امریکہ کی ہاؤسنگ مارکیٹ میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ ملک میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے مکانات کی اوسط طلبی قیمت مارچ کے بعد پہلی بار سالانہ بنیاد پر کم ہوئی ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ فروخت کنندگان اب قیمتوں کے حوالے سے زیادہ لچک دکھا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ریئل اسٹیٹ بروکریج فرم ریڈفن کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو 11 اکتوبر کو ختم ہونے والے چار ہفتوں کے اعداد پر مبنی ہے۔
اہم نکات
- امریکہ میں مکانات کی اوسط طلبی قیمت 396881 ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.3 فیصد کم ہے اور مارچ کے بعد پہلی سالانہ کمی ہے۔
- مکانات کی فروخت کی اوسط قیمت 391116 ڈالر رہی، جو صرف 0.5 فیصد بڑھی، یعنی مارچ کے بعد سب سے سست رفتار۔
- 30 سالہ رہن کی ہفتہ وار اوسط شرح 8 اکتوبر کو 7.4 فیصد تک پہنچ گئی، جو تین سال کی بلند ترین سطح ہے۔
- عام خریدار کی ماہانہ رہن قسط 2777 ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال سے 8.8 فیصد زیادہ ہے۔
- فعال فہرستوں والے 22 فیصد فروخت کنندگان نے اپنی طلبی قیمت کم کی، جو ریڈفن کے ریکارڈ میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔
طلبی قیمتوں میں کمی کا کیا مطلب ہے؟
طلبی قیمت اور فروخت قیمت میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ طلبی قیمت یہ بتاتی ہے کہ فروخت کنندگان آج اپنے مکان کی کیا قیمت مانگ رہے ہیں، جبکہ فروخت قیمت ان سودوں کی عکاسی کرتی ہے جو پہلے طے پائے تھے۔ اس لیے طلبی قیمتوں میں کمی فروخت کنندگان کی توقعات میں نرمی کا ابتدائی اشارہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروخت کی قیمتیں اب بھی بڑھ رہی ہیں، لیکن ان کی رفتار مارچ کے بعد سب سے سست ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خریداروں کے لیے کچھ ریلیف افق پر نظر آ سکتا ہے، اگرچہ فوری طور پر بڑی کمی کی توقع نہیں کی جا رہی۔
بلند شرح سود اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ
ہاؤسنگ مارکیٹ پر سب سے زیادہ دباؤ رہن کی بلند شرح سود کا ہے۔ 8 اکتوبر کو 30 سالہ رہن کی ہفتہ وار اوسط شرح 7.4 فیصد تک پہنچ گئی، جو تین سال کی بلند ترین سطح تھی۔ اس کے بعد روزانہ کی شرح میں معمولی کمی آئی اور 14 اکتوبر کو یہ 7.45 فیصد رہی، جبکہ تقریباً ایک ہفتہ قبل یہ 7.61 فیصد تھی۔
اس معمولی نرمی کے باوجود ماہانہ قسطیں بہت زیادہ ہیں۔ ریڈفن کے اندازے کے مطابق عام خریدار کی ماہانہ رہن قسط 2777 ڈالر ہے، جو گزشتہ سال سے 8.8 فیصد زیادہ اور فرم کے ریکارڈ میں دوسری بلند ترین سطح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے خریدار اب بھی مارکیٹ سے باہر ہیں، حالانکہ فروخت کنندگان زیادہ لچکدار ہو گئے ہیں۔

فروخت کنندگان قیمتیں گھٹا رہے ہیں
ایک اور اہم اشارہ یہ ہے کہ فعال فہرستوں والے 22 فیصد فروخت کنندگان نے اپنی طلبی قیمت کم کی ہے، جو گزشتہ سال کے 20.9 فیصد سے زیادہ اور ریڈفن کے ریکارڈ میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروخت کنندگان مارکیٹ کی نئی حقیقت کو قبول کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سپلائی میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ نئی فہرستیں ہفتہ وار بنیاد پر 0.4 فیصد بڑھیں، جبکہ فروخت کے لیے دستیاب مکانات کی کل تعداد 0.8 فیصد بڑھی۔ سپلائی کے مہینے 3.8 سے بڑھ کر 4.2 ہو گئے، اور مکانات اوسطاً 49 دن مارکیٹ میں رہے، جو گزشتہ سال سے ایک دن زیادہ ہے۔
مارکیٹ کے اہم اعداد
| پیمانہ | 11 اکتوبر کو ختم ہونے والے چار ہفتے | سالانہ تبدیلی |
|---|---|---|
| اوسط طلبی قیمت | 396881 ڈالر | 0.3 فیصد کمی |
| اوسط فروخت قیمت | 391116 ڈالر | 0.5 فیصد اضافہ |
| ماہانہ رہن قسط | 2777 ڈالر | 8.8 فیصد اضافہ |
| قیمت گھٹانے والے فروخت کنندگان | 22 فیصد | 20.9 فیصد سے زیادہ |
| سپلائی کے مہینے | 4.2 | 3.8 سے زیادہ |
| مارکیٹ میں اوسط دن | 49 دن | ایک دن زیادہ |
خریداروں اور فروخت کنندگان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
خریداروں کے لیے یہ خبر ملی جلی ہے۔ ایک طرف طلبی قیمتیں گر رہی ہیں اور فروخت کنندگان قیمت کم کرنے پر آمادہ ہیں، جس سے سودے بازی کی گنجائش پیدا ہو رہی ہے۔ دوسری طرف ماہانہ قسط اب بھی بہت زیادہ ہے، اس لیے خریداری کا فیصلہ صرف قیمت دیکھ کر نہیں بلکہ ماہانہ ادائیگی کی استطاعت دیکھ کر کرنا چاہیے۔
فروخت کنندگان کے لیے پیغام واضح ہے کہ درست قیمت مقرر کرنا اب پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ جو مکانات درست قیمت پر پیش کیے جا رہے ہیں، وہ اب بھی فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ زیادہ قیمت والے مکانات مارکیٹ میں زیادہ دیر تک پڑے رہتے ہیں۔
متعلقہ مضامین
- امریکہ میں مکانات کی زیر التوا فروخت ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی
- دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں تیزی: ایک ہفتے میں 13.47 ارب درہم کے سودے
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا امریکہ میں مکانات کی قیمتیں واقعی گر رہی ہیں؟
طلبی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 0.3 فیصد کم ہوئی ہیں، جو مارچ کے بعد پہلی کمی ہے، جبکہ فروخت کی قیمتیں اب بھی 0.5 فیصد بڑھ رہی ہیں، اگرچہ ان کی رفتار سب سے سست ہے۔
رہن کی شرح سود اس وقت کتنی ہے؟
30 سالہ رہن کی ہفتہ وار اوسط شرح 8 اکتوبر کو 7.4 فیصد تک پہنچی تھی، جو تین سال کی بلند ترین سطح تھی، اور 14 اکتوبر کو روزانہ کی شرح 7.45 فیصد رہی۔
عام خریدار کی ماہانہ قسط کتنی ہے؟
ریڈفن کے اندازے کے مطابق عام خریدار کی ماہانہ رہن قسط 2777 ڈالر ہے، جو گزشتہ سال سے 8.8 فیصد زیادہ ہے۔
کیا یہ خریداری کا اچھا وقت ہے؟
یہ خریدار کی مالی حالت پر منحصر ہے۔ قیمتیں نرم ہو رہی ہیں اور سودے بازی کی گنجائش بڑھ رہی ہے، لیکن ماہانہ قسط زیادہ ہونے کے باعث استطاعت کا حساب لگانا ضروری ہے۔