×
یورپی شہر کی سڑک پر مظاہرین کا بڑا ہجوم

یورپ کے کئی ملکوں میں ہفتے کے روز مہنگائی، تعلیم کی فنڈنگ، عوامی خدمات اور سیاسی احتساب کے مسائل پر بڑے مظاہرے ہوئے۔ فرانس میں سب سے بڑا اجتماع ریکارڈ کیا گیا، جہاں وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں چار لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں پر نکلے، جبکہ اٹلی، بیلجیم اور البانیہ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملیں۔

اہم نکات

  • فرانس میں ملک بھر میں چار لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا، جو اس ہفتے کے آخر میں سب سے بڑا اجتماع تھا۔
  • اٹلی میں روم کے کولوزیم کے دروازوں پر کئی سو نوجوان مظاہرین جمع ہوئے، جنہیں سیکیورٹی عملے نے ہٹا دیا؛ ملک بھر میں 9 افراد گرفتار اور 371 کو مختصر حراست میں لیا گیا۔
  • میلان میں 500 فوجی تعینات کیے گئے اور ڈومو گرجا گھر کے ارد گرد پیراٹروپرز کھڑے کیے گئے۔
  • البانیہ کے دارالحکومت تیرانہ میں 2500 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور مظاہرین پر واٹر کینن استعمال کی گئی۔
  • بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں پولیس نے مظاہرین کی رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس استعمال کی۔

فرانس: سب سے بڑا اجتماع

فرانس میں مظاہرے گزشتہ ہفتے سے جاری بے چینی کا تسلسل تھے۔ مظاہرین نے رہائشی اخراجات میں اضافے، عوامی خدمات کی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ گزشتہ ہفتے فرانس کے شمالی شہروں میں لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے تھے، جس کے بعد اس ہفتے کے آخر میں دکانیں احتیاطاً بند رکھنے کی اطلاعات ملیں۔

فرانس میں مظاہروں کی قیادت طلبہ تنظیموں، نچلی سطح کی یونینوں اور 17 اکتوبر موومنٹ نامی نئے گروپ نے کی۔ مظاہرین نے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں اور حکومت سے اپنے مطالبات پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

اٹلی: روم اور میلان میں کشیدگی

اٹلی میں ہفتے کے روز کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ روم میں کئی سو نوجوان مظاہرین کولوزیم کے دروازوں پر جمع ہوئے اور کچھ دیر وہاں موجود رہے، جس کے بعد سیکیورٹی عملے نے انہیں ہٹا دیا۔ ٹورن اور روم میں وقفے وقفے سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔

میلان میں صورتحال کے پیش نظر حکومت نے 500 فوجی سڑکوں پر تعینات کیے اور ڈومو گرجا گھر کے ارد گرد پیراٹروپرز کھڑے کیے۔ نیپلز، ٹورن، بولونیا، فلورنس اور میلان میں کئی دکانوں نے گزشتہ ہفتے کی لوٹ مار کے خدشے کے پیش نظر اپنے شٹر بند رکھے۔ اطالوی وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو کے مطابق فوجی صرف ریلوے اسٹیشنوں کے قریب پلاسٹک کی ہتھکڑیاں استعمال کر سکتے تھے۔

پیرس کی سڑک پر مظاہرین کا ہجوم
یورپ کے ایک شہر میں مظاہرے کی فائل تصویر۔

البانیہ اور بیلجیم: طلبہ کے مطالبات

البانیہ کے دارالحکومت تیرانہ میں طلبہ نے وزارت تعلیم کے باہر مظاہرہ کیا اور ٹیوشن فیس میں کمی، تعلیم میں زیادہ سرکاری سرمایہ کاری اور وزیر اعظم ایڈی راما کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے 2500 سے زیادہ اہلکار تعینات کیے اور ہجوم پر واٹر کینن استعمال کی۔ مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں اور صوفوں کو آگ لگائی، جو وزیر اعظم نے طلبہ سے مکالمے کی علامتی دعوت کے طور پر رکھے تھے۔

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھی طلبہ کی بنائی ہوئی رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس استعمال کی۔ برسلز کی کئی لگژری دکانوں نے گزشتہ ہفتے کی لوٹ مار کے خدشے کے پیش نظر اپنے شٹر بند رکھے۔ حکام کے مطابق کم از کم پانچ افراد گرفتار ہوئے، لیکن کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

مظاہروں کی وجوہات کیا ہیں؟

اگرچہ ہر ملک میں مظاہروں کی مقامی وجوہات مختلف ہیں، لیکن ایک مشترک نمونہ سامنے آیا ہے: رہائشی اخراجات میں اضافہ، تعلیم اور عوامی خدمات پر دباؤ، اور سیاسی قیادت پر اعتماد میں کمی۔ فرانس میں مظاہرین نے مہنگائی اور عوامی خدمات کی صورتحال پر ناراضی ظاہر کی، جبکہ البانیہ میں توجہ تعلیمی فیسوں اور تعلیم میں سرمایہ کاری پر رہی۔ اٹلی میں مظاہرین نے غزہ کی جنگ اور حکومتی پالیسیوں پر بھی نعرے لگائے۔

حکام نے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور بعض شہروں میں فوج تعینات کی، جبکہ مظاہرین کے منتظمین نے پرامن احتجاج کا مطالبہ جاری رکھا۔ صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے یورپی دارالحکومتوں میں سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

یورپ میں مظاہرے کہاں کہاں ہوئے؟

سب سے بڑے مظاہرے فرانس میں ہوئے، جبکہ اٹلی، بیلجیم اور البانیہ میں بھی مظاہرے اور جھڑپیں ریکارڈ کی گئیں۔

فرانس میں کتنے افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا؟

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں چار لاکھ سے زیادہ افراد سڑکوں پر نکلے۔

مظاہرین کے بنیادی مطالبات کیا تھے؟

مطالبات ملک کے لحاظ سے مختلف تھے، جن میں رہائشی اخراجات میں کمی، تعلیمی فیسوں میں کمی، تعلیم میں سرمایہ کاری اور عوامی خدمات کی بہتری شامل تھی۔

اٹلی میں کیا ہوا؟

روم میں کولوزیم کے دروازوں پر نوجوان مظاہرین جمع ہوئے، جنہیں سیکیورٹی عملے نے ہٹا دیا، اور میلان میں 500 فوجی تعینات کیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanch0013@gmail.com

Related Posts

عدالت کی عمارت کے سامنے انصاف کا ترازو اور قانون کی کتابیں

وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: ہائیکورٹس انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتیں

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹس انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہیں، لیکن عام حالات...

Read out all
مانتا برادری کے لیے موسمیاتی انصاف پر عارف الرحمان کا یوتھ والنٹیئر ایوارڈ

عارف الرحمان کو موسمیاتی انصاف میں ایک دہائی کی محنت پر یوتھ والنٹیئر ایوارڈ

محمد عارف الرحمان کو بنگلہ دیش کا یوتھ والنٹیئر ایوارڈ 2026 دیا گیا ہے، جو کشتیوں پر رہنے والی مانتا برادری، آفات...

Read out all
یریوان میں کاپ17 کے آخری ہفتے میں وزرا کا اجلاس

کاپ17 کا آخری ہفتہ: عالمی فطری جائزے میں 149 اختلافات کے ساتھ وزرا کی آمد

یریوان میں کاپ17 اپنے آخری ہفتے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں دنیا کے فطری اہداف کا پہلا عالمی جائزہ ابھی 149...

Read out all
عمدہ انداز میں پیش کی گئی ایک ڈش

ورلڈ فوڈ چیمپئن شپ 2026: 10 کیٹیگریز کے عالمی چیمپئنز کا اعلان، جاپان، نیدرلینڈز اور امریکہ کے شیف سر فہرست

دنیا کے سب سے بڑے فوڈ اسپورٹ مقابلے ورلڈ فوڈ چیمپئن شپ 2026 میں 10 کیٹیگریز کے عالمی چیمپئنز کا اعلان کر...

Read out all
نیوز روم میں طوفان کی تصدیق شدہ خبروں کا جائزہ لیتے موسمیاتی ماہر اور صحافی شدید موسم غلط معلومات

گرسٹ اور کلائمیٹ سینٹرل کی ڈسٹورٹڈ گفتگو: شدید موسم میں غلط معلومات کا مقابلہ

گرسٹ اور کلائمیٹ سینٹرل 28 اکتوبر 2026 کو دوپہر ایک بجے مشرقی امریکی وقت پر ڈسٹورٹڈ کے نام سے ایک آن لائن...

Read out all
موسمیاتی کانفرنس میں نوجوان سمندری کارکن ارتھ ایکو نوجوان کاپ17

ارتھ ایکو کے نوجوان رہنما یریوان میں کاپ17 میں سمندر کے تحفظ کی آواز

پانچ ممالک کے سات نوجوان سمندری کارکن آرمینیا کے شہر یریوان پہنچے ہیں، جہاں وہ ارتھ ایکو انٹرنیشنل کے نوجوان وفد کے...

Read out all