امریکہ میں مکانات کی زیر التوا فروخت ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ قومی رئیلٹرز ایسوسی ایشن نے 20 اکتوبر 2026 کو بتایا کہ ستمبر میں زیر التوا مکانات کی فروخت کا انڈیکس سات اعشاریہ تین فیصد کم ہو کر 66 اعشاریہ صفر تک آ گیا، جو 2001 میں اس سلسلے کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ رہن کی شرح میں تیزی سے اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
اہم نکات
- ستمبر میں زیر التوا فروخت کا انڈیکس سات اعشاریہ تین فیصد کم ہو کر 66 اعشاریہ صفر تک آ گیا۔
- یہ 2001 کے بعد سب سے کم سطح ہے اور سال بہ سال کمی 11 اعشاریہ تین فیصد رہی۔
- امریکہ کے چاروں خطوں میں معاہدوں میں کمی دیکھی گئی۔
- تیس برس کے رہن کی اوسط شرح سات اعشاریہ چار فیصد تک پہنچ گئی، جو تقریبا تین برس کی بلند ترین سطح ہے۔
- ماہرین نے صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد کمی کی پیش گوئی کی تھی، لیکن اصل کمی اس سے کہیں زیادہ رہی۔
امریکی مکانات کی زیر التوا فروخت میں ریکارڈ کمی کی وجوہات
ایسوسی ایشن کے چیف ماہر معاشیات لارنس یون نے کہا کہ ستمبر میں مارکیٹ کی صورتحال اس لیے کمزور ہوئی کہ رہن کی شرح تیزی سے بڑھی۔ جب قرض مہنگا ہو جاتا ہے تو خریدار مکان خریدنے سے پہلے سوچنے لگتے ہیں اور معاہدوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ زیر التوا فروخت سے مراد وہ معاہدے ہیں جو طے پا چکے ہیں لیکن ابھی مکمل فروخت نہیں ہوئے۔ یہ معاہدے عام طور پر ایک یا دو ماہ بعد مکمل فروخت بنتے ہیں، اس لیے یہ انڈیکس آئندہ فروخت کا ابتدائی اشارہ دیتا ہے۔
رہن کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ سرکاری بانڈز کی شرح میں اضافہ ہے۔ تیس برس کے رہن کی اوسط شرح گزشتہ برس چھ اعشاریہ 27 فیصد تھی، جو اب سات اعشاریہ چار فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے خریدار کی ماہانہ قسط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خطوں میں صورتحال اور تعمیراتی شعبے پر اثر
چاروں خطوں میں معاہدے کم ہوئے، لیکن مغربی اور جنوبی خطوں میں سال بہ سال سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ مغرب میں 15 فیصد اور جنوب میں 12 فیصد کمی ہوئی، جبکہ شمال مشرق میں نو اعشاریہ چار فیصد اور وسط مغرب میں آٹھ اعشاریہ سات فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تعمیراتی شعبہ بھی دباؤ میں ہے۔ نئے مکانات کی تعمیر پر اعتماد اکتوبر میں کم ہو کر 29 تک آ گیا، جو جون 2012 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ نئے مکانات کی خریداری کے لیے رہن کی درخواستوں میں بھی ستمبر میں سال بہ سال آٹھ اعشاریہ تین فیصد کمی ہوئی۔
خریداروں اور فروخت کنندگان کے لیے اس کا مطلب
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو خریدار ابھی مارکیٹ میں موجود ہیں، انہیں فروخت کنندگان سے بات چیت میں زیادہ گنجائش مل سکتی ہے۔ قیمت میں کمی، معائنے کی شرائط اور اختتامی اخراجات میں مدد جیسے معاملات پر بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب فروخت کنندگان کو قیمت طے کرتے وقت مقامی مارکیٹ کی حالیہ فروخت کو بنیاد بنانا چاہیے، نہ کہ صرف قومی انڈیکس کو۔
ریئلٹر ڈاٹ کام کی سینئر ماہر معاشیات نے کہا کہ جب تک سستی بہتر نہیں ہوتی، خریداروں کو سال کے آخر تک مشکل صورتحال کا سامنا رہ سکتا ہے، خاص طور پر جب اجرتوں میں اضافہ مہنگائی سے کم ہو۔
نتیجہ
ستمبر کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ میں ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ مہنگا قرض اور بلند قیمتیں خریداروں کو روک رہی ہیں۔ آئندہ مہینوں میں رہن کی شرح اور قیمتوں کا رویہ یہ طے کرے گا کہ مارکیٹ کب دوبارہ حرکت میں آتی ہے۔ مزید خبریں وطن نیوز پر پڑھیں اور اسی خبر کا صفحہ یہاں دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
زیر التوا فروخت کا انڈیکس کتنا کم ہوا؟
یہ انڈیکس سات اعشاریہ تین فیصد کم ہو کر 66 اعشاریہ صفر تک آ گیا۔
یہ سطح کیوں اہم ہے؟
یہ 2001 میں اس سلسلے کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح ہے۔
کمی کی بڑی وجہ کیا بتائی گئی؟
رہن کی شرح میں تیزی سے اضافہ کمی کی بڑی وجہ بتایا گیا ہے۔
تیس برس کے رہن کی شرح کتنی ہے؟
تیس برس کے رہن کی اوسط شرح سات اعشاریہ چار فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
زیر التوا فروخت سے کیا مراد ہے؟
زیر التوا فروخت سے مراد وہ معاہدے ہیں جو طے پا چکے ہیں لیکن ابھی مکمل فروخت نہیں ہوئے۔