ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک ممنوعہ آبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران چار آئل ٹینکرز بحری سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق تباہ ہونے والے جہازوں میں آگ لگی ہوئی ہے، جبکہ اسی کارروائی کے دوران دو مزید جہازوں کو قبضے میں بھی لے لیا گیا ہے۔
اہم نکات
- ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ چار آئل ٹینکرز بحری سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئے۔
- ایرانی بیان کے مطابق تباہ ہونے والے ٹینکرز میں آگ لگی ہوئی ہے۔
- اسی بیان میں دو مزید جہازوں کو قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
- ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک ممنوعہ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
- ایرانی بیان میں ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
- اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے، اور کسی جہاز کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔
بیان میں کیا کہا گیا
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی افواج نے یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں کی۔ بیان کے مطابق چاروں ٹینکرز ایک ایسے راستے سے گزر رہے تھے جسے ایرانی حکام نے ممنوع قرار دے رکھا ہے، اور اسی دوران وہ بحری سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دو مزید جہازوں کو بھی روک کر قبضے میں لے لیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی بحری پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائی دفاعی یونٹوں نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون کو مار گرایا ہے، جسے وہ اس قسم کا 56 واں ڈرون قرار دے رہے ہیں۔

علامتی تصویر: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہاز
آزاد تصدیق ابھی باقی ہے
اس خبر کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایرانی دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں نے بھی اس دعوے کو ایرانی حکام کے بیان سے منسوب کر کے شائع کیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ وہ اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔
بیان میں تباہ ہونے والے کسی بھی جہاز کا نام، اس کا جھنڈا، مالک یا درست مقام نہیں بتایا گیا ہے، اور نہ ہی کسی شپنگ کمپنی یا بحری ادارے نے ابھی تک کسی جہاز کے ضائع ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اس لیے یہ خبر فی الحال ایک دعوے کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی تفصیلات آنے والے وقت میں واضح ہو سکیں گی۔
خطے میں کشیدگی کا پس منظر
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہ گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، اور اس سے گزرنے والے جہازوں کی سلامتی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بحری سلامتی اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پس منظر میں آبنائے ہرمز میں پیش آنے والا کوئی بھی واقعہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کرتا ہے، کیونکہ اس کے اثرات تیل کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔
مزید عالمی خبریں وطن نیوز اردو پر پڑھیں۔