- 0
- 5 words
لندن: برطانیہ اور فرانس کے درمیان برطانیہ فرانس تارکین وطن معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔ بدھ، 30 ستمبر 2026 کو برطانوی ہوم آفس نے اعلان کیا کہ «ون ان ون آؤٹ» کے نام سے مشہور یہ پائلٹ معاہدہ نئے کیسز پر مزید کارروائی نہیں کرے گا۔ اس معاہدے کا مقصد انگلش چینل میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے تارکین وطن کی تعداد کم کرنا اور انسانی سمگلروں کے کاروبار کو توڑنا تھا۔
اہم نکات (FAKTA)
- اعلان: برطانوی ہوم آفس کے مطابق برطانیہ فرانس تارکین وطن معاہدہ «نئے کیسز پر کارروائی نہیں کر رہا»؛ معاہدہ یکم اکتوبر 2026 کو ختم ہو رہا ہے
- طریقہ کار: چھوٹی کشتیوں سے آنے والے بعض تارکین وطن کو فرانس واپس بھیجا جاتا، بدلے میں فرانس سے اتنے ہی افراد جن کے پناہ کے جائز دعوے ہوتے
- اعداد: معاہدے کے آغاز سے اب تک 1,500 سے زائد افراد فرانس واپس بھیجے گئے اور 1,500 سے کچھ کم افراد برطانیہ منتقل ہوئے
- لاگت: ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کے مطابق ہر فرد کی واپسی پر اوسطاً تقریباً 56,000 پاؤنڈ خرچ آیا
- وجہ: برطانیہ کے مطابق معاہدہ «مطلوبہ پیمانے تک نہیں پہنچا»؛ فرانس نے توسیع سے انکار کر دیا
- آگے: پہلے سے حراست میں لیے گئے افراد کی پروازیں آنے والے ہفتوں میں جاری رہیں گی؛ نیا «اسمال بوٹس ریٹرنز ٹاسک فورس» قائم
معاہدہ کیسے کام کرتا تھا؟
یہ معاہدہ جولائی 2025 میں اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان طے پایا تھا، اور پہلی پروازیں ستمبر 2025 میں شروع ہوئیں۔ اس کے تحت انگلش چینل عبور کر کے آنے والے تارکین وطن کو حراست میں لے کر فرانس واپس بھیجا جا سکتا تھا، جبکہ بدلے میں فرانس سے برطانیہ اتنے ہی پناہ گزین قبول کرتا جن کے دعوے جائز سمجھے جاتے اور جنہوں نے پہلے چینل عبور کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ اس پورے منصوبے کی بنیاد یہ خیال تھا کہ خطرناک سمندری سفر کا «کاروباری ماڈل» ختم کر کے انسانی سمگلروں کو نقصان پہنچایا جائے۔

برطانیہ فرانس تارکین وطن معاہدہ کیوں ختم ہوا؟
ہوم آفس کے ترجمان کے مطابق حکومت چاہتی تھی کہ یہ معاہدہ جاری رہے، مگر اسے «مطلوبہ پیمانے» تک نہیں پہنچایا جا سکا۔ سرکاری اعداد کے مطابق ایک سال میں صرف ڈیڑھ ہزار کے قریب افراد کی واپسی ہوئی، جبکہ رواں سال اب تک 18,600 سے زائد افراد چھوٹی کشتیوں میں چینل عبور کر چکے ہیں۔ ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے اس ماہ انکشاف کیا کہ ہر واپسی پر اوسطاً تقریباً 56,000 پاؤنڈ لاگت آئی اور معاہدے کو بڑے پیمانے پر بڑھانا «مشکل» رہا کیونکہ فرانس ہر ہفتے بڑی تعداد میں افراد کو واپس نہیں لے سکتا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ پائلٹ سے حاصل شدہ «سبق» کو استعمال کرتے ہوئے بغیر رہائشی حق کے آنے والے افراد کی واپسی کی رفتار بڑھائی جائے گی۔
فرانس کا موقف
فرانسیسی وزارت داخلہ نے بتایا کہ وہ «برطانوی حکام کے ساتھ معاہدے سے نکلنے کی شرائط پر بات کر رہی ہے»۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لارنٹ نونز نے جون میں ہی واضح کر دیا تھا کہ فرانس «اکیلا یہ بوجھ نہیں اٹھائے گا» اور وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کا کوئی بندوبست برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان وسیع تر معاہدے کا حصہ ہو۔ ان کے مطابق اگست 2025 میں دستخط ہونے والے اس پائلٹ معاہدے کو یکم اکتوبر 2026 سے آگے بڑھانے کا ارادہ کبھی نہیں تھا۔ اطلاعات کے مطابق صدر میکرون نے بھی برطانوی حکام پر واضح کر دیا تھا کہ معاہدہ ختم ہو رہا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟
معاہدہ ختم ہونے کے باوجود جن افراد کو پہلے سے حراست میں لیا جا چکا ہے، انہیں آنے والے ہفتوں میں پروازوں کے ذریعے فرانس واپس بھیجا جاتا رہے گا۔ ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے ایک نیا «اسمال بوٹس ریٹرنز ٹاسک فورس» قائم کیا ہے جو موجودہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر آنے والے افراد کی واپسی تیز کرے گا، اور البانیہ جیسے ان ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا جو واپسی میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ہوم آفس کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کراسنگ کی تعداد میں «نمایاں کمی» آئی ہے اور اس موسم گرما میں چھ سال میں سب سے کم کراسنگ ریکارڈ ہوئی۔ ادھر اپوزیشن کی شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے معاہدے کے خاتمے کو «لیبر حکومت کے لیے سرحدی ذلت» قرار دیا ہے۔
نتیجہ
برطانیہ فرانس تارکین وطن معاہدے کا خاتمہ ظاہر کرتا ہے کہ دو ممالک کے درمیان محدود پیمانے کا بندوبست انگلش چینل کے بحران جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل نہیں بن سکا۔ زیادہ لاگت، کم تعداد اور فرانس کی یورپی سطح کے معاہدے کی شرط نے اس پائلٹ کو ناکام بنا دیا۔ اب دونوں ممالک کو انسانی سمگلنگ کے خلاف نئے اور زیادہ مؤثر اقدامات پر غور کرنا ہوگا۔ اسی خبر کا اردو ورژن ہماری مرکزی ویب سائٹ Watan News کی مرکزی ڈومین پر بھی دستیاب ہے، جبکہ بین الاقوامی کوریج The Times پر پڑھی جا سکتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
معاہدہ کیوں ختم کیا گیا؟
برطانیہ کے مطابق معاہدہ «مطلوبہ پیمانے تک نہیں پہنچا» — ایک سال میں صرف تقریباً 1,500 افراد کی واپسی ہوئی — جبکہ فرانس نے اس کی توسیع سے انکار کر دیا اور یورپی یونین کی سطح پر وسیع تر معاہدہ چاہتا ہے۔
«ون ان ون آؤٹ» کا کیا مطلب تھا؟
اس کا مطلب تھا کہ چھوٹی کشتیوں سے آنے والے بعض تارکین وطن کو فرانس واپس بھیجا جاتا، اور بدلے میں برطانیہ فرانس سے اتنے ہی ایسے افراد قبول کرتا جن کے پناہ کے دعوے جائز ہوتے اور جنہوں نے پہلے چینل عبور کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔
پہلے سے حراست میں لیے گئے تارکین وطن کا کیا ہوگا؟
ہوم آفس کے مطابق ان کی پروازیں آنے والے ہفتوں میں جاری رہیں گی تاکہ پہلے سے حراست میں لیے گئے افراد کو تیزی سے فرانس واپس بھیجا جا سکے۔
معاہدے پر کتنی لاگت آئی؟
ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کے مطابق ہر فرد کی واپسی پر اوسطاً تقریباً 56,000 پاؤنڈ خرچ آیا، جو اس کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بتائی جا رہی ہے۔
اب برطانیہ کا اگلا قدم کیا ہے؟
ہوم سیکرٹری نے نیا «اسمال بوٹس ریٹرنز ٹاسک فورس» قائم کیا ہے جو واپسی کی کارروائیاں تیز کرے گا، اور فرانس کے ساتھ چھوٹی کشتیوں کی کراسنگ روکنے پر تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔