اسلام آباد میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی پر حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، جس میں دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اسپیکر چیمبر میں ہونے والی اس ملاقات میں وفاقی وزرا اور پیپلز پارٹی کے وفد نے شرکت کی اور پارلیمان میں پیش کیے جانے والے مجوزہ قوانین پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اہم نکات
- حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی پر مذاکرات کا دوسرا دور اسپیکر چیمبر میں ہوا۔
- دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے اور اختلافات مشاورت سے حل کرنے پر اتفاق کیا۔
- رائٹ آف وے بل پر پیپلز پارٹی نے سخت موقف اختیار کیا، نجی زمین پر زبردستی ٹاور لگانے پر سوال اٹھایا۔
- وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ بل میں ترامیم پر رضامند ہوگئیں۔
حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات میں مجوزہ قوانین پر تبادلہ خیال
ذرائع کے مطابق ملاقات میں پارلیمان میں متوقع نئے قوانین اور پارلیمانی امور پر گفتگو ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے مجوزہ قوانین پر اپنے تحفظات سے حکومت کو آگاہ کیا، جبکہ حکومتی وفد نے ان تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ اختلافات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت پارلیمان میں کئی اہم قوانین لانے کی تیاری کر رہی ہے، اور اتحادی جماعت کے طور پر پیپلز پارٹی کی حمایت قانون سازی کے عمل میں اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل بھی دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان اسی موضوع پر ملاقات ہو چکی ہے، جس کے بعد مذاکرات کا یہ دوسرا دور منعقد ہوا۔
رائٹ آف وے بل پر پیپلز پارٹی کا موقف
مذاکرات کے دوران رائٹ آف وے بل خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس بل پر سخت موقف اپناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ نجی ملکیتی زمین پر زبردستی ٹاور کیسے لگایا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے نجی جائیداد کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور بل کی شقوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

اس معاملے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ نے بل میں ترامیم پر رضامندی ظاہر کی، جسے مذاکرات میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ترامیم کے بعد بل کو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاکہ مجوزہ قوانین پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت اور اس کی اتحادی جماعت کے درمیان رابطے کا جاری رہنا پارلیمانی عمل کے لیے خوش آئند ہے، کیونکہ اس سے قانون سازی میں رکاوٹوں کے بجائے مشاورت کا راستہ اختیار ہوتا ہے۔
آئندہ مذاکرات میں بل کی ترامیم کی تفصیلات اور دیگر مجوزہ قوانین پر مزید گفتگو متوقع ہے۔ مزید خبروں کے لیے وطن نیوز اردو ملاحظہ کریں۔