×

نیویارک میں قائم ایک اسٹارٹ اپ، اوریجن جینیومکس، نے جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بچوں کے معاملے پر بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ انسانی جنین میں بیماریوں کا سبب بننے والے جینز کو درست کرنے کے لیے ان کی ٹیکنالوجی کے فوائد خطرات سے زیادہ ہیں۔ تاہم، امریکہ میں جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بچے پیدا کرنا غیر قانونی ہے۔

اوریجن جینیومکس کا مشن

اوریجن جینیومکس کا مقصد انسانی جنین میں بیماریوں کا باعث بننے والے جینز کو درست کرنے کے لیے اپنی ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد کو اس کے خطرات پر ثابت کرنا ہے۔ کمپنی کی بانی اور سی ای او، کیتھی ٹائی، کا کہنا ہے کہ وہ ان انقلابی طریقوں سے آنے والی نسلوں کو جان لیوا جینیاتی بیماریوں سے بچانا چاہتی ہیں۔

  • کیتھی ٹائی، اوریجن جینیومکس کی سی ای او، کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کا مشن صحت مند، جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بچے پیدا کرنا ہے۔
  • یہ ٹیکنالوجی انسانی جنین میں بیماریوں کا سبب بننے والے جینز کو درست کرنے کے ممکنہ فوائد کو اجاگر کرتی ہے۔
  • امریکہ میں، جینیاتی طور پر ترمیم شدہ جنین سے بچے پیدا کرنا غیر قانونی ہے۔
  • تاہم، کیتھی ٹائی کا خیال ہے کہ اس قانون پر نظر ثانی کا وقت آ گیا ہے۔

جینیاتی بیماریوں کا بوجھ

دنیا بھر میں کروڑوں لوگ جان لیوا جینیاتی بیماریوں کا شکار ہیں۔ ان میں ہنٹنگٹن کی بیماری، سسٹک فائبروسس، اور ٹی-سیکس جیسی بیماریاں شامل ہیں۔ یہ بیماریاں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں اور خاندانوں کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔

  • ہنٹنگٹن کی بیماری، سسٹک فائبروسس، اور ٹی-سیکس جیسی بیماریاں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔
  • یہ بیماریاں اکثر خاندانوں میں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔
  • اوریجن جینیومکس ان بیماریوں کے علاج کے لیے جینیاتی ترمیم کا استعمال تجویز کر رہا ہے۔

لیبارٹری کا دورہ

اوریجن جینیومکس نے حال ہی میں این پی آر کے نمائندوں کو اپنی نیویارک کی لیبارٹریز کا خصوصی دورہ کروایا۔ کیتھی ٹائی نے انہیں کرائیوجینک اسٹوریج یونٹ دکھایا جہاں انسانی جنین کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ ان جنین کو ان جوڑوں نے عطیہ کیا تھا جن کے خاندان صدیوں سے جان لیوا جینیاتی عوارض کا شکار رہے ہیں۔

  1. لیبارٹری میں ایک کرائیوجینک اسٹوریج یونٹ موجود ہے جس میں مائع نائٹروجن بھرا ہوا ہے۔
  2. اس یونٹ میں انسانی جنین کو محفوظ کیا جاتا ہے۔
  3. ہر ٹیوب میں 10 جنین تک رکھے جا سکتے ہیں۔
  4. یہ جنین ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو جینیاتی بیماریوں سے متاثر ہیں۔

ٹیکنالوجی کا عمل

اوریجن جینیومکس کے سائنسدان جنین سے اسٹیم سیلز نکال کر کمپنی کے تجرباتی جین ایڈیٹرز کا تجربہ کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کون سے مالیکیولر ٹولز جینیاتی نقائص کو محفوظ طریقے سے درست کر سکتے ہیں، تاکہ مستقبل کی نسلیں اسی قسم کی بیماریوں کا شکار نہ ہوں۔

مصنوعی ذہانت کا کردار

کمپنی مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کیے گئے جین ایڈیٹرز کا استعمال دیگر قسم کے خلیات پر بھی کر رہی ہے جن میں بیماریوں کا سبب بننے والے نقائص موجود ہیں۔

  • اسٹیم سیلز نکال کر جین ایڈیٹرز کا تجربہ کیا جاتا ہے۔
  • مقصد جینیاتی نقائص کو محفوظ طریقے سے درست کرنا ہے۔
  • مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ ایڈیٹرز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

قانونی اور اخلاقی تحفظات

جینیاتی طور پر ترمیم شدہ جنین سے بچے پیدا کرنے کا خیال طویل عرصے سے اخلاقی اور حفاظتی خدشات کی وجہ سے تنازع کا شکار رہا ہے۔ امریکہ میں یہ عمل غیر قانونی ہے۔ تاہم، کیتھی ٹائی کا موقف ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے فوائد ان خدشات سے کہیں زیادہ ہیں۔

  • جینیاتی ترمیم کے اخلاقی اور حفاظتی خدشات موجود ہیں۔
  • امریکہ میں یہ عمل غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
  • کیتھی ٹائی کا دعویٰ ہے کہ فوائد خطرات سے زیادہ ہیں۔
  • وہ اس قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

عالمی تناظر

اگرچہ امریکہ میں یہ قانون سازی موجود ہے، لیکن دنیا کے دیگر حصوں میں جینیاتی ترمیم کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ اوریجن جینیومکس جیسی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں، خاص طور پر ان بیماریوں کے خاتمے کے لیے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔

نتیجہ

اوریجن جینیومکس کی جانب سے جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بچوں کے معاملے پر قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ ایک پیچیدہ اور حساس موضوع ہے۔ ایک طرف، یہ ٹیکنالوجی جان لیوا جینیاتی بیماریوں کے خاتمے کی امید دلاتی ہے، جو لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف، اس کے طویل مدتی اثرات اور اخلاقی پہلوؤں پر گہری تحقیق اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔

اس ٹیکنالوجی کو اپنانے سے پہلے، معاشرے کو اس کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا مکمل جائزہ لینا ہوگا۔ بین الاقوامی سطح پر اس بارے میں اتفاق رائے قائم کرنا اور سخت حفاظتی ضوابط وضع کرنا بھی ضروری ہوگا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کا استعمال انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا جینیاتی طور پر ترمیم شدہ بچے پیدا کرنا قانونی ہے؟

امریکہ میں، فی الحال جینیاتی طور پر ترمیم شدہ جنین سے بچے پیدا کرنا غیر قانونی ہے۔

اوریجن جینیومکس کا مقصد کیا ہے؟

اوریجن جینیومکس کا مقصد انسانی جنین میں بیماریوں کا سبب بننے والے جینز کو درست کرنے کے لیے اپنی ٹیکنالوجی کے فوائد کو ثابت کرنا ہے۔

جینیاتی ترمیم سے کون سی بیماریاں ختم کی جا سکتی ہیں؟

اس ٹیکنالوجی سے ہنٹنگٹن کی بیماری، سسٹک فائبروسس، اور ٹی-سیکس جیسی جان لیوا جینیاتی بیماریوں کے خاتمے کی امید ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ساتھ کیا خدشات وابستہ ہیں؟

اس ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاقی اور حفاظتی خدشات وابستہ ہیں، جن میں طویل مدتی اثرات اور غیر متوقع نتائج شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanjaved13132@gmail.com

Related Posts

آسٹریا جاز گروپ کی کراچی میں اسٹیج پر پرفارمنس — خاتون ٹرامپیٹر اور گٹارسٹ سامعین کے سامنے

عالمی ثقافتی میلے میں آسٹریا کا جاز گروپ، اے سی پی کی میزبانی

آسٹریا کے معروف جاز جوڒے میکائیلا رابتش اور رابرٹ پاولک نے آرٹس کونسل کراچی میں شاندار پرفارمنس دی۔ ورلڌ کلچر فیسٹیول کراچی...

Read out all
Plastic bottles being returned at a reverse vending machine — UN counts plastic bottles by the minute

اقوامِ متحدہ بوتلیں منٹ میں گنتی ہے، سال میں نہیں

یو این ای پی: ہر منٹ اندازاً 1 ملین پلاسٹک بوتلیں۔ نہ سال کا کل، نہ دن کا، نہ بوتلوں کے کچرے...

Read out all
پرتگال کی قمیض میں کرسٹیانو رونالڈو

ڈنمارک بمقابلہ پرتگال: رونالڈو کی تازہ ترین صورتحال

کرسٹیانو رونالڈو نے ڈنمارک کے خلاف نیشنز لیگ میچ سے ایک روز قبل پرتگال کا کیمپ چھوڑ دیا، جب ہیڈ کوچ جورج...

Read out all
Delegates registering conference badges for COP31 delegate registration

حکومتیں COP31 کے نمائندے اقوامِ متحدہ کے آن لائن نظام میں رجسٹر کراتی ہیں

COP31 کی رجسٹریشن ORS میں کھلی ہے، فریقوں، مبصر ریاستوں، اقوامِ متحدہ کے اداروں، IGOs اور NGOs کے لیے۔

Read out all
Journalists registering press badges for COP31 press accreditation

نیوز روم COP31 کا پریس بیج ایک فوکل پوائنٹ کے ذریعے لیتے ہیں

COP31 کی پریس ایکریڈیشن پہلے ORS، پھر ہر نیوز روم کا ایک Indico فوکل پوائنٹ، آخری تاریخ 16 اکتوبر 2026۔

Read out all
A materials recovery facility separates waste on conveyor belts in New York City

پلاسٹک معاہدہ: حکومتوں نے مینڈیٹ مانے، متن نہیں

مارچ 2022 میں پابند پلاسٹک معاہدے کے مذاکرے طے ہوئے۔ 7 فروری 2026 کے اجلاس میں متن پر بات نہیں ہوئی۔

Read out all