ضلع خیبر کے علاقے جمرود کے چپری میں انسداد پولیو مہم کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم کے سپروائزر جلیل خان کو اغوا کر لیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں تلاش کا عمل تیز کر دیا ہے اور اہم راستوں پر ناکے لگا دیے ہیں۔ پولیو سپروائزر اغوا کا یہ واقعہ 4 نومبر کو اس وقت پیش آیا جب سپروائزر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔
اہم نکات
- جمرود کے چپری میں پولیو سپروائزر جلیل خان کو ڈیوٹی کے دوران اغوا کیا گیا۔
- ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار احمد نے اغوا کی تصدیق کر دی ہے۔
- پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور اہم راستوں پر ناکے لگا دیے گئے۔
- ضلع خیبر میں سات روزہ انسداد پولیو مہم منگل سے جاری ہے۔
- تاحال کسی گرفتاری یا بازیابی کا اعلان نہیں ہوا ہے۔
پولیو سپروائزر اغوا: پولیس کی کارروائی
پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد سپروائزر کو اپنے ساتھ نامعلوم مقام پر لے گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار احمد نے بتایا کہ مغوی کی بازیابی اور مسلح افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
پولیس نے علاقے کے اہم راستوں پر ناکے لگا دیے ہیں تاکہ اغوا کاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ حکام کے مطابق علاقے میں تلاش کا عمل جاری ہے، تاہم ابھی تک اغوا کاروں کی شناخت یا ان کے مقصد کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

سات روزہ مہم اور ملک گیر صورتحال
ضلع خیبر میں سات روزہ انسداد پولیو مہم منگل سے جاری ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 2 نومبر سے ملک کے 97 منتخب اضلاع میں خصوصی مہم شروع ہوئی ہے جو 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس مہم کا مقصد بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنا ہے۔
اسی ہفتے پولیو ٹیموں کو دیگر علاقوں میں بھی نشانہ بنایا گیا۔ ٹانک میں چار پولیو کارکنوں کو اغوا کیا گیا جبکہ مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار فائرنگ میں شہید ہو گئے۔ ان واقعات نے جاری مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی حفاظت کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
بازیابی کی کوششیں جاری
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلیل خان کی بحفاظت بازیابی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تاحال نہ کسی گرفتاری کا اعلان ہوا ہے اور نہ ہی مغوی کی بازیابی کی خبر آئی ہے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے پر صورتحال واضح ہو گی۔
مزید قومی خبریں پڑھنے کے لیے وطن نیوز کا اردو صفحہ ملاحظہ کریں۔