×
راولپنڈی کی عدالت کی عمارت کے باہر سیکیورٹی بیریئر

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے یہ فیصلہ جمعرات کو اڈیالہ جیل میں سنایا۔

اہم نکات

  • راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔
  • دونوں پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جب کہ حراست میں گزرا ہوا وقت سزا میں شمار ہوگا۔
  • مقدمہ اکتوبر 2024 میں تھانہ آبپارہ میں درج ہوا تھا، جس میں سیکیورٹی بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کا الزام تھا۔
  • استغاثہ نے مقدمے میں مجموعی طور پر سات گواہان پیش کیے تھے۔
  • دفاع نے فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جسے عدالت نے منظور نہیں کیا۔

ایمان مزاری کیس میں عدالت کا فیصلہ

عدالت نے تین مختلف دفعات کے تحت سزا کا حکم دیا ہے۔ دہشت گردی کی دفعہ کے تحت دونوں کو دس دس سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 کے تحت دو دو سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانہ، جب کہ دفعہ 186 کے تحت ایک ایک سال قید اور پچاس پچاس ہزار روپے جرمانہ سنایا گیا ہے۔ یہ سزائیں ایک ساتھ چلیں گی، اس لیے دونوں کی مؤثر قید دس دس سال ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ملزمان نے حراست میں جو وقت گزارا ہے، وہ بھی ان کی سزا میں شمار کیا جائے گا۔

مقدمے کا پس منظر

یہ مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سیکیورٹی بیریئر ہٹائے اور سرکاری امور کی انجام دہی میں مداخلت کی، جس سے سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا تھا، اور اسٹیٹ کونسل عاطف محمود نے گواہان پر جرح کی۔ استغاثہ نے مجموعی طور پر سات گواہان پیش کیے، اور حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا۔

عدالت کی عمارت کا اندرونی منظر

عدالت کے احاطے کا ایک منظر جہاں اس مقدمے کی سماعت ہوئی۔

دفاع کا موقف

دفاع کے وکیل ایمل مندوخیل نے فیصلہ سنانے سے قبل عدالت سے درخواست کی تھی کہ فیصلہ مؤخر کر دیا جائے، کیوں کہ ملزمان کی درخواستیں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان درخواستوں پر فیصلہ نہ ہو جائے، عدالت فیصلہ نہیں سنا سکتی۔ دفاع کی جانب سے مقدمے کی منتقلی کی درخواست بھی ہائی کورٹ میں زیر التوا تھی۔ عدالت نے ان دلائل کے باوجود فیصلہ سنا دیا۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف عائد بے بنیاد فوجداری اور دہشت گردی کے الزامات ختم کیے جائیں۔ مزید قومی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھی جا سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanch0013@gmail.com

Related Posts

ڈھاکہ میں عدالت کی عمارت کی علامتی تصویر

بنگلہ دیش کے ٹریبونل نے عوامی لیگ کے رہنما حنیف کو سزائے موت سنا دی

بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے کوشٹیا میں جولائی 2024 کی تحریک کے دوران چھ افراد کی ہلاکت کے مقدمے...

Read out all
نوجوان موسمیاتی سفیر سبز منصوبے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں

لرننگ پلینٹ یوتھ ڈیزائن چیلنج: نوجوان موسمیاتی سفیر منتخب ہوں گے

پیرس میں قائم لرننگ پلینٹ انسٹی ٹیوٹ نے 2026-27 یوتھ ڈیزائن چیلنج کھول دیا ہے، جس میں 15 سے 26 سال کے...

Read out all
آبنائے ہرمز میں دھوئیں کے ساتھ سمندر میں جہاز

آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحل کے قریب جہاز میں آگ لگ گئی، عملے کی حالت معلوم نہیں

آبنائے ہرمز میں عمان کے شہر خصب کے شمال میں تقریباً 9 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک جہاز میں آگ لگ...

Read out all
نائیجیریا میں شمسی توانائی کے فارم میں سولر پینلز اور انجینئرز کا معائنہ

نائیجیریا کے موسمیاتی قانون کے محرک سیم اونوئیگبو کو سولر انرجی فیلوشپ مل گئی

نائیجیریا کے موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2021 کے محرک سیم ایفینی اونوئیگبو کو 43 ویں نیشنل سولر انرجی فورم میں سولر انرجی سوسائٹی...

Read out all
کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مسافر ٹرین

بلوچستان میں ٹرینوں کی آمدورفت آج ایک روز کے لیے بند

بلوچستان میں تکنیکی وجوہات اور ضروری مرمتی کام کے باعث آج ٹرین آپریشن ایک روز کے لیے معطل ہے، جعفر ایکسپریس اور...

Read out all
اسپین میں تیز رفتار ٹرین

اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کا تصادم: 68 افراد ہلاک، تین روزہ قومی سوگ کا اعلان

اسپین کے صوبے ٹولیڈو میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو...

Read out all