- 0
- 1 word
اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 3.56 ارب ڈالر رہا — ماہ بہ ماہ 7.99 فیصد اور سال بہ سال 6.15 فیصد اضافہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی مہینے برآمدات میں نمایاں بہتری بھی آئی: برآمدات 2.94 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو اگست کے مقابلے میں 16.07 فیصد اور گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں 17.61 فیصد زیادہ ہیں۔ پھر خسارہ کیوں نہ گھٹا؟ جواب درآمدات کی تیز رفتار میں چھپا ہے۔
FAKTA
- ستمبر 2026 کا تجارتی خسارہ: 3.56 ارب ڈالر (+7.99% ماہانہ، +6.15% سالانہ)
- ستمبر کی برآمدات: 2.94 ارب ڈالر (+16.07% ماہانہ، +17.61% سالانہ)
- ستمبر کی درآمدات: 6.49 ارب ڈالر (+11.5% ماہانہ، +11.05% سالانہ)
- پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر، مالی سال 27): خسارہ 10.79 ارب ڈالر (+15.13% سالانہ)
- ذرائع: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے عبوری اعداد و شمار
اعداد کیا کہتے ہیں
ستمبر میں برآمدات میں تقریباً 40 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، مگر درآمدات میں تقریباً 67 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو گیا — یعنی درآمدات کی مطلق نمو برآمدات کی نمو سے کہیں زیادہ رہی۔ نتیجہ یہ کہ تجارتی خلا اگست کے مقابلے میں 26 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مزید وسیع ہو گیا۔
| اشارہ | اگست 2026 | ستمبر 2026 | سالانہ تبدیلی |
|---|---|---|---|
| برآمدات | 2.53 ارب ڈالر | 2.94 ارب ڈالر | +17.61% |
| درآمدات | 5.82 ارب ڈالر | 6.49 ارب ڈالر | +11.05% |
| تجارتی خسارہ | 3.29 ارب ڈالر | 3.56 ارب ڈالر | +6.15% |
| درآمدی بل کی برآمداتی کوریج | ~43% | ~45% | بہتری مگر ناکافی |
روپے میں بات کریں تو ستمبر کی برآمدات 815.1 ارب روپے اور درآمدات 1.80 کھرب روپے رہیں، یوں ماہانہ خسارہ تقریباً 988.4 ارب روپے بنا۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا مجموعی خسارہ 10.79 ارب ڈالر (3 کھرب روپے سے زائد) تک پہنچ گیا، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے 9.37 ارب ڈالر سے 15.13 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے میں درآمدات 13.21 فیصد بڑھ کر 19.22 ارب ڈالر ہوئیں جبکہ برآمدات 10.84 فیصد اضافے کے ساتھ 8.42 ارب ڈالر رہیں — اور برآمدات کی درآمدی کوریج 45 فیصد سے گھٹ کر تقریباً 44 فیصد رہ گئی۔

درآمدات کی رفتار کیوں تیز ہے؟
یہ سوال محض اعداد کا نہیں، ڈھانچے کا ہے۔ درآمدات کا ایک بڑا حصہ توانائی اور خام مال پر مشتمل ہے — ایسی اشیا جن کی مانگ معاشی سرگرمی کے ساتھ بڑھتی ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں: مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں خلیج کے ساتھ تجارتی خسارہ 3.45 ارب ڈالر رہا، اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات مجموعی طور پر علاقے سے توانائی کی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ یعنی تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست پاکستان کے تجارتی توازن پر اثر ڈالتا ہے۔
وزارت خزانہ کی ستمبر کی “اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک” رپورٹ میں بھی بیرونی شعبے کا بنیادی خطرہ بلند عالمی تیل قیمتوں کو قرار دیا گیا ہے، جو لاگت بڑھاتی ہیں، قوت خرید کمزور کرتی ہیں اور درآمدی بل بڑھاتی ہیں۔
سہارے کہاں سے مل رہے ہیں؟
اچھی خبر یہ ہے کہ بیرونی کھاتے کا دباؤ صرف تجارت سے نہیں ماپا جاتا۔ اسی رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ برس کے 85 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 54 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گیا — اس کی بڑی وجہ ترسیلات زر میں 14.7 فیصد اضافہ ہے۔ یعنی بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم تجارتی خلا کا ایک حصہ پورا کر رہی ہیں۔
دوسری طرف حکومت بیرونی مالی معاونت کے نئے راستے بھی تلاش کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 17 ستمبر کو کہا کہ چین کے ساتھ 30 ارب یوآن کی کرنسی سویپ لائن مکمل طور پر استعمال ہو چکی ہے اور 2027 میں اس کی تجدید کے وقت اس میں توسیع کی درخواست کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی مجوزہ ایکسچینج استحکام سہولت پر دو ماہ میں جواب کی توقع ہے، اور امریکی ایکزم بینک و ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن سے بھی بات چیت جاری ہے۔

اصل مسئلہ ڈھانچہ ہے، صرف اعداد نہیں
ستمبر کے اعداد ایک متضاد تصویر پیش کرتے ہیں: برآمدات کی شرح نمو درآمدات سے زیادہ ہے (17.61 فیصد بمقابلہ 11.05 فیصد سالانہ)، مگر مطلق ڈالر میں درآمدات کا اضافہ برآمدات کے اضافے سے کہیں بڑا ہے۔ یہی وہ ریاضی ہے جو خسارہ بڑھاتی ہے — جب آپ کا درآمدی بل آپ کی برآمدات سے دگنا ہو، تو یکساں شرح نمو بھی خلا کو وسیع کرتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ برآمدات کی کارکردگی ناکام ہے؛ 2.94 ارب ڈالر کی ماہانہ برآمدات ایک مضبوط اشارہ ہے۔ مگر جب تک برآمدات درآمدی بل کا صرف 45 فیصد پورا کریں گی، ہر مہینہ بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار رہے گا۔ مستقل حل درآمدات کو دبانے میں نہیں — توانائی اور خام مال کی درآمد تو پیداوار کے لیے ضروری ہے — بلکہ برآمدات کی بنیاد وسیع کرنے میں ہے: نئی منڈیاں، زیادہ قیمت والی مصنوعات، اور وہ شعبے جو ڈالر کمائیں نہ کہ خرچ کریں۔
نتیجہ
ستمبر 2026 کے اعداد و شمار پاکستان کی معیشت کی ایک پرانی کہانی دہراتے ہیں: محنت رنگ لا رہی ہے، مگر دوڑ ابھی برابر کی نہیں۔ برآمدات بڑھ رہی ہیں — یہ کامیابی ہے۔ مگر درآمدات تیز تر بڑھ رہی ہیں — یہ چیلنج ہے۔ اس خلا کو پاٹنے کے لیے ترسیلات زر اور بیرونی قرضے عارضی سہارے تو دے سکتے ہیں، مگر پائیدار جواب ایک ہی ہے: برآمدات کو اس رفتار سے بڑھانا کہ وہ درآمدی بل کا پیچھا نہیں، اس سے آگے نکلیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ کتنا تھا؟
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے عبوری اعداد کے مطابق ستمبر 2026 میں تجارتی خسارہ 3.56 ارب ڈالر رہا، جو ماہ بہ ماہ 7.99 فیصد اور سال بہ سال 6.15 فیصد زیادہ ہے۔
برآمدات بڑھنے کے باوجود خسارہ کیوں بڑھا؟
برآمدات میں تقریباً 40 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں تقریباً 67 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا — مطلق ڈالر میں درآمدات کی نمو برآمدات سے زیادہ رہی، اس لیے خلا وسیع ہوا۔
مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی صورتحال کیا ہے؟
جولائی تا ستمبر (مالی سال 27) میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ برس کی اسی مدت سے 15.13 فیصد زیادہ ہے۔ درآمدات 19.22 ارب اور برآمدات 8.42 ارب ڈالر رہیں۔
کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال کیسی ہے؟
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 85 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 54 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گیا، جس کی بڑی وجہ ترسیلات زر میں 14.7 فیصد اضافہ ہے۔