×
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری — فوٹو: ایکسپریس

اسلام آباد — پاک فوج کے ترجمان نے بدھ کو کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، اس کا مقصد اجتماعی دفاعی روک تھام ہے، اور اس میں کوئی علاقائی عزائم شامل نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی فریق پر حملہ ہو تو عملی ردعمل کا فیصلہ تینوں ممالک مل کر کریں گے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ باتیں 16 ستمبر 2026 کو العربیہ انگلش کے خصوصی انٹرویو میں کہیں، جن کی تفصیل دی نیوز انٹرنیشنل اور دی ایکسپریس ٹریبیون کی انگلش رپورٹس میں سامنے آئی۔

یہ سہ فریقی معاہدہ تقریباً 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں دستخط ہوا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم محمد بن سلمان، اور ترک صدر رجب طیب اردوغان موجود تھے۔ دفترِ خارجہ اور جیو نیوز نے اس وقت رپورٹ کیا تھا کہ معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا، اور اس میں وسیع تر دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی روک تھام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

جب پوچھا گیا کہ اگر کوئی شراکت دار حملے کا نشانہ بنے تو پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے کہا کہ دفاعی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی تفصیلات خفیہ ہیں اور عسکری خطاب میں علانیہ نہیں بتائی جاتیں۔ دی نیوز کے مطابق انھوں نے کہا: »یہ فیصلہ تینوں ممالک کا ہے؛ یہی جانیں گے اور یہی اسے عملی شکل دیں گے۔«

معاہدے کی نوعیت بیان کرتے ہوئے انھوں نے العربیہ انگلش سے کہا: »یہ دفاعی ہے، جیسا کہ لفظ سے ظاہر ہے۔ اس میں کوئی جارحیت نہیں۔ کوئی علاقائی عزائم نہیں۔ یہ اجتماعی دفاعی روک تھام ہے۔« ٹریبیون نے بھی رپورٹ کیا کہ معاہدے میں »نہ کوئی جارحانہ پہلو ہے، نہ مداخلت، نہ جارحانہ عنصر۔«

لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے اس انتظام کو تینوں ممالک کے دیگر تعلقات کا مقابل نہیں بلکہ تکمیلی قرار دیا۔ دی نیوز کے مطابق انھوں نے کہا: »یہ باہمی دفاعی معاہدہ تکمیلی نوعیت کا ہے۔ یہ ان ممالک کے دوسرے تعلقات سے مقابلہ نہیں کر رہا۔« ٹریبیون کی رپورٹ میں انھوں نے اسے دوسرے اتحادوں سے ہم آہنگ بتایا اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے تناظر میں بھی مکہ معاہدے کو حریف نہیں بلکہ تکمیلی قرار دیا۔

انھوں نے معاہدے کو »مسلم اتحاد« کا لیبل لگانے سے انکار کیا اور اسے علاقائی استحکام کا انتظام قرار دیا جو غیر جارحیت، غیر مداخلت اور اجتماعی دفاعی روک تھام والے رضامند شراکت داروں کے لیے کھلا ہے۔ ٹریبیون کے مطابق انھوں نے کہا: »یہ کوئی ایسا کلب نہیں جو صرف مسلم ممالک کے لیے بنایا گیا ہو۔« توسیع کا معاملہ تینوں ممالک کی قیادت پر چھوڑا۔

مکہ فریم ورک کے علاوہ دی نیوز نے رپورٹ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے پاک بھارت عسکری صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ دو جوہری ہمسائیوں کے درمیان فوجی تصادم »سوال ہی نہیں«، اور پاکستان »برابر کی بنیادوں پر امن« کا قائل ہے؛ البتہ جارحیت پر اسلام آباد اپنی سلامتی کا تحفظ کرے گا۔ العربیہ انٹرویو کے کچھ انگلش خلاصوں—بشمول ڈیلی قدرت انگلش—میں انھوں نے بھارت کے دفاعی اخراجات کا ذکر کیا اور دہرایا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ نکات ثانوی ہیں؛ مرکزی موضوع مکہ دفاعی معاہدہ ہی ہے۔

دفترِ خارجہ نے پہلے بھی مکہ معاہدے کو خالصتاً دفاعی اور کسی ملک کے خلاف نہیں قرار دیا تھا—جو بدھ کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے ہم آہنگ ہے۔

ذرائع: العربیہ انگلش انٹرویو (16 ستمبر 2026)، دی نیوز انٹرنیشنل، دی ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز (دستخط، 7 اگست 2026)؛ ڈیلی قدرت انگلش (ثانوی نکات)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

watannews321@gmail.com

Related Posts

امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل حملے
In

اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کا ’دوسرا مرحلہ‘ جاری

اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کا ’دوسرا مرحلہ‘ جاری ہو گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق پرنس حسن...

Read out all
ڈرونز کے خلاف دفاع

ڈرونز کے خلاف پاکستان ایئر فورس کا نیا دفاعی سسٹم

پاکستان ایئر فورس نے ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ایک نیا دفاعی سسٹم تیار کیا ہے۔ اس...

Read out all
ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گیمز

سرگودھا ڈویژن نے تیسری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گیمز کرکٹ چیمپئن شپ جیت لی

سرگودھا ڈویژن نے تیسری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) گیمز کرکٹ چیمپئن شپ جیت لی۔ پانچ روزہ یہ چیمپئن شپ سرگودھا میں منعقد...

Read out all
افغانستان میں تیل اور گیس کی تلاش

افغانستان میں تیل اور گیس کی تلاش: طالبان حکومت اور سعودی کمپنی کے درمیان معاہدہ

افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارتِ معدنیات و پیٹرولیم نے پیر کے روز کابل میں ’ڈیلٹا انٹرنیشنل‘ نامی سعودی کمپنی کے ساتھ...

Read out all
ڈرونز کے خلاف پاکستان کی چینی اور ترک سسٹم سے مدد

ڈرونز کے خلاف پاکستان کی چینی اور ترک سسٹم سے مدد

ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کے لیے فضائی دفاع کو مزید چیلنجنگ بنا دیا...

Read out all
پاسپورٹ کی Obtainance

پاسپورٹ کی Obtainance میں انقلاب: ڈیجیٹل سسٹم اور ای پاسپورٹ کی ابتداء

پاکستان میں پاسپورٹ کی Obtainance کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ حکومت نے پاسپورٹ کی Obtainance کو آسان، تیز...

Read out all