نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
اہم نکات
- نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔
- ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو میں خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
- علاقائی امن و استحکام کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
- بغداد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر بھی بات چیت ہوئی۔
- دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی اس ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال مرکزی موضوع رہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن و استحکام کے قیام کے لیے مذاکرات کا عمل، سفارت کاری اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ انتہائی ضروری ہے۔
اس موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ خطے کے مسائل کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے ایران سمیت پورے خطے میں امن اور استحکام کی امید کا اظہار کیا۔

او آئی سی اجلاس پر بھی تبادلہ خیال
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے بغداد میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ او آئی سی کا یہ اجلاس 17 اور 18 اکتوبر کو بغداد میں منعقد ہوا، جس میں خطے کے امن و سلامتی کے مسائل زیر بحث رہے۔
ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور قریبی رابطہ برقرار رہے گا۔
پاکستان کا سفارتی کردار
اس ٹیلی فونک رابطے کو پاکستان کی فعال سفارت کاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف فریقوں سے رابطے میں ہے۔ اس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالیس سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی، جس میں دوطرفہ تعاون اور خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
وطن نیوز اردو پر مزید قومی خبریں پڑھیں۔