فرانس میں ہفتے کے آخر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے بعد کئی شہروں میں کرفیو میں توسیع کر دی گئی ہے، جب کہ حکومت نے آئندہ ہفتے کے آخر میں متوقع نئے احتجاج سے قبل نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس میں کرفیو اور فوج کی تعیناتی کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دارالحکومت پیرس سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں کئی روز سے جاری بدامنی نے حکومت کو غیر معمولی حفاظتی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
اہم نکات
- پیرس میں ریپبلک چوک اور لے ہال کے علاقوں میں رات گیارہ بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔
- لیون میں شہر کے مرکزی علاقے میں رات نو بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو بڑھا دیا گیا ہے۔
- مارسیلز میں نابالغوں کے لیے رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو لگایا گیا ہے۔
- حکومت نے ہفتے کے روز متوقع مظاہروں کے لیے فوجی دستوں کی تعیناتی اور بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کا اعلان کیا ہے۔
- ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار افراد نے شرکت کی، جب کہ اڑھائی ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے۔
- پرتشدد واقعات میں تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور خبر رساں اداروں کے مطابق کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔
فرانس میں کرفیو اور فوج کی تعیناتی
پیرس پولیس کے مطابق منگل کی رات سے شہر کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ رہا، جن میں ریپبلک چوک اور لے ہال کا علاقہ شامل ہے۔ ان علاقوں میں رات گیارہ بجے سے صبح چھ بجے تک نقل و حرکت محدود رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایلیسیے محل، قومی اسمبلی، سینیٹ، شانزے لیزے، شاتلے اور بڑے ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف میں رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک غیر اعلان شدہ اجتماعات پر پابندی بھی برقرار رکھی گئی۔
لیون میں شہر کے مرکزی علاقے میں کرفیو رات نو بجے سے صبح چھ بجے تک بڑھا دیا گیا، جب کہ اجتماعات پر پابندی شام چار بجے سے نافذ کر دی گئی۔ مارسیلز کے میئر نے شہر کے مرکزی حصوں میں آئندہ چند روز کے لیے نابالغوں پر رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو کا اعلان کیا۔ ٹولوز میں جمعرات کی شام سے اتوار تک رات بارہ بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا، جب کہ بورڈو اور نیس میں پہلے سے اعلان شدہ کرفیو جاری رہیں گے۔ لیل اور نیس میں بھی نابالغوں کے لیے کرفیو لگایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ حکومت سینٹینیل فوجی دستوں کو تعینات کرے گی، جو بنیادی طور پر جامد حفاظتی ذمہ داریاں سنبھالیں گے تاکہ پولیس اور فوجی پولیس قانون نافذ کرنے والے امور پر توجہ دے سکیں۔ سینٹینیل فرانس کا داخلی فوجی آپریشن ہے جو سنہ دو ہزار پندرہ میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم سیباستیان لیکورنو نے کہا کہ آئندہ ہفتے کے روز بڑے پیمانے پر حفاظتی موجودگی یقینی بنائی جائے گی اور جہاں صورت حال تقاضا کرے گی وہاں نئے کرفیو بھی لگائے جائیں گے۔

ہفتے کے آخر میں کیا ہوا
مظاہروں کا آغاز گذشتہ ماہ اس وقت ہوا تھا جب طلبہ نے تعلیمی اداروں میں بہتر سہولیات کا مطالبہ کیا، تاہم بعد میں یہ احتجاج رہن سہن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عوامی خدمات کی خرابی جیسے وسیع تر مسائل تک پھیل گیا۔ اس ہفتے کے آخر میں مزدور یونینوں اور مختلف احتجاجی گروہوں کی شمولیت کے باعث مظاہرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ہفتے کے روز ملک بھر میں ایک سو دس مظاہروں میں تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار افراد نے شرکت کی، جن میں سے ایک لاکھ دس ہزار پیرس میں جمع ہوئے۔ کئی مقامات پر مظاہرے پرتشدد ہو گئے، دکانوں کو لوٹا گیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ حکام کے مطابق اڑھائی ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق پرتشدد واقعات میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے، جب کہ دو افراد کے ہاتھ ضائع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق مظاہرین میں شامل ایک شخص کا ہاتھ اس وقت ضائع ہو گیا جب پولیس کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پھینکا گیا ایک گرینیڈ پھٹ گیا۔
وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ بعض شہروں میں پولیس حالات پر قابو کھو بیٹھی تھی اور انھوں نے اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انٹیلی جنس ادارے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے اور پہلے کے حفاظتی انتظامات بہت جامد تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے اور یہ رقم تشدد کے ذمہ دار افراد سے وصول کی جائے گی۔
حکومت کا موقف اور آئندہ احتجاج
وزیر اعظم لیکورنو نے منگل کے روز کہا کہ نشانہ بنا کر لگائے گئے کرفیو نے رات کے دوران امن برقرار رکھنے میں مدد کی۔ انھوں نے مقامی میئروں کو یہ اختیار بھی دیا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں کرفیو نافذ کریں، تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن شہروں میں یہ نافذ ہو گا۔ انھوں نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کیے جانے کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔
ملک کی مرکزی طلبہ یونین یونیف نے ہفتے کے روز مزید احتجاج کی کال دی ہے اور کہا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ فرانس کی بڑی مزدور یونینوں میں سے ایک سی جی ٹی نے بھی شرکت کا اعلان کیا ہے اور پرامن احتجاج کی اپیل کی ہے۔ امریکہ کے سفارت خانے نے فرانس میں مقیم امریکی شہریوں کو پرتشدد مظاہروں سے دور رہنے اور سفر میں ممکنہ خلل پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بدامنی فرانس کے لیے ایک نازک وقت میں سامنے آئی ہے، جہاں رہن سہن کی بڑھتی قیمتوں پر عوامی غصہ، سیاسی عدم استحکام اور مالی بحران ایک ساتھ موجود ہیں۔ حکومت کے قرضوں پر سود کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، پارلیمنٹ میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں اور اپریل سنہ دو ہزار ستائیس میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس صورت حال میں حکومت کے لیے امن کی فوری بحالی سب سے بڑا امتحان بن گئی ہے۔ مزید بین الاقوامی خبروں کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔