آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔ برطانیہ کے بحری تجارتی ادارے نے جمعرات کو بتایا کہ یہ جہاز عمان کے شہر خصب کے شمال میں تقریباً 9 ناٹیکل میل کے فاصلے پر آگ کی لپیٹ میں دیکھا گیا۔ جہاز کو علاقے سے گزرنے والے ایک اور جہاز کے کپتان نے دیکھا اور اس کی اطلاع دی۔
اطلاع کے مطابق، اب تک عملے کی حالت معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ نقصان کی حد یا سمندر پر ممکنہ ماحولیاتی اثر کے بارے میں بھی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ آگ لگنے کی وجہ کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے، اور متعلقہ حکام صورت حال کی جانچ کر رہے ہیں۔
اہم نکات
- واقعہ 29 اکتوبر کو آبنائے ہرمز میں، عمان کے شہر خصب کے شمال میں تقریباً 9 ناٹیکل میل کے فاصلے پر رپورٹ ہوا۔
- جہاز کو علاقے سے گزرنے والے ایک اور جہاز کے کپتان نے آگ میں دیکھا اور اطلاع دی۔
- عملے کی حالت اب تک معلوم نہیں؛ نقصان یا ماحولیاتی اثر کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
- آگ لگنے کی وجہ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
- بحری ادارے نے علاقے میں گزرنے والے جہازوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
واقعہ کیسے سامنے آیا
برطانیہ کے بحری تجارتی ادارے نے جمعرات کو جاری کردہ اطلاع میں کہا کہ اسے آبنائے ہرمز میں ایک جہاز میں آگ لگنے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ رپورٹ علاقے سے گزرنے والے ایک تیسرے جہاز کے کپتان کی جانب سے دی گئی، جس نے جہاز کو آگ میں دیکھا۔ ادارے نے علاقے میں سفر کرنے والے جہازوں کو احتیاط سے گزرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع اپنے مرکز کو دینے کی ہدایت کی ہے۔
ایکسپریس نے اس واقعے کو عمان کے ساحل کے قریب تیل بردار جہاز میں آگ لگنے کے طور پر رپورٹ کیا ہے۔ تاہم، برطانوی ادارے کی اطلاع میں جہاز کی قسم، اس کا نام، اس کے جھنڈے یا اس کے کارگو کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے، اس مرحلے پر صرف یہ بات مصدقہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک جہاز میں آگ دیکھی گئی ہے، جب کہ دیگر تفصیلات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک تنگ بحری گزرگاہ ہے، جو خلیج کو کھلے سمندر سے ملاتی ہے۔ خلیج سے دنیا بھر کو جانے والے تیل و گیس کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے اسے دنیا کی مصروف ترین اور حساس ترین بحری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس گزرگاہ میں کسی بھی جہاز سے متعلق واقعہ، خواہ وہ حادثہ ہو یا سیکیورٹی کا معاملہ، فوری طور پر عالمی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ بحری کمپنیاں، عملہ اور تجارتی حلقے اس علاقے کی صورت حال پر گہری نظر رکھتے ہیں، کیونکہ یہاں رکاوٹ کا اثر عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارتی آمد و رفت پر پڑ سکتا ہے۔
اب تک کیا معلوم نہیں اور آگے کیا ہوگا
اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ جہاز میں سوار عملے کی تعداد کتنی تھی اور وہ کس حالت میں ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آگ کیسے لگی، جہاز کو کتنا نقصان پہنچا ہے، اور آیا سمندر میں تیل یا کسی اور مواد کے اخراج کا خطرہ ہے یا نہیں۔ ان سوالوں کے جواب حکام کی تحقیقات اور مزید اطلاعات کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔
بحری ادارے کی ہدایت کے مطابق، علاقے میں گزرنے والے جہازوں کو احتیاط برتنی چاہیے اور صورت حال پر نظر رکھنی چاہیے۔ جیسے ہی عملے، نقصان یا آگ کی وجہ کے بارے میں مصدقہ اطلاعات سامنے آئیں گی، اس خبر کی تفصیل سامنے آ جائے گی۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔