اسلام آباد میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کر لی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دفاعی ڈویژن کی تین سمریوں پر غور کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے تقریباً 380 ارب روپے کی منظوریاں دی گئیں۔
اہم نکات
- اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس 4 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں وزارت خزانہ میں ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔
- اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی 11 سمریوں پر غور کیا گیا۔
- دفاعی خدمات کے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔
- لینیج ایل 1000 طیارے کی شمولیت کے لیے 1.094 ارب روپے کی گرانٹ منظور ہوئی۔
- منصوبہ استقلال کے لیے 29.139 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔
- مجموعی طور پر مختلف وزارتوں کے لیے تقریباً 380 ارب روپے کی منظوریاں دی گئیں، جن میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 275 ارب روپے شامل ہیں۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے دفاعی فیصلے
اجلاس میں دفاعی ڈویژن کی جانب سے تین الگ الگ سمریاں پیش کی گئیں، جن میں جاری دفاعی منصوبوں کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی درخواست کی گئی تھی۔ کمیٹی نے تینوں سمریوں کی منظوری دے دی۔ سب سے بڑی رقم، 54 ارب روپے، دفاعی خدمات کے مختلف جاری منصوبوں کے لیے مختص کی گئی ہے، تاکہ ان منصوبوں میں تعطل نہ آئے اور وہ مقررہ رفتار سے آگے بڑھ سکیں۔
کمیٹی کے فیصلوں میں دفاعی صلاحیت کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ منظوریاں بجٹ کے معمول کے طریقہ کار سے ہٹ کر تکنیکی ضمنی گرانٹ کی صورت میں دی گئی ہیں، جو عام طور پر اس وقت استعمال ہوتی ہے جب کسی جاری منصوبے کے لیے مالی سال کے دوران اضافی رقم درکار ہو۔
دفاعی منصوبوں کے لیے منظور شدہ رقوم کی تفصیل
دفاعی خدمات کے جاری منصوبوں کے لیے منظور شدہ 54 ارب روپے کے علاوہ، کمیٹی نے لینیج ایل 1000 طیارے کی شمولیت کے لیے 1.094 ارب روپے کی گرانٹ بھی منظور کی۔ اسی طرح منصوبہ استقلال کے لیے 29.139 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ یہ تینوں منظوریاں دفاعی ڈویژن کی درخواستوں پر دی گئی ہیں اور ان کا مقصد جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا ہے۔

دیگر شعبوں اور معیشت پر اثرات
دفاعی منظوریوں کے ساتھ ساتھ اجلاس میں دیگر شعبوں کے لیے بھی بڑی رقوم کی منظوری دی گئی۔ مجموعی منظوریوں کا حجم تقریباً 380 ارب روپے رہا، جس میں پانی کے بنیادی ڈھانچے اور جاری منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے 275 ارب روپے شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان منظوریوں سے جاری ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو رفتار ملے گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کابینہ کی اہم کمیٹی ہے جو مالی اور معاشی معاملات پر فیصلے کرتی ہے۔ اس اجلاس کے فیصلے آنے والے مہینوں میں مختلف وزارتوں کے منصوبوں کی تکمیل پر اثرانداز ہوں گے، جبکہ متعلقہ وزارتوں کو منظور شدہ رقوم کے استعمال کی تفصیلات بھی پیش کرنا ہوں گی۔
مزید قومی خبریں وطن نیوز پر پڑھیں۔