امریکی ریاست ٹینی سی کے گورنر بل لی نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات کے کمشنر فرانک اسٹراڈا اسی ماہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔ یہ اعلان بدھ کو کرسٹا پائیک کی ناکام پھانسی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہیں جان لیوا انجیکشن کی دو خوراکیں لگنے کے باوجود موت نہیں آئی اور وہ بے ہوش ہو کر اسپتال میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔
اہم نکات
- استعفیٰ: محکمہ جیل خانہ جات کے کمشنر فرانک اسٹراڈا اسی ماہ عہدہ چھوڑیں گے — اعلان گورنر بل لی نے ہفتے کو کیا
- ناکام پھانسی: بدھ کو کرسٹا پائیک کو پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں لگیں، مگر وہ زندہ رہیں؛ اب بے ہوش اور وینٹی لیٹر پر ہیں
- وجہ: وکلاء کے مطابق انجیکشن کی نلکیاں درست جگہ نہ لگیں اور دوا خون کی نالیوں کے بجائے ٹشو میں چلی گئی
- گورنر کا حکم: اس سال کے آخر تک ریاست میں تمام پھانسیوں پر عملدرآمد معطل؛ آزاد جائزے کا حکم
- پس منظر: یہ اس سال ٹینی سی میں دوسرا ناکام پھانسی کا واقعہ ہے — مئی میں ٹونی کیروتھرس کی پھانسی منسوخ ہو چکی ہے
فرانک اسٹراڈا کا استعفیٰ
گورنر بل لی نے ہفتے کی صبح ”قیادت کی تبدیلی“ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر اسٹراڈا اس ماہ رخصت ہوں گے۔ اپنے بیان میں اسٹراڈا نے کہا کہ آزاد جائزہ جاری رہنے کے دوران الگ ہونا ”ٹینی سی کے عوام کے بہترین مفاد“ میں ہے، اور انہوں نے اس جائزے کو ”مکمل طور پر مناسب اور ضروری“ قرار دیا۔ اسٹراڈا جنوری 2023 سے ٹینی سی کے محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ تھے؛ اس سے پہلے وہ ایریزونا کے محکمہ جیل خانہ جات میں نائب ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔
کرسٹا پائیک کی ناکام پھانسی
بدھ کی شام نیشویل کی ریوربینڈ جیل میں پائیک کو پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں انجیکشن کے ذریعے دی گئیں — یہی وہ دوا ہے جو ٹینی سی پھانسیوں میں استعمال کرتا ہے۔ مگر پھانسی ناکام ہو گئی۔ پائیک کے وکلاء نے جمعے کو عدالت میں دائر کردہ دستاویزات میں بتایا کہ انجیکشن کی نلکیاں درست طور پر نہیں لگائی گئیں، رگیں پھٹ گئیں اور دوا خون میں پہنچنے کے بجائے جسم کے ٹشو میں چلی گئی۔ وکلاء کے مطابق عملے کے کسی رکن کو اس خرابی کا احساس تک نہ ہوا۔
ناکامی کے بعد پائیک کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ بے ہوش ہیں اور وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ان کے وکلاء نے اسے ”نظامی ناکامی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ بدھ کو ہوا وہ کسی ایک شخص سے کہیں بڑی خرابی کی عکاسی کرتا ہے۔
گورنر کا حکم: پھانسیاں معطل، آزاد جائزہ
گورنر بل لی — جنہوں نے پھانسی سے پہلے پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی — نے اب اس سال کے آخر تک ریاست میں تمام پھانسیوں پر عملدرآمد روک دیا ہے اور واقعے کے آزاد جائزے کا حکم دیا ہے۔ لی نے اس کیس کو ”گہری تشویش“ کا باعث قرار دیا۔ یہ ناکامی بدھ کو ہونے کے بعد سے سزائے موت کے حامیوں اور مخالفوں دونوں کی جانب سے جوابات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

کرسٹا پائیک کون ہیں
50 سالہ کرسٹا پائیک کو 1996 میں ان کی ہم جماعت کولین سلیمر کے قتل میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گئی تھی — اس وقت وہ نوعمر تھیں۔ وہ ٹینی سی میں سزائے موت پانے والی واحد خاتون قیدی ہیں اور امریکہ میں سب سے کم عمر میں سزائے موت پانے والی خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔
اس سال کا دوسرا واقعہ
پائیک کی ناکام پھانسی اس سال ٹینی سی میں دوسرا ایسا واقعہ ہے۔ مئی میں ٹونی کیروتھرس کی پھانسی اس وقت منسوخ کر دی گئی تھی جب عملہ ان کی رگ تلاش کرنے میں ناکام رہا۔ محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق 2025 سے اب تک ریاست میں چار پھانسیاں ہو چکی ہیں۔ اسٹراڈا نے 2024 کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ ٹینی سی پھانسیوں میں صرف پینٹوباربیٹل استعمال کرے گا۔
نتیجہ
جیل چیف کے استعفے کا اعلان اور پھانسیوں کی معطلی ظاہر کرتی ہے کہ ٹینی سی کی انتظامیہ اس ناکامی کو کتنی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ آزاد جائزے کے نتائج نہ صرف یہ طے کریں گے کہ بدھ کو کیا غلط ہوا، بلکہ ریاست میں سزائے موت کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ یہ خبر وطن نیوز کی ویب سائٹ پر بھی شائع ہوئی ہے؛ مزید خبریں ہماری عالمی کوریج میں پڑھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کرسٹا پائیک کی حالت کیسی ہے؟
پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں لگنے کے باوجود وہ زندہ ہیں، مگر بے ہوش ہیں اور اسپتال میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔
فرانک اسٹراڈا نے استعفیٰ کیوں دیا؟
بدھ کو کرسٹا پائیک کی ناکام پھانسی کے بعد گورنر نے ان کے استعفے کا اعلان کیا؛ وہ آزاد جائزے کے دوران اسی ماہ عہدہ چھوڑیں گے۔
کیا ٹینی سی میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے؟
نہیں — سزائے موت ختم نہیں ہوئی، صرف اس سال کے آخر تک تمام پھانسیوں پر عملدرآمد معطل کیا گیا ہے تاکہ طریقہ کار کا آزاد جائزہ لیا جا سکے۔
یہ اس سال کا دوسرا ایسا واقعہ کیسے ہے؟
مئی میں ٹونی کیروتھرس کی پھانسی اس لیے منسوخ کر دی گئی تھی کہ عملہ ان کی رگ تلاش نہیں کر سکا تھا۔