اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد بلدیاتی انتخابات 2015ء کے قانون کے مطابق کرانے کا حکم دے دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ انتخابات کا شیڈول آج ہی جاری کیا جائے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات میں طویل تاخیر کے بعد اب انتخابات کے لیے قانونی راستہ واضح ہو گیا ہے۔
اہم نکات
- الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 2015ء کے قانون کے تحت کرانے کا حکم دیا ہے۔
- انتخابات کا شیڈول آج ہی جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
- چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے اس معاملے کی سماعت کی۔
- اسلام آباد میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015ء میں ہوئے تھے، اور منتخب بلدیاتی حکومت کی مدت فروری 2021ء میں ختم ہوئی تھی۔
- حلقہ بندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اور حلقوں کی حتمی فہرستیں 14 اکتوبر کو شائع ہوئی تھیں۔
اسلام آباد بلدیاتی انتخابات کا حکم کیا ہے
الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے بعد مختصر حکم نامہ سنایا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے حکم نامے میں کہا کہ انتخابات 2015ء کے بلدیاتی قانون کے مطابق کرائے جائیں گے، اور اس کے لیے شیڈول آج جاری کیا جائے۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، جبکہ کمیشن کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات سے متعلق آرڈیننس کی مدت 6 ستمبر کو ختم ہو گئی تھی، اور اس کے بعد نیا قانون سازی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ کمیشن کے مطابق اس صورتحال میں 2015ء کے موجودہ قانون کے تحت انتخابات کرانا ہی عملی راستہ ہے۔
دوران سماعت وزارت داخلہ کے حکام نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ 2015ء کے نظام کی طرف واپسی کے لیے انتخابی انتظامات میں کچھ تبدیلیاں درکار ہوں گی۔ کمیشن نے جواب میں کہا کہ 2015ء کے قانون کے تحت انتخابات کرانے سے مکمل شدہ حلقہ بندی متاثر نہیں ہوگی۔ کمیشن نے تاخیر پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ انتخابات کے انعقاد میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
تاخیر کیوں ہوئی
اسلام آباد میں پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات 2015ء میں ہوئے تھے، جس کے بعد میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد قائم ہوئی تھی۔ منتخب بلدیاتی حکومت کی پانچ سالہ مدت فروری 2021ء میں ختم ہوئی، مگر اس کے بعد سے نئے انتخابات بار بار مؤخر ہوتے رہے۔
حالیہ برسوں میں قانون سازی میں بار بار تبدیلیاں، یونین کونسلوں کی تعداد میں ردوبدل اور نئی حلقہ بندی کی ضرورت نے انتخابات کو مزید پیچھے دھکیل دیا۔ رواں سال حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق ایک آرڈیننس جاری کیا تھا، مگر اس کی مدت 6 ستمبر کو ختم ہو گئی، جبکہ متعلقہ قانون سازی اس سے پہلے مکمل نہ ہو سکی۔ وزارت قانون نے قواعد کا مسودہ بھی اس بنیاد پر واپس کر دیا کہ آرڈیننس کے ختم ہونے کے بعد قواعد بنانے کا اختیار باقی نہیں رہا تھا۔

اسی اجلاس میں صوبوں، اسلام آباد اور کنٹونمنٹ علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن کے حکام کے مطابق کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے تیار ہے، اور پنجاب حکومت کو ڈرافٹ انتخابی شیڈول بھیج دیا گیا ہے۔
آگے کیا ہوگا
شیڈول کے جاری ہونے کے بعد انتخابات کا عملی مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ توقع ہے کہ شیڈول میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے، ان کی جانچ پڑتال، اپیلوں، دستبرداری اور پولنگ کی تاریخیں طے کی جائیں گی۔ حلقہ بندی پہلے سے مکمل ہونے کی وجہ سے اس مرحلے کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
دارالحکومت کے شہریوں کے لیے یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ منتخب بلدیاتی نظام کے بغیر شہر کے مقامی مسائل، صفائی، پانی اور دیگر بلدیاتی خدمات کا انتظام انتظامی اداروں کے ذریعے چل رہا تھا۔ منتخب بلدیاتی نمائندوں کی واپسی سے شہریوں کو اپنے علاقوں کے مسائل کے لیے براہ راست منتخب نمائندوں تک رسائی مل سکے گی۔ مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔