- 0
- 2 words
کیلیفورنیا میں ایک نیا قانون نافذ کیا گیا ہے جو کم عمری کی شادی پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں والدین کی رضامندی یا عدالتی اجازت کی کوئی استثنائی صورت نہیں۔ یہ اقدام دنیا بھر میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
کیلیفورنیا میں قانون سازی کی تفصیلات
کیلیفورنیا کے گورنر نے بل AB 1267 پر دستخط کیے ہیں، جس نے ریاست میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے قبل، کیلیفورنیا میں والدین کی رضامندی اور عدالتی منظوری کے ساتھ نابالغوں کو شادی کی اجازت تھی۔ اس نئے قانون نے ان تمام استثنائی شقوں کو ختم کر دیا ہے، اور اب نابالغوں کے لیے گھریلو شراکت داری کے معاہدوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
- 30 ستمبر کو گورنر گیون نیوزوم نے بل AB 1267 پر دستخط کیے۔
- قانون کے تحت شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔
- والدین کی رضامندی یا عدالتی اجازت کی کوئی استثنائی صورت نہیں۔
- نابالغوں کے لیے گھریلو شراکت داری کے معاہدوں پر بھی پابندی۔
دہائیوں کی جدوجہد کا نتیجہ
یہ قانون ‘انچینڈ ایٹ لاسٹ’ اور ‘کیلیفورنیا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن اینڈ گرلز’ کی جانب سے تقریباً ایک دہائی سے جاری مہم کا نتیجہ ہے۔ اس مہم میں ان افراد نے اہم کردار ادا کیا جو خود کم عمری کی شادی کا شکار ہو چکے تھے۔ اسمبلی ممبر گیل پیلرین نے اس بل کو پیش کیا اور اس کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
- کم عمری کی شادی کے خلاف مہم کا آغاز تقریباً دس سال قبل ہوا۔
- متاثرہ افراد اور وکالت گروپوں نے قانون سازی کے لیے جدوجہد کی۔
- اسمبلی ممبر گیل پیلرین نے بل پیش کیا اور اسے منظور کرایا۔
- کیلیفورنیا اب 18ویں ریاست ہے جس نے بلا استثنا کم عمری کی شادی پر پابندی عائد کی ہے۔
متاثرین کی آوازیں اور ان کی اہمیت
قانون کی منظوری کے موقع پر، گورنر نیوزوم نے کم عمری کی شادی سے بچنے والے افراد کی آوازوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کورٹنی اسٹوڈن کا ذکر کیا، جو 16 سال کی عمر میں 50 سالہ اداکار ڈوگ ہچیسن سے شادی کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور اب وہ اس مسئلے پر سرگرم کارکن ہیں۔
عدالتی نظام اور قانونی مدد کی مشکلات
پیلیرین نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرین کی کہانیاں اس کوشش کا مرکز رہی ہیں۔ انہوں نے ان مشکلات کو بیان کیا جن کا سامنا نابالغوں کو قانونی مدد حاصل کرنے، گھر چھوڑنے یا ان بالغوں سے بچنے میں ہوتا ہے جو ان کی شادی کا باعث بنتے ہیں۔
- نابالغوں کو قانونی مدد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
- گھر چھوڑنا یا استحصال کرنے والے بالغوں سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔
- قانون سازی کا مقصد کیلیفورنیا کے بچوں کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
عالمی سطح پر کم عمری کی شادی کا مسئلہ
کم عمری کی شادی، جس میں شادی کے وقت فریقین میں سے ایک کی عمر 18 سال سے کم ہو، ایک عالمی تشویش کا باعث ہے۔ اقوام متحدہ اسے ‘انسانی حقوق کی خلاف ورزی’ قرار دیتا ہے اور اس کے سنگین نتائج بیان کرتا ہے۔
- عالمی سطح پر ہر سال 12 ملین لڑکیاں کم عمری میں بیاہی جاتی ہیں۔
- اس کے نتیجے میں قبل از وقت حمل، سماجی تنہائی، اور تعلیم کا تعطل ہوتا ہے۔
- خواتین کیرئیر اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں۔
- کم عمری کی شادی گھریلو تشدد کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اہداف اور عالمی اقدامات
اقوام متحدہ کا ہدف 2030 تک کم عمری کی شادی کا خاتمہ ہے۔ 2021 سے، سیرالیون، انگلینڈ، فلپائن اور ڈومینیکن ریپبلک جیسے ممالک نے شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانون سازی کی ہے۔
- 2030 تک کم عمری کی شادی کے خاتمے کا عالمی ہدف۔
- متعدد ممالک نے شادی کی عمر 18 سال مقرر کی۔
- امریکہ میں قومی سطح پر قانون سازی کی کوششیں جاری ہیں۔
- تاہم، قانون سازی ہمیشہ مؤثر حل ثابت نہیں ہوتی۔
عالمی صورتحال اور چیلنجز
بھارت میں 18 سال سے کم عمر کی شادی غیر قانونی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ عمل جاری ہے۔ اس کی وجوہات میں سماجی روایات، غربت اور قوانین کے نفاذ میں کمزوری شامل ہیں۔
مرد بچوں کی شادی کے مسائل
اقوام متحدہ کے مطابق، کم عمری میں بیاہے جانے والے لڑکے بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں ایسے بالغانہ کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جس کے لیے وہ تیار نہیں ہوتے۔
- لڑکوں پر اسکول چھوڑ کر خاندان کی کفالت کا دباؤ ہوتا ہے۔
- وہ غیر ضروری طور پر بالغانہ ذمہ داریاں نبھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
نتیجہ
کیلیفورنیا میں کم عمری کی شادی پر پابندی ایک اہم قانونی پیش رفت ہے جو دنیا بھر میں ایسے قوانین کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر اس مسئلے کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں، لیکن سماجی، اقتصادی اور ثقافتی عوامل اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ قانون سازی کے ساتھ ساتھ تعلیم، آگاہی اور متاثرین کی مدد کے پروگراموں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ اس انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مقامی سطح پر مضبوط نفاذ کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے 2030 کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے تمام ممالک کو اپنی کوششیں تیز کرنی ہوں گی اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر بچے کو محفوظ اور صحت مند بچپن گزارنے کا حق ملے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیلیفورنیا میں شادی کی نئی کم از کم عمر کیا ہے؟
کیلیفورنیا میں اب شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں کوئی استثنائی صورت نہیں۔
کیا کیلیفورنیا میں والدین کی رضامندی سے نابالغ شادی کر سکتے ہیں؟
نہیں، نئے قانون کے تحت والدین کی رضامندی یا عدالتی اجازت کی بنیاد پر نابالغوں کو شادی کی اجازت نہیں ہوگی۔
کم عمری کی شادی کو عالمی سطح پر کب تک ختم کرنے کا ہدف ہے؟
اقوام متحدہ کا ہدف 2030 تک کم عمری کی شادی کا خاتمہ ہے۔
کیا کم عمری کی شادی صرف لڑکیوں کو متاثر کرتی ہے؟
نہیں، کم عمری کی شادی لڑکوں کو بھی متاثر کرتی ہے، جنہیں غیر ضروری طور پر بالغانہ ذمہ داریاں نبھانا پڑتی ہیں۔
کیلیفورنیا میں اس قانون کی منظوری میں کس نے اہم کردار ادا کیا؟
‘انچینڈ ایٹ لاسٹ’ اور ‘کیلیفورنیا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن اینڈ گرلز’ جیسی تنظیموں اور کم عمری کی شادی سے بچنے والے افراد نے اس قانون کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔