- 0
- 2 words
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چھ سے زائد ممالک نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں، اور خطے کے مزید ممالک کے لیے کھلا ہے۔
FAKTA
- اسحاق ڈار کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس (جمعہ، 2 اکتوبر 2026): چھ سے زائد ممالک معاہدے میں شمولیت کے خواہشمند۔
- معاہدے پر 7 اگست 2026 کو مکہ میں دستخط ہوئے — پاکستان، سعودی عرب اور ترکی؛ کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا (نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر)۔
- پہلا اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی اجلاس 31 اگست 2026 کو استنبول میں ہوا؛ سیکرٹریٹ ریاض میں قائم ہوگا اور پہلے سیکرٹری جنرل پاکستان سے ہوں گے — لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی تقرری 23 ستمبر کو ہوئی۔
- ڈار کے مطابق سعودی عرب کو حالیہ عرصے میں 17 سے 18 حملوں کا سامنا کرنا پڑا؛ ان کے مطابق آئندہ ہفتے معاہدے کے تحت ہنگامی مشاورتی اجلاس متوقع ہے۔
- آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کوئی فیس یا سروس چارج نہیں ہونا چاہیے — یہ پاکستان کا مؤقف ہے۔
- پاک-افغان سرحد اکتوبر 2025 سے بند ہے؛ تجارت اور خراب ہونے والی زرعی اجناس کو شدید نقصان — کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: پس منظر اور دفاعی نوعیت
یہ معاہدہ 7 اگست 2026 کو مکہ میں طے پایا تھا، جس پر وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔ اس کی مرکزی شق کے تحت تینوں میں سے کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا — یہ نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ اجتماعی دفاعی انتظام ہے۔
ڈار نے زور دیا کہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی و اجتماعی دفاع کے حق سے ہم آہنگ ہے اور موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدوں کی جگہ نہیں لے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی پہلے واضح کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی مقاصد کے لیے ہے، جارحیت کے لیے نہیں۔
ادارہ جاتی ڈھانچہ: استنبول اجلاس اور ریاض سیکرٹریٹ
معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے پہلا اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی اجلاس 31 اگست 2026 کو استنبول میں ہوا، جس میں ریاض میں سیکرٹریٹ کے قیام پر اتفاق ہوا۔ پہلے تین سال کے لیے سیکرٹری جنرل پاکستان سے ہوگا، اور 23 ستمبر کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔
ستمبر کے آخر میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں ملاقات کر کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک کے چیفس آف اسٹاف کا ہنگامی اجلاس بھی زیر غور ہے تاکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر بات ہو سکے۔
توسیع میں دلچسپی: چھ سے زائد ممالک
ڈار کے مطابق چھ سے زائد ممالک نے معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اور یہ معاہدہ خطے کے کسی بھی ایسے ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرے اور اختلافات پرامن طریقے سے حل کرے۔ ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان پہلے عندیہ دے چکے ہیں کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ 57 رکنی تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) اس معاہدے کو سراہ چکی ہے۔
جیسا کہ ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ نے رپورٹ کیا، ڈار پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا واحد مقصد خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے وطن نیوز پر دنیا بھر کی خبریں دیکھیں۔
سعودی عرب پر حملے اور ہنگامی مشاورت
ڈار نے بتایا کہ سعودی عرب کو حالیہ عرصے میں 17 سے 18 حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں یمن کے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں — طائف اور ینبع کی سمت داغے گئے بیلسٹک میزائل روکے گئے، جبکہ مکہ، جدہ اور تبوک کے لیے وارننگز جاری کی گئیں۔ ان کے مطابق آئندہ ہفتے معاہدے کے تحت ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ سعودی عرب کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
تینوں ممالک کے عسکری سربراہان پہلے ہی ریاض میں ملاقات کر کے سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لے چکے ہیں اور مکہ سمیت شہری و معاشی انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

آبنائے ہرمز پر پاکستان کا مؤقف
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ڈار نے کہا کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے گزرنے پر کوئی فیس یا سروس چارج عائد نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر کی جانب سے آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر 20 فیصد ٹرانزٹ فیس کی تجویز سامنے آئی تھی، جسے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے طنزیہ مسترد کیا تھا۔
ڈار نے بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو کسی نہ کسی طرح حل کرنا چاہتے ہیں، اور تمام فریق اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کر رہے ہیں۔
افغانستان: سرحدی بندش اور تحفظات
افغانستان کے بارے میں ڈار نے کہا کہ پاکستان کے اس ملک کے لیے نیک خواہشات ہیں، لیکن کابل کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو — انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور بھارت نواز پراکسیوں (“فتنہ الہند”) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔
انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 سے افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہے، جس سے تجارت اور خراب ہونے والی زرعی اجناس کو شدید نقصان پہنچا ہے — ہزاروں کنٹینرز پھنسے اور سبزیوں و پھلوں کی کھیپیں خراب ہوئیں۔
نتیجہ
اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنا کر پیش کیا: ایک خالصتاً دفاعی انتظام جو توسیع کے لیے کھلا ہے، سعودی عرب کے تحفظ کے لیے فعال مشاورت کر رہا ہے، اور آبنائے ہرمز جیسے عالمی تجارتی راستوں پر کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے۔ چھ سے زائد ممالک کی دلچسپی اگر عملی شمولیت میں بدلی تو یہ معاہدہ خطے کے سلامتی ڈھانچے کی نئی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ میں طے پانے والا اجتماعی دفاعی معاہدہ ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔
کیا یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف ہے؟
پاکستان کے مطابق نہیں — یہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کے حق سے ہم آہنگ ہے۔
معاہدے کا سیکرٹریٹ کہاں ہوگا اور پہلا سیکرٹری جنرل کون ہے؟
سیکرٹریٹ ریاض، سعودی عرب میں قائم ہوگا۔ پہلے سیکرٹری جنرل کے طور پر پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو 23 ستمبر 2026 کو مقرر کیا گیا۔
کتنے ممالک معاہدے میں شامل ہونا چاہتے ہیں؟
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے مطابق چھ سے زائد ممالک نے شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے؛ ترک وزیر خارجہ کے مطابق اگلے مرحلے میں مصر بھی شامل ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر پاکستان کا کیا مؤقف ہے؟
پاکستان کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کوئی فیس یا سروس چارج عائد نہیں ہونا چاہیے۔