نیویارک: چینی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ٹین سنٹ نے امریکی کلاؤڈ انفراسٹرکچر کمپنی اوریکل کے ساتھ تقریباً سات ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اسے جنوب مشرقی ایشیا میں اوریکل کے ڈیٹا مراکز میں موجود تقریباً ایک لاکھ جدید مصنوعی ذہانت چپس تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ یہ خبر برطانوی مالیاتی اخبار فائنانشل ٹائمز نے ایسے افراد کے حوالے سے دی جنہیں معاملے کی معلومات ہے۔
اہم نکات
- فائنانشل ٹائمز کے مطابق ٹین سنٹ نے اوریکل کے ڈیٹا مراکز میں تقریباً ایک لاکھ جدید مصنوعی ذہانت چپس پانچ سال کے لیے کرایے پر لیے ہیں۔
- معاہدے کی مجموعی قیمت تقریباً سات ارب ڈالر بتائی گئی ہے جس میں سے تقریباً تیس فیصد رقم پیشگی ادا کی گئی ہے۔
- یہ چپس وہ جدید چپس ہیں جن کی براہ راست چین کو فروخت پر امریکی پابندیاں عائد ہیں، لیکن بیرون ملک کرائے کی سہولت اب بھی جائز ہے۔
- نہ تو ٹین سنٹ نے اور نہ ہی اوریکل نے اب تک معاہدے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
معاہدے کی تفصیل
رپورٹ کے مطابق ٹین سنٹ نے اس سال جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد اوریکل ڈیٹا مراکز میں پانچ سالہ معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ کمپنی کا اب تک کا سب سے بڑا بیرون ملک کرایہ کا معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریباً سات ارب ڈالر کی رقم میں سے تقریباً تیس فیصد پیشگی ادائیگی شامل ہے، جبکہ باقی رقم معاہدے کی مدت میں ادا کی جائے گی۔
ان چپس کو ٹین سنٹ اپنے جدید مصنوعی ذہانت ماڈلوں کی تربیت اور خودکار معاون اوزاروں کی تیاری میں استعمال کرے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدہ کے نتیجے میں اوریکل کے حصص کی قیمت میں بھی بہتری دیکھی گئی۔

امریکی پابندیوں سے بچنے کا راستہ
امریکہ کی برآمدی پابندیوں کے تحت جدید این ویڈیا چپس کی چین کو براہ راست فروخت پر پابندی ہے۔ تاہم امریکی ضوابط کے تحت بیرون ملک ڈیٹا مراکز میں کمپیوٹنگ کی صلاحیت کرائے پر لینا اب بھی جائز ہے، یعنی چپس جسمانی طور پر چین میں داخل نہیں ہوتیں اور انہیں دور سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی قانونی خلا سے چینی کمپنیاں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
اس سے پہلے گزشتہ سال دسمبر میں بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ٹین سنٹ نے جاپان کے شہر اوساکا کے قریب ایک ڈیٹا مرکز میں این ویڈیا کے جدید بلیک ویل چپس تک رسائی حاصل کی تھی۔ بائٹ ڈانس اور علی بابا جیسی چینی کمپنیاں بھی جنوب مشرقی ایشیا میں ڈیٹا مراکز کے ذریعے اپنی مصنوعی ذہانت کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔
| شق | تفصیل |
|---|---|
| چپس کی تعداد | تقریباً ایک لاکھ |
| معاہدے کی رقم | تقریباً سات ارب ڈالر |
| مدت | پانچ سال |
| پیشگی ادائیگی | تقریباً تیس فیصد |

سرمایہ کاری میں اضافہ
ٹین سنٹ اپنی مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ کمپنی کے سرمائے کے اخراجات میں ایک سو چھہتر فیصد سالانہ اضافہ ہوا اور یہ رقم ترپن ارب یوآن تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ سہولتوں اور ڈیٹا مراکز میں سرمایہ کاری ہے۔ کمپنی نے اپنے اندرونی ڈیٹا اور کمپیوٹنگ یونٹوں کی تنظیم نو کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کے محققین کی بھرتی کی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔
دوسری جانب اوریکل کے لیے یہ معاہدہ اس وقت آیا ہے جب کمپنی کے حصص گزشتہ ستمبر کے بعد سے نمایاں دباؤ میں ہیں اور اس کی مالی صحت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ معاہدے کی خبر پر اوریکل کے حصص میں تقریباً دو فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
خلاصہ
ٹین سنٹ اور اوریکل کے درمیان یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی برآمدی پابندیوں کے باوجود چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں بیرون ملک ڈیٹا مراکز کے ذریعے جدید مصنوعی ذہانت چپس تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی مزید خبریں اردو میں پڑھیں۔
عمومی سوالات
معاہدے کی رقم کتنی ہے؟
رپورٹ کے مطابق معاہدہ تقریباً سات ارب ڈالر کا ہے جس میں سے تقریباً تیس فیصد پیشگی ادا کیا گیا ہے۔
کیا یہ چپس چین میں استعمال ہوں گی؟
نہیں، یہ چپس جنوب مشرقی ایشیا کے ڈیٹا مراکز میں رہیں گی اور ٹین سنٹ انہیں دور سے استعمال کرے گا۔
کیا دونوں کمپنیوں نے تصدیق کی ہے؟
اب تک نہ ٹین سنٹ نے اور نہ ہی اوریکل نے معاہدے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔