نیپال میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے کے مطابق تبت، نیپال کے سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سیلاب کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد
حکام کا کہنا ہے کہ اس سیلاب کے بعد 3,900 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ دریائے تریشولی کے کنارے واقع پن بجلی منصوبوں پر کام کر رہے تھے اور سیلاب کے باعث ان منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کیچڑ بھر جانے کے باعث وہ وہاں پھنس گئے ہیں۔
امدادی کارروائیوں کی قیادت
سرنگوں میں پھنس جانے والے ان 600 کے لگ بھگ ورکرز کی زندگیاں بچانے کے لیے مختلف ممالک کے ماہر انجینیئرز سرنگوں کے اندر ہوا پمپ کر رہے ہیں۔ اگرچہ امدادی ٹیم ایک سرنگ میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوئی، تاہم وہاں کسی شخص کے نہ ملنے پر یہ ٹیم واپس لوٹ آئی۔
- چین اور نیپال کے فوجی اہلکاروں کی قیادت میں بین الاقوامی ٹیم
- انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے ماہرین کی شرکت
مجھے اب بھی 50 فیصد امید ہے کہ وہ زندہ ہیں، کیونکہ سُرنگ کے اندر آکسیجن کا نظام موجود تھا۔ – سیتا پانڈے
نیپال اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک پن بجلی پر انحصار کرتا ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے نیپال نے اپنے دریائی نظاموں پر کئی نئے پن بجلی کے منصوبے شروع کیے ہیں جبکہ پرانے پلانٹس کی توسیع کی جا رہی ہے۔
مزید معلومات کے لیے وطن نیوز کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔