شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس منگل کو ختم ہو گیا ہے، لیکن پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم کی شرکت اور دونوں کی جانب سے دیے گئے بیانات زیرِ بحث ہیں جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے اجلاس کی تصاویر پر بھی بات ہو رہی ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران جہاں روس، چین، ایران، تاجکستان، آذربائیجان سمیت دیگر رُکن ممالک کے رہنما شریک تھے تو وہیں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا مطالبہ
منگل کو اپنے خطاب میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پانی کو ’کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘ وزیر اعظم نے انڈیا کا نام نہیں لیا لیکن وہ اپنے خطاب میں نئی دہلی کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی طرف ہی اشارہ کر رہے تھے۔
انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی تقریر
انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ انڈیا شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا علاقائی سطح پر دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔
- پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں سرد مہری
- شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں پاکستان اور انڈیا کی شرکت
- وزیر اعظم شہباز شریف اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی تقاریر
پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کی تقاریر اور ان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے بھی زیرِ بحث ہیں۔
مزید معلومات کے لیے وطن نیوز کا ربط ملاحظہ کریں۔