برطانیہ کی حکومت نے مستقل رہائش کے قواعد میں بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئے مجوزہ نظام کے تحت برطانیہ میں مستقل رہائش خود بخود نہیں ملے گی بلکہ اسے شرائط پوری کر کے حاصل کرنا ہو گا، اور انتظار کی مدت درخواست گزار کے زمرے کے لحاظ سے پانچ سال سے تیس سال تک ہو گی۔ ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے تین نومبر کو ان تجاویز کا اعلان کیا، جن کا مقصد مستقل رہائش کے نظام کو سخت اور شرائط سے مشروط بنانا ہے۔
یہ تجاویز ابھی قانون نہیں بنیں۔ ان پر بحث اور مزید مراحل طے ہونے کے بعد ہی یہ حتمی شکل اختیار کریں گی۔ تاہم اعلان کے بعد سے ہی یہ موضوع برطانیہ میں زیر بحث ہے، کیونکہ ان تبدیلیوں کا اثر لاکھوں تارکین وطن پر پڑ سکتا ہے، جن میں وہ افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جو پہلے سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔
اہم نکات
- مستقل رہائش کے لیے معیاری انتظار کی مدت دس سال ہو گی۔
- زیادہ آمدنی والے افراد اور صحت، تعلیم اور سماجی نگہداشت کے ہنر مند کارکن پانچ سال بعد درخواست دے سکیں گے۔
- قانونی راستے سے آ کر پناہ حاصل کرنے والے افراد بھی پانچ سال بعد درخواست کے اہل ہوں گے۔
- غیر قانونی راستے سے آنے والے افراد کو کام یا تعلیم کی صورت میں بیس سال اور ان کے بغیر تیس سال انتظار کرنا ہو گا۔
- درخواست کے لیے آمدنی، ملازمت، انگریزی زبان کی مہارت اور مالی ذمہ داری کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
- مجرمانہ ریکارڈ، انگریزی نہ بولنا، قرضوں کی عدم ادائیگی یا قومی انشورنس کی شرائط پوری نہ کرنا درخواست مسترد ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
نئے قواعد کیا ہیں؟
نئے نظام کی بنیاد یہ اصول ہے کہ مستقل رہائش ایک حق کے طور پر خود بخود نہیں ملے گی بلکہ اسے کما کر حاصل کرنا ہو گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جو لوگ برطانیہ میں رہنا چاہتے ہیں انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ملازمت کرتے ہیں، انگریزی بول سکتے ہیں اور اپنے اخراجات خود برداشت کر سکتے ہیں۔
معیاری راستے پر چلنے والے افراد کو مستقل رہائش کے لیے دس سال انتظار کرنا ہو گا۔ اس کے مقابلے میں سالانہ پچاس ہزار پاؤنڈ سے زیادہ آمدنی والے افراد اور صحت، تعلیم اور سماجی نگہداشت کے شعبوں کے ہنر مند کارکن پانچ سال بعد درخواست دے سکیں گے۔ حکومت کے مطابق ان شعبوں کے کارکنوں کی خدمات کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب کم آمدنی والے دیگر کارکنوں کو دس سال کا معیاری انتظار کرنا ہو گا۔ اس فرق کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ زیادہ آمدنی اور ہنر مند شعبوں میں کام کرنے والے افراد جلد مستقل رہائش کے اہل ہوں گے، جب کہ دیگر افراد کو طویل مدت تک شرائط پوری کرتے رہنا ہو گا۔

کن لوگوں پر کیا اثر پڑے گا؟
پناہ کے متلاشی افراد کے لیے قواعد ان کے آمد کے راستے پر منحصر ہوں گے۔ قانونی راستے سے آ کر پناہ حاصل کرنے والے افراد پانچ سال بعد مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گے۔ اس کے برعکس غیر قانونی راستے سے آنے والے افراد کو کہیں زیادہ انتظار کرنا ہو گا۔ اگر وہ کام کرتے ہیں یا تعلیم حاصل کرتے ہیں تو انتظار کی مدت بیس سال ہو گی، اور اگر وہ نہ کام کرتے ہوں نہ تعلیم حاصل کرتے ہوں تو یہ مدت تیس سال تک پہنچ جائے گی۔
مستقل رہائش ملنے کے بعد فرد برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہ سکے گا، کام کر سکے گا اور تعلیم حاصل کر سکے گا۔ اہلیت کی شرائط پوری ہونے پر وہ عوامی معاونت اور بعد میں برطانوی شہریت کے لیے بھی درخواست دے سکے گا۔ اس لیے مستقل رہائش کی مدت میں تبدیلی کا اثر شہریت کے حصول کے وقت پر بھی پڑے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ مستقل رہائش کے اہل افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے عوامی خزانے پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ نئے قواعد کا مقصد اس بوجھ کو کم کرنا اور نظام کو مالی طور پر زیادہ پائیدار بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق شرائط پر مبنی نظام سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ مستقل رہائش صرف انہی افراد کو ملے جو معاشرے میں فعال کردار ادا کر رہے ہوں۔
تنقید اور اگلے مراحل
ان تجاویز پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ لیبر جماعت کے بعض ارکان نے ان تجاویز کو برطانوی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طویل انتظار کی مدتیں، خاص طور پر بیس اور تیس سال کی مدتیں، بہت سے افراد کو غیر یقینی صورت حال میں مبتلا کر دیں گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نیا نظام منصفانہ ہے، کیونکہ اس میں محنت، زبان اور مالی ذمہ داری کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان تجاویز پر پارلیمان اور عوامی سطح پر بحث متوقع ہے، اور حتمی قانون سازی سے پہلے ان میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔ تارکین وطن کی تنظیموں اور ماہرین کی نظر اس بات پر رہے گی کہ حتمی قواعد میں پہلے سے مقیم افراد کے لیے کیا گنجائش رکھی جاتی ہے۔
مزید عالمی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز ملاحظہ کریں۔