پشاور ہائیکورٹ نے لاپتا وزیر بازیابی کیس میں خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر فضل شکور خان اور رکن قومی اسمبلی فضل محمد کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں کی تلاش کے لیے جیو فینسنگ مکمل کر لی گئی ہے اور کوششیں جاری ہیں۔ سماعت کے بعد عدالت نے کارروائی 3 نومبر تک ملتوی کر دی۔
اہم نکات
- پشاور ہائیکورٹ میں لاپتا صوبائی وزیر فضل شکور خان اور رکن قومی اسمبلی فضل محمد کی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
- تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جیو فینسنگ کر لی گئی ہے اور دونوں کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں۔
- جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی غائب ہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔
- عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی۔
- صوبائی وزیر کے مبینہ اغوا کا مقدمہ چمکنی تھانے میں درج ہے۔
لاپتا وزیر بازیابی کیس میں سماعت کی کارروائی
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے بدھ کے روز دونوں درخواستوں کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کیس میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جیو فینسنگ کی جا چکی ہے اور دونوں لاپتا افراد کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ رکن قومی اسمبلی کے کیس میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر نے عدالت کو بتایا کہ چمکنی پولیس کو یو ایس بی فراہم کی گئی ہے اور صوبائی وزیر کے بھائی کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد عدنان شیر نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے یو ایس بی فراہم نہیں کی۔ وکیل نے یہ شکایت بھی کی کہ صوبائی وزیر کے کیس کا تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہیں ہوا۔

عدالت کے ریمارکس
جسٹس اعجاز انور نے سماعت کے دوران تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی غائب ہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب نمایاں شخصیات اس طرح لاپتا ہو سکتی ہیں تو عام شہریوں کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان درخواستوں کو 3 نومبر کو مقرر اسی نوعیت کے دیگر کیسز کے ساتھ سنا جائے۔ عدالت نے یہ استدعا منظور کرتے ہوئے مزید کارروائی 3 نومبر تک ملتوی کر دی۔
کیس کا پس منظر
درخواست کے مطابق صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان 21 ستمبر کو پشاور اسلام آباد موٹروے ٹول پلازہ کے قریب مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہوئے تھے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب مسلح افراد نے انہیں روکا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد چمکنی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں وزیر کے ساتھ موجود دونوں افراد بحفاظت گھروں کو واپس پہنچ گئے اور انہوں نے اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے۔ ان بیانات کے مطابق تقریباً 14 افراد نے انہیں بھی اپنے ساتھ لے جا کر ایک نامعلوم مقام پر رکھا تھا، تاہم بعد میں دونوں کو رہا کر دیا گیا جبکہ صوبائی وزیر بدستور لاپتا ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ صوبائی وزیر کے بارے میں فوری طور پر معلومات حاصل کی جائیں اور اگر انہیں کسی ادارے یا شخص نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کو وزیر کی بازیابی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے اور تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔