×
پی ٹی آئی لانگ مارچ — لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والے کارکنوں کا قافلہ

پاکستان تحریک انصاف کا پی ٹی آئی لانگ مارچ اتوار ۴ اکتوبر کو دوپہر ۱ بجے لکی مروت کے گاندھی چوک سے روانہ ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع ہونے والا یہ مارچ کئی اضلاع سے ہوتا ہوا اسلام آباد کی طرف بڑھے گا، لیکن وفاقی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ بدامنی کی کسی بھی کوشش کو قانون کے مطابق روکا جائے گا، اور مذاکرات کی ناکامی کی وجہ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت کا عدم تعاون ہے۔

اہم نکات

  • آغاز: اتوار ۴ اکتوبر، دوپہر ۱ بجے، گاندھی چوک لکی مروت سے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں
  • شامل اضلاع: ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنو اور لکی مروت کے کارکن پہلے روز شامل
  • حکومتی مؤقف: رانا ثناء اللہ کا اعلان — لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں، بدامنی قانون کے مطابق روکی جائے گی
  • مذاکرات: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت دو دور ناکام؛ مزید بات چیت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں
  • مطالبات: عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی؛ مارچ پرامن رکھنے کی اپیل
  • چندہ مہم: ایک روز میں چار کروڑ روپے جمع کیے گئے

پی ٹی آئی لانگ مارچ کا آغاز اور راستہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق مارچ اتوار کو گاندھی چوک لکی مروت سے دوپہر ۱ بجے روانہ ہوا اور پہلی رات قافلے نے کرک کے قریب قیام کیا۔ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ یہ مارچ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جاری رہے گا اور پارٹی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مارچ کو پرامن رکھیں اور ہتھیار نہ لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مارچ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا اور یہ جدوجہد بانی پی ٹی آئی عمران خان، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان سمیت قید قائدین کی رہائی تک جاری رہے گی۔

وزیر اعلیٰ نے نو مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ایسے واقعات کو دوبارہ نہیں ہونے دے گی اور نہ کسی کو دہرانے کی اجازت دے گی۔

تاریخ شیڈول
۵ اکتوبر کرک کے کارکن دوپہر ۱۲ بجے شامل، ساڑھے ۱۲ بجے روانگی، رات قیام کوہاٹ کے قریب
۶ اکتوبر کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے کارکن شامل، کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی، رات قیام متنی پشاور کے قریب
۷ اکتوبر بدھ بیر پشاور سے ساڑھے ۱۲ بجے روانگی، خیبر ضلع کے کارکن شامل، رات قیام چارسدہ انٹرچینج کے قریب
۸ اکتوبر خیبر پختونخوا کے تمام کارکن خیرآباد میں جمع ہوں گے؛ پارٹی آئندہ کا لائحہ عمل اعلان کرے گی

مذاکرات کی ناکامی اور وفاقی مؤقف

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ پہلا باقاعدہ دور جمعے کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا اور دوسرا دور ہفتے کی سہ پہر اسی چیمبر میں ہوا۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق حکومت نے معاہدے کے مسودے میں دو سے تین بار ترمیم کی، لیکن خیبر پختونخوا حکومت انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں تعاون اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے تیار نہ ہوئی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون صوبائی حکومت کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور یہ معاملہ مذاکرات کا نہیں۔ ان کے بقول مزید بات چیت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، تاہم اگر پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کو تیار ہوں تو مذاکرات دوبارہ ہو سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں لانگ مارچ سے قبل سیکیورٹی انتظامات — پی ٹی آئی لانگ مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں
لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ (تصویری عکس)

اسلام آباد میں داخلے پر پابندی

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی بدامنی پھیلانے کی کوشش کو قانون کے دائرے میں رہ کر سختی سے روکا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی جا سکتی اور صوبائی حکومت کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عمران خان کی ملاقات اور علاج کے معاملات

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق یہ ثانوی نوعیت کے معاملات ہیں، جن کے حوالے سے حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملاقاتوں اور علاج کے انتظامات قانون اور جیل کے ضابطوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں اور آئندہ بھی کیے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، بشرطیکہ ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

نتیجہ

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا لکی مروت سے آغاز ہو چکا ہے اور قافلہ مرحلہ وار خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے گزرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں داخلے پر پابندی کے اعلان اور انسداد دہشت گردی پر مذاکرات کے تعطل نے سیاسی کشیدگی بڑھا دی ہے۔ آنے والے دنوں میں مارچ کے شرکاء کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جب کہ پاکستان کی سیاست میں اگلا ہفتہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کہاں سے شروع ہوا ہے؟

مارچ خیبر پختونخوا کے لکی مروت میں گاندھی چوک سے اتوار ۴ اکتوبر کو دوپہر ۱ بجے شروع ہوا اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اس کی قیادت کر رہے ہیں۔

مارچ کا راستہ کیا ہے؟

قافلہ لکی مروت سے کرک، کوہاٹ، پشاور اور چارسدہ سے ہوتا ہوا ۸ اکتوبر کو خیرآباد پہنچے گا، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

حکومت نے اسلام آباد میں داخلے کے حوالے سے کیا کہا ہے؟

رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور بدامنی کی کسی بھی کوشش کو قانون کے مطابق روکا جائے گا۔

مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

حکومت کے مطابق انسداد دہشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت کے عدم تعاون کے باعث مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور مزید بات چیت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہوئی۔

پی ٹی آئی کے مطالبات کیا ہیں؟

پارٹی عمران خان اور دیگر قید قائدین کی رہائی، آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanjaved13132@gmail.com

Related Posts

سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ کیس کے بعد برف میں ڈوبا ہوا ارکوتسک کا ہسپتال

سائبیریا میں لیب ورکر کی طاعون سے موت، قرنطینہ نافذ

سائبیریا کے ارکوتسک علاقے میں لیبارٹری حادثے کے بعد 28 سالہ خاتون ورکر کی مشتبہ طاعون سے موت ہو گئی۔ تقریباً 200...

Read out all
چینی کاروں پر محصولات — برطانوی بندرگاہ پر نئی برقی گاڑیوں کی آمد

UK considering tariffs on Chinese car imports to align with EU, reports say

برطانیہ چینی کاروں کی درآمدات پر محصولات عائد کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ یورپی یونین کے 45 فیصد محصولات سے...

Read out all
میڈرڈ میں رہائشی بحران کے خلاف مظاہرہ — ہسپانیہ میں قبل از وقت انتخابات

ہسپانوی وزیراعظم کی ہاؤسنگ بحران کے باعث فوری انتخابات کی کال

ہسپانیہ کے وزیراعظم پدرو سانچیز نے رہائشی بحران پر پارلیمنٹ میں دو ہنگامی احکامات مسترد ہونے کے بعد 29 نومبر کو قبل...

Read out all
کیمرے اور نوٹ بک کے ساتھ ایک صحافی جو سبز چمکتی ہوئی زمین کے سامنے کھڑا ہے، سیارہ صحت صحافت کی علامت

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم...

Read out all
میکیلے شہر کا فضائی منظر، تیگرائی کا دارالحکومت — ٹی پی ایل ایف نے شہر سے عارضی پسپائی اختیار کر لی ہے

ایتھوپیا: باغی فورسز نے تیگرائی دارالحکومت سے پسپائی اختیار کر لی

ٹی پی ایل ایف نے ہفتے کو تیگرائی کے دارالحکومت میکیلے سے عارضی پسپائی کا اعلان کیا۔ حکومتی اتحادی فورسز اور وفاقی...

Read out all
Skoleelever spiser farverige vegetariske skolemåltider i et svensk kantineområde — en ny undersøgelse viser, at smag, mæthed og genkendelighed afgør opbakningen til klimavenlige skolemåltider

سویڈن کی تحقیق: ذائقہ دار ہوں تو طلبہ ماحول دوست اسکول کھانے کی حمایت کرتے ہیں

طلبہ ماحول دوست اسکول کھانوں کے بارے میں نہ واضح طور پر مثبت ہیں اور نہ واضح طور پر منفی — اور...

Read out all