پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے — اور یہ باب اس بار کسی فلم کی شوٹنگ یا ریلیز کا نہیں، بلکہ عالمی سینما کے سب سے بڑے اعزاز ہینگنگ بائی اے وائر آسکر کی دوڑ کا ہے۔ پاکستانی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو اکیڈمی ایوارڈز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری میں ملک کی باضابطہ نامزدگی کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی دستاویزی فلم اس کیٹیگری میں ملک کی نمائندگی کر رہی ہے۔
اہم نکات
- پاکستانی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو ۹۹ویں اکیڈمی ایوارڈز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری میں باضابطہ نامزدگی ملی
- ملک کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی دستاویزی فلم کو اس کیٹیگری کے لیے منتخب کیا گیا ہے
- فلم اگست ۲۰۲۳ میں بٹگرام کیبل کار ہنگامی صورتحال کی سچی کہانی بیان کرتی ہے — چھ اسکول بچوں سمیت آٹھ افراد کو تقریباً تیرہ گھنٹے بعد بچایا گیا تھا
- فلم کے ہدایتکار محمد علی نقوی ہیں؛ انتخاب کا اعلان پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے ۳ اکتوبر کو کیا
- کینیڈا کے میساف فلم فیسٹیول میں فلم کو ’صبین محمود ایوارڈ برائے جرأت مندی سینما‘ سے بھی نوازا گیا
وہ دن جب پوری قوم کی سانسیں رک گئی تھیں
۲۲ اگست ۲۰۲۳ کو خیبر پختونخوا کے علاقے بٹگرام میں ایک کیبل کار کی ایک تار ٹوٹ گئی۔ کار میں سوار آٹھ افراد — جن میں اسکول جانے والے چھ بچے بھی شامل تھے — ایک گہری وادی سے تقریباً نو سو فٹ کی بلندی پر لٹکے رہے۔ یہ ہنگامی صورتحال پاکستان بھر میں براہ راست دیکھی گئی، اور پوری قوم کی نظریں ریسکیو آپریشن پر لگی رہیں۔
پاکستان آرمی اور ایئر فورس کے ہیلی کاپٹرز نے پہلے دو بچوں کو نکالا، اور پھر زپ لائن کے ماہرین علی سواتی اور صاحب خان نے بچی ہوئی تار پر پھسل کر ایک ایک کر کے باقی افراد کو محفوظ نکال لیا۔ تقریباً بارہ سے تیرہ گھنٹے کی انتھک کوشش کے بعد تمام آٹھ افراد کی زندگیاں بچ گئیں۔
سن ڈانس سے ہینگنگ بائی اے وائر آسکر کی دوڑ تک
محمد علی نقوی کی ہدایتکاری میں بنی یہ فلم عینی شاہدین کی فوٹیج، زندہ بچ جانے والوں کے بیانات اور ریسکیو میں حصہ لینے والے حقیقی افراد کی اداکاری پر مبنی مناظر سے ترتیب دی گئی ہے۔ فلم کا عالمی پریمیئر رواں برس سن ڈانس فلم فیسٹیول کے ورلڈ سنیما ڈاکیومنٹری مقابلے میں ہوا، اور اس کے بعد اسے ٹرائبیکا، سڈنی اور سیئٹل کے فلم فیسٹیولز میں بھی دکھایا گیا۔
کینیڈا میں منعقدہ موزیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول (میساف) میں فلم کو ’صبین محمود ایوارڈ برائے جرأت مندی سینما‘ دیا گیا، اور اسی میلے کے دوران اس کی آسکر کے لیے انتخاب کی خبر بھی سامنے آئی۔ اسی میلے میں سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم ’لیلی‘ نے تین اعزازات حاصل کیے، جن میں فرازہ سید کی بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔

کمیٹی کی نائب چیئرپرسن ثنا زہرہ جعفری نے اس انتخاب کو پاکستانی دستاویزی فلم سازی کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ فلم ۱۳ اکتوبر کو آن لائن پلیٹ فارمز پر جاری ہوئی، اور ۲۸ اکتوبر سے یہ پیراماؤنٹ پلس پر بھی دستیاب ہوگی۔
پاکستانی سنیما کے لیے نئی امید
پاکستان نے ۱۹۵۹ سے اب تک تیرہ فلمیں اس کیٹیگری میں بھیجی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی بھی فلم حتمی نامزدگی حاصل نہ کر سکی۔ ۲۰۲۲ میں صائم صادق کی ’جوائے لینڈ‘ شارٹ لسٹ تک پہنچی تھی۔ ایک دستاویزی فلم کا انتخاب پاکستانی سنیما کی وسعت اور اعتماد کی علامت ہے — یہ پیغام کہ سچی کہانیاں بھی عالمی ایوارڈز کی دوڑ میں جگہ بنا سکتی ہیں۔
اردو بولنے والے فلمی شائقین کے لیے یہ خبر اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ فلم ایک ایسے واقعے کو عالمی سطح پر پیش کر رہی ہے جسے ہر پاکستانی اپنے دل سے جانتا ہے۔ وطن نیوز کے اردو صفحے پر ہم پاکستانی سنیما کی ایسی تمام کامیابیوں کی خبر آپ تک پہنچاتے رہیں گے۔