اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے منگل کو سماعت مکمل کی، اور تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ طویل عرصے سے حلقہ بندیوں، قانون میں ترامیم اور امن و امان کی صورت حال کے باعث التوا کا شکار ہے۔
اہم نکات
- الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
- بینچ کی سربراہی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری ہوگا۔
- الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری کے مطابق صوبے کے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں۔
- صوبائی مشیر قانون نے امن و امان کی صورت حال کو انتخابات میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
- صوبائی اسمبلی کی قانون میں ترمیم کے بعد حلقہ بندیوں کے عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
سماعت میں کیا ہوا
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری ظفر اقبال نے بینچ کو بتایا کہ صوبے کے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں اور کمیشن اپنے حکم کے ذریعے وہاں بلدیاتی انتخابات کروا سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ باقی اضلاع میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کیا جائے اور جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہیں، وہاں انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا جائے۔
سماعت کے موقع پر خیبر پختونخوا کے نگراں وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) ارشد حسین شاہ نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، وہاں انتخابات کروائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ کیوں ہونی چاہیے، جب کہ دنیا میں جنگوں اور ایمرجنسی کے دوران بھی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں حلقہ بندیوں کا تنازع
حلقہ بندیوں کے معاملے پر صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن کے مؤقف میں فرق نمایاں رہا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے قانون میں ترمیم کر کے انتخابی حلقوں میں آبادی کی حد بڑھا دی ہے، جس سے حلقہ بندیوں کے عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ دوسری جانب صوبے کے مشیر قانون عامر جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال انتخابات کے انعقاد میں بڑی رکاوٹ ہے اور پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہے۔
مشیر قانون کے مطابق صوبے کے 36 اضلاع میں سے 12 میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا اطلاق نہیں ہو سکتا اور وہاں بلدیاتی نظام قابل اطلاق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان 12 اضلاع میں سے 6 میں حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں، جب کہ باقی اضلاع میں سے 16 میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی نے نجی بل کے ذریعے قانون میں ترمیم کی، جس کے بعد موجودہ قانون میں ابہام پیدا ہو گیا ہے، اور صوبائی حکومت اب قانون میں مزید ترمیم نہیں کر سکتی، ہر ترمیم قومی اسمبلی کو بھیجنا ہو گی۔

آگے کیا ہوگا
فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد اب سب کی نظریں الیکشن کمیشن کے تفصیلی فیصلے پر ہیں، جس سے یہ واضح ہوگا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کس مرحلے میں اور کن اضلاع میں پہلے کرائے جائیں گے۔ بلدیاتی نظام مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اور اس کے انتخابات میں تاخیر سے نچلی سطح پر نمائندگی کا خلا برقرار ہے۔