- 0
- 1 word
قراقرم کی کھڑی چٹانوں پر ایک ایسا جانور رہتا ہے جس کے سینگ فطرت کے سب سے حیران کن ڈیزائنوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مارخور — پاکستان کا قومی جانور — ایک نایاب پہاڑی بکرا ہے جو صرف دنیا کے چند بلند پہاڑی سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔
FAKTA: مارخور
- پہچان: لمبے مڑے ہوئے سینگ، نر کے سینگ 1.5 میٹر تک
- مسکن: چترال، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے پہاڑ
- حیثیت: پاکستان کا قومی جانور؛ اقوام متحدہ کا عالمی مارخور دن 24 مئی
- خوراک: گھاس، پتے اور جھاڑیاں — بہترین چٹان چڑھنے والا
چٹانوں کا بادشاہ

مارخور کے سینگ کارک اسکرو کی طرح مڑے ہوتے ہیں — نر میں یہ ڈیڑھ میٹر تک لمبے ہو سکتے ہیں۔ یہ جانور تقریباً عمودی چٹانوں پر حیران کن مہارت سے چڑھتا ہے، جہاں شکاری اس کا پیچھا نہیں کر سکتے۔ صبح کی سنہری روشنی میں اس کا نظارہ جنگلی حیات کے فوٹوگرافروں کا خواب ہوتا ہے۔
ریوڑ کی زندگی

مارخور عام طور پر چھوٹے ریوڑوں میں رہتے ہیں۔ سردیوں میں یہ نیچے وادیوں کی طرف آتے ہیں، اور گرمیوں میں اونچی چراگاہوں پر چلے جاتے ہیں۔ چترال گول نیشنل پارک ان کے تحفظ کا سب سے مشہور مرکز ہے، جہاں محتاط نگرانی میں ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
غروب آفتاب کی چوٹی پر

شام کے وقت جب وادیوں پر سایہ پڑتا ہے تو مارخور اونچی چوٹیوں پر نظر آتے ہیں۔ تحفظ کی کوششوں — بشمول مقامی کمیونٹی کے پروگراموں — نے اس نایاب جانور کو معدومیت کے خطرے سے نکالنے میں مدد دی ہے۔ یہ پاکستان کے قدرتی ورثے کی زندہ علامت ہے۔
قدرتی ورثے کی حفاظت
مارخور کی کہانی تحفظ کی کامیابی کی کہانی ہے: جب مقامی آبادی کو تحفظ میں شراکت دار بنایا گیا تو غیر قانونی شکار کم ہوا اور تعداد بڑھنے لگی۔ یہ سبق دنیا بھر کے جنگلی حیات کے منصوبوں کے لیے مثال ہے۔
مزید دیکھیے ہمارا سفر کا سیکشن۔