متنازع علاقے ابیئی میں بازار پر ڈرون حملہ ہوا ہے جس میں مقامی حکام کے مطابق کم از کم 53 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی امیت مارکیٹ میں کم از کم 28 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جب کہ ہلاکتوں کے حتمی اعداد کے بارے میں ابھی اختلاف پایا جاتا ہے اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
اہم نکات
- حملہ پیر 19 اکتوبر کو ابیئی شہر کے شمال میں واقع امیت کامن مارکیٹ پر ہوا۔
- مقامی حکام کے مطابق 53 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے؛ اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم 28 شہری ہلاک ہوئے۔
- مقامی حکام کا دعویٰ ہے کہ حملے کے دوران 22 گولہ بارود استعمال ہوئے اور بازار کے کئی حصے نشانہ بنے۔
- ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی تاجر اور پناہ گزین شامل بتائے گئے ہیں۔
- جنوبی سوڈان نے سوڈانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے؛ حملے کی ذمہ داری کے بارے میں دعوے متضاد ہیں۔
- امدادی تنظیم کے مطابق قریبی اسپتال میں 20 سے زائد زخمی زیر علاج ہیں، جن میں جلنے والے مریض بھی شامل ہیں۔
ابیئی میں بازار پر ڈرون حملہ: کیا ہوا
مقامی حکام کے مطابق پیر کی صبح امیت مارکیٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا، جو اس وقت خریداروں اور تاجروں سے بھری ہوئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں بازار کے وسطی اور جنوبی حصوں کے ساتھ شمالی دروازے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد بازار کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور دھواں دور تک پھیل گیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق آگ نے امدادی کاموں کو مشکل بنا دیا اور اگلے روز بھی بعض مقامات پر آگ سلگتی رہی، جس کی وجہ سے لاشوں کی شناخت اور حتمی تعداد کا تعین تاخیر کا شکار ہوا۔ مقامی حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کے ساتھ بزرگ شہری، مقامی تاجر، نگوک ڈنکا برادری کے افراد، جنوبی سوڈان واپس آنے والے شہری اور سوڈانی پناہ گزین بھی شامل ہیں۔

امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق قریبی امیت بیک اسپتال میں 20 سے زائد زخمی لائے گئے ہیں۔ تنظیم کے طبی ذمہ دار کرسچن لنڈاؤر کے مطابق کئی مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے اور جلنے والے مریضوں کا بھی علاج کیا جا رہا ہے۔ اسپتال کے عملے نے بتایا ہے کہ زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ دور دراز علاقوں سے مریضوں کی آمد جاری ہے۔
ہلاکتوں کے اعداد اور ذمہ داری پر اختلاف
ہلاکتوں کے اعداد کے بارے میں مختلف ذرائع میں فرق پایا جاتا ہے۔ مقامی حکام نے ابتدا میں 53 ہلاکتوں اور 27 زخمیوں کا اعلان کیا، جب کہ اقوام متحدہ نے امیت مارکیٹ میں کم از کم 28 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی اور بتایا کہ متعدد افراد لاپتا ہیں۔ بعد کی اطلاعات میں ابیئی انتظامیہ کے نگراں وزیر اطلاعات یوحنا اکول نگور نے ہلاکتوں کی تعداد پہلے 73 اور پھر 153 تک بڑھا دی، جب کہ مقامی اندازوں کے مطابق تقریباً 8 ہزار افراد بے گھر بھی ہوئے ہیں۔ حتمی تعداد ابھی طے نہیں ہو سکی ہے، اس لیے ان اعداد کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
حملے کی ذمہ داری کے بارے میں بھی دعوے متضاد ہیں۔ ابیئی کے حکام اور جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے سوڈانی فوج پر حملے کا الزام لگایا ہے اور جنوبی سوڈان نے اس معاملے پر سوڈانی سفیر کو طلب کیا ہے۔ دوسری جانب سوڈانی فوج کے ایک سینئر افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے کو بتایا کہ نشانہ ایندھن کے ٹینکر تھے جو مبینہ طور پر نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کو فراہم کیے جا رہے تھے۔ خبر رساں ادارے نے واضح کیا ہے کہ وہ افسر کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے، اس لیے ذمہ داری کا سوال ابھی متنازع ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ابیئی میں حملے کی مذمت کی ہے اور سوڈان بھر میں ڈرون حملوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے ان برادریوں پر تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں جو تین سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے نتائج پہلے ہی بھگت رہی ہیں۔
ابیئی کیوں متنازع ہے اور جنگ کا پس منظر
ابیئی ایک متنازع علاقہ ہے جس پر سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں دعویٰ کرتے ہیں۔ جنوبی سوڈان 2011 میں کئی دہائیوں کے تنازع کے بعد سوڈان سے الگ ہو کر آزاد ملک بنا تھا، لیکن ابیئی کی حتمی حیثیت کا فیصلہ آج تک نہیں ہو سکا ہے۔ امیت مارکیٹ اس علاقے کی ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے، جہاں سے نگوک ڈنکا اور مسیریہ برادریوں کے ساتھ جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے سامان بھی پہنچایا جاتا ہے۔
سوڈان اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شدید جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس جنگ نے ملک کو عملاً تقسیم کر دیا ہے اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سوڈان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تشدد کا دائرہ پھیل رہا ہے۔
عالمی برادری کی توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ متنازع علاقوں میں شہریوں کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جائے۔ وطن نیوز کی مزید عالمی خبروں کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔ فی الحال ابیئی میں صورتحال غیر یقینی ہے اور حتمی ہلاکتوں، زخمیوں اور بے گھر افراد کے اعداد کا انتظار کیا جا رہا ہے۔