شریفین کی صورتحال پر بھی مشاورت ہوگی
جے یو آئی مجلس شوریٰ کا ایجنڈا
ترجمان اسلم غوری کے مطابق مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں سب سے پہلے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے اہم سیاسی فیصلے اور لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
جے یو آئی کے مطابق شوریٰ اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانے اور اس کا دائرہ کار وسیع کرنے کی تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ عوامی حقوق، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف جماعت کی جاری تحریک کا جائزہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔
خطے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی ایجنڈے میں
ترجمان کے مطابق مجلس شوریٰ کے اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کے حالات خصوصاً حرمین شریفین سے متعلق صورتحال پر بھی غور کیا جائے گا۔ جماعت کا کہنا ہے کہ ملکی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے تمام اہم معاملات پر مشاورت کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا پس منظر
خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے 15 اکتوبر کو اس کی توثیق کر دی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ ناگزیر تھا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس انہی حالات میں منعقد ہو رہا ہے اور سیاسی حلقوں کی نظر اس کے ممکنہ فیصلوں اور اعلامیے پر مرکوز ہے۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے ملاحظہ کریں وطن نیوز اردو۔