یوکرین نے روس کے خلاف جنگ کے سب سے بڑے فضائی حملوں میں سے ایک کرتے ہوئے رات بھر میں ایک ہزار سے زائد ڈرون داغے جن میں سے متعدد نے سینٹ پیٹرزبرگ کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور آئل ٹرمینل اور آئل ڈپو میں زبردست آگ لگ گئی۔ روسی حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے جبکہ رہائشی عمارتوں اور تجارتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
اہم نکات
- یوکرین نے رات بھر میں روس کے مختلف علاقوں پر ایک ہزار سے زائد ڈرونز سے حملہ کیا؛ روس کی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طور پر ایک ہزار پندرہ ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔
- سینٹ پیٹرزبرگ آئل ٹرمینل، روچی آئل ڈپو اور کولپنسکی ضلع کے صنعتی گوداموں میں آگ بھڑک اٹھی؛ شہر کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف نے نقصانات کی تصدیق کی ہے۔
- حملوں میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے جبکہ بارہ رہائشی عمارتوں اور دو مکانات کو نقصان پہنچا؛ تقریباً بیس ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔
- اوزون کے لاجسٹکس مرکز میں آگ لگی اور وی کے کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا گیا؛ سینٹ پیٹرزبرگ کے ہوائی اڈے پر پروازوں کا آپریشن بھی متاثر ہوا۔
- روس کے جوابی حملوں میں کیف، زاپوریژیا اور وولین میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے؛ زیلنسکی کے مطابق گزشتہ ہفتے روس نے یوکرین پر تقریباً دو ہزار سات سو ڈرون داغے۔
- ٹرمپ نے یوکرین کے روسی تیل تنصیبات پر حملوں پر تنقید کی ہے جبکہ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس نے توانائی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود یوکرین کی توانائی تنصیبات پر چھہتر حملے کیے۔
یوکرین کا روس پر ڈرون حملہ: جنگ کا سب سے بڑا فضائی حملہ
الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق یوکرین کی افواج نے اتوار کی رات روس کے مختلف علاقوں پر ایک ہزار سے زائد ڈرونز سے حملہ کیا جو جنگ کے اب تک کے سب سے بڑے فضائی حملوں میں شمار ہو رہا ہے۔ حملوں کا مرکزی ہدف روس کی تیل کی تنصیبات تھیں جن میں سینٹ پیٹرزبرگ آئل ٹرمینل اور شہر کا روچی آئل ڈپو شامل ہیں۔
سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف نے بتایا کہ حملوں کے بعد آئل ٹرمینل، روچی آئل ڈپو اور کولپنسکی ضلع میں صنعتی گوداموں میں آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے مطابق حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے جبکہ کئی رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ کیف انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارہ رہائشی عمارتوں اور دو مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

توانائی کی تنصیبات کے علاوہ تجارتی اور ڈیجیٹل ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ روسی آن لائن کاروباری کمپنی اوزون نے اپنے لاجسٹکس مرکز میں آگ لگنے کی اطلاع دی جبکہ ٹیکنالوجی کمپنی وی کے کے مطابق لینن گراڈ کے علاقے میں اس کے ڈیٹا سینٹر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تاہم صارفین کے لیے خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں۔
لینن گراڈ کے گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو کے مطابق حملے کے دوران ان کے علاقے میں تقریباً ایک سو پینتالیس ڈرونز مار گرائے گئے اور یانینو کے علاقے میں دو بجلی گھروں کو نقصان پہنچنے کے باعث لگ بھگ بیس ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ رات کے دوران روس کے پندرہ علاقوں، روس کے زیر قبضہ یوکرینی جزیرہ نما کریمیا اور بحیرہ اسود کے اوپر مجموعی طور پر ایک ہزار پندرہ یوکرینی ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے مرکزی ہوائی اڈے پر بھی حفاظتی وجوہات کی بنا پر پروازوں کا آپریشن متاثر ہوا۔
روس کے جوابی حملے اور دونوں جانب شہری ہلاکتیں
دوسری جانب یوکرین میں روس کے حملوں کے نتیجے میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ کیف کے میئر ویتالی کلیچکو کے مطابق روسی فضائی حملے میں ایک خاتون ہلاک ہوئی جبکہ ایک میٹرو اسٹیشن، غیر رہائشی عمارتوں اور پچیس منزلہ رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔ حملے میں تین افراد زخمی ہوئے اور ایک طبی مرکز بھی متاثر ہوا۔
جنوبی یوکرین کے شہر زاپوریژیا میں روسی حملوں کے دوران ایک خاتون ہلاک اور کم از کم دو افراد زخمی ہوئے جن میں ایک چھ سالہ بچی بھی شامل ہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق وولین کے علاقے میں رہائشی عمارتوں پر حملوں سے دو افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے جن میں دو بچے شامل ہیں۔
یوکرینی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتے روس نے یوکرین پر تقریباً دو ہزار سات سو حملہ آور ڈرونز، ایک ہزار سات سو فضائی بم اور چھاسٹھ میزائل داغے جن میں سے بیشتر بیلسٹک میزائل تھے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے توانائی کے شعبے پر حملے جاری رکھے ہیں اور ٹرمپ کے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی کے بعد بھی یوکرین کے توانائی، تیل اور گیس کے شعبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ایسے چھہتر حملے ہوئے۔
ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان کشیدگی
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے روسی تیل اور توانائی کی تنصیبات پر یوکرینی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روس پر نئی پابندیاں نافذ کرنے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کے بقول اس سے ماسکو کے ساتھ مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے جمعے کو ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس کے تحت روس کے تیل اور گیس کے شعبے کے خلاف پابندیوں کے پیکج کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرینی صدر جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری جانب زیلنسکی نے خبردار کیا کہ روس پر پابندیوں میں نرمی ماسکو کی جنگی کوششوں کو تقویت دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو یہ دیکھنا چاہیے کہ روس پابندیوں میں نرمی یا معاہدوں کے جواب میں کوئی باہمی قدم نہیں اٹھا رہا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور اتوار کو انہوں نے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے اگلے مراحل پر بات کی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے کہا کہ یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یوکرین روسی حملے کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حملوں سے واقعات کے موجودہ رخ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے اور برینٹ خام تیل ایک سو نو ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ہزار سے زائد ڈرونز کا یہ حملہ جنگ میں معاشی دباؤ اور عسکری طاقت کے بڑھتے ہوئے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے غیر رسمی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے کوئی مؤثر طریقہ کار موجود ہے یا نہیں۔ یوکرین اور روس کے درمیان جاری اس کشیدگی کے علاقائی اور عالمی اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مزید بین الاقوامی خبریں وطن نیوز اردو پر ملاحظہ کریں۔