×
میکیلے شہر کا فضائی منظر، تیگرائی کا دارالحکومت — ٹی پی ایل ایف نے شہر سے عارضی پسپائی اختیار کر لی ہے

content bytes: 11035
article” dir=”rtl” lang=”ur” style=”direction:rtl;text-align:right;unicode-bidi:embed;”>

ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائی میں تیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) نے ہفتے کے روز علاقائی دارالحکومت میکیلے سے عارضی پسپائی کا اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم کے بیان کے مطابق علاقائی حکومت عارضی طور پر میکیلے سے باہر کسی اور مقام سے کام کرے گی، تاکہ شہر کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے اور لڑائی تنظیم کی اپنی شرائط پر جاری رکھی جا سکے۔

اہم نکات

  • ٹی پی ایل ایف نے 3 اکتوبر کو میکیلے سے عارضی انخلا کا اعلان کیا؛ علاقائی حکومت عارضی طور پر کسی اور مقام سے کام کرے گی۔
  • حکومتی اتحادی تیگرائی پیس فورسز اور وفاقی فوج ہفتے کی سہ پہر شہر میں داخل ہو گئیں۔
  • وفاقی فورسز نے میکیلے کے الولا آبا نیگا ہوائی اڈے کا کنٹرول واپس لے لیا؛ ایتھوپین ایئرلائنز نے میکیلے، اکسم اور شائرے کی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
  • تازہ لڑائی 23 ستمبر کو سات مسلح و سیاسی گروہوں کے اتحاد کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
  • امریکی محکمہ خارجہ نے تمام فریقین سے تحمل اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے؛ افریقی یونین نے بھی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
  • اتوار کو مصر کے ساحلی شہر العلمین میں مصر، صومالیہ، سوڈان اور اریٹیریا کے صدور نے علاقائی کشیدگی پر اجلاس کیا۔

ٹی پی ایل ایف کی میکیلے سے پسپائی

ہفتے کی سہ پہر حکومت کی اتحادی ملیشیا تیگرائی پیس فورسز کے جنگجو شہر کے مرکز میں داخل ہوئے، جن کے پیچھے ایتھوپیا کی وفاقی فوج بھی پہنچی۔ رائٹرز نے ملیشیا کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی، جبکہ شہر کے ایک امدادی کارکن اور ایک رہائشی نے بھی تصدیق کی کہ میکیلے اب حکومتی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل وفاقی فورسز نے میکیلے کے مرکزی ہوائی اڈے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔ یہ ہوائی اڈہ ستمبر میں تیگرائی کے جنگجوؤں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جس کے باعث تجارتی پروازیں معطل ہو گئی تھیں۔ ٹی پی ایل ایف نے گزشتہ ماہ ہوائی اڈے سمیت میکیلے پر قبضہ کیا تھا، اور اب اس کے جنگجو ہفتے کی سہ پہر تک شہر چھوڑتے رہے۔

میکیلے کے ہوائی اڈے کا فضائی منظر — ٹی پی ایل ایف کی پسپائی کے بعد وفاقی فورسز نے ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا
میکیلے کے الولا آبا نیگا ہوائی اڈے کا منظر: وفاقی فورسز نے ہفتے کو ہوائی اڈے کا کنٹرول واپس لے لیا تھا، جس کے بعد ایتھوپین ایئرلائنز نے میکیلے، اکسم اور شائرے کی پروازیں معطل کر دی تھیں۔

لڑائی کیسے شروع ہوئی

تازہ جھڑپوں کا آغاز 23 ستمبر کو ہوا، جب سات مسلح و سیاسی گروہوں نے ایک اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کے خاتمے اور ایک ہمہ گیر عبوری انتظامیہ کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ابتدا میں اس اتحاد نے امہارا اور افار کے کچھ علاقوں میں پیش قدمی کی، جس کے بعد وفاقی اور اتحادی فورسز نے تیز جوابی کارروائی کی۔

ٹی پی ایل ایف کے چیئرمین ڈیبریشن گبرایمائیکل نے جمعرات کو کہا تھا کہ یہ لڑائی پچھلی جنگ کا تسلسل ہے اور ان کے دستے تیگرائی کا دفاع اور حملے جاری رکھیں گے۔ یہ صورتحال 2020ء سے 2022ء تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کی یاد تازہ کرتی ہے، جس میں وفاقی فورسز نے نومبر 2020ء میں میکیلے پر قبضہ کیا تھا، تاہم تیگرائی کی فورسز جون 2021ء میں شہر میں واپس آ گئی تھیں۔ وہ جنگ 2022ء کے امن معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔

بین الاقوامی ردعمل

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کو ایتھوپیا اور اریٹیریا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہمسایوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت کی طرف لوٹیں۔ ایتھوپیا نے اریٹیریا، سوڈان اور مصر پر مخالف اتحاد کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے، جس کی خرطوم اور قاہرہ نے تردید کی ہے، جبکہ اریٹیریا نے ان الزامات پر ایتھوپیا سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

افریقی یونین نے بھی فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ لڑائی 2022ء کے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اتوار کو مصر کے ساحلی شہر العلمین میں مصر، صومالیہ، سوڈان اور اریٹیریا کے صدور نے علاقائی کشیدگی پر غور کے لیے اجلاس کیا۔

مصر کے ساحلی شہر العلمین کا منظر — علاقائی اجلاس میں تیگرائی کشیدگی پر غور کیا گیا
مصر کے ساحلی شہر العلمین کا منظر: علاقائی کشیدگی پر مصر، صومالیہ، سوڈان اور اریٹیریا کے صدور نے یہاں اجلاس کیا۔

میکیلے میں موجودہ صورتحال

ہفتے بھر انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک شدید متاثر رہے، جس سے تیگرائی سے معلومات کی تصدیق مشکل ہو گئی تھی۔ اتوار کو کچھ رابطے بحال ہونے کی اطلاعات ملیں۔ میکیلے کے ایک تاجر نے اے پی کو بتایا کہ حکومتی اتحادی فورسز کے چھوٹے دستے شہر میں داخل ہوئے، جبکہ ٹی پی ایل ایف کے حامی جنگجو ہفتے کی سہ پہر تک شہر چھوڑتے رہے۔

شہر میں دکانیں اور کاروبار بند رہے اور دکاندار ممکنہ لوٹ مار سے بچنے کے لیے سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرتے رہے۔ ایک رہائشی کے مطابق حکومتی حامی جنگجوؤں کے داخلے پر خوشی میں فائرنگ بھی کی گئی۔ علاقے پر مکمل کنٹرول کی حد ابھی واضح نہیں ہو سکی ہے۔

نتیجہ

ایتھوپیا کے تیگرائی خطے میں ٹی پی ایل ایف کی جانب سے دارالحکومت میکیلے سے پسپائی تنازع میں ایک اہم موڑ ہے۔ اگرچہ اس اقدام سے فوری طور پر شہر کو ممکنہ تباہی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن تنظیم کی جانب سے اپنی شرائط پر لڑائی جاری رکھنے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔ بین الاقوامی برادری کی تحمل اور مذاکرات کی اپیلوں کے باوجود زمینی حقائق غیر یقینی ہیں، اور خدشہ ہے کہ لڑائی ہمسایہ ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ دنیا کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

ٹی پی ایل ایف کیا ہے؟

ٹی پی ایل ایف یعنی تیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ تیگرائی خطے کی ایک سیاسی و عسکری تنظیم ہے، جو اس وقت وفاقی حکومت کے خلاف لڑنے والے مخالف اتحاد کی قیادت کر رہی ہے۔

میکیلے کہاں واقع ہے؟

میکیلے ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائی کا دارالحکومت ہے اور اس کا مرکزی ہوائی اڈہ الولا آبا نیگا ہے۔

تازہ لڑائی کب شروع ہوئی؟

تازہ جھڑپوں کا آغاز 23 ستمبر کو ہوا، جب سات مسلح و سیاسی گروہوں کے اتحاد نے وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کے خلاف حملے کا اعلان کیا۔

بین الاقوامی برادری کا ردعمل کیا رہا ہے؟

امریکی محکمہ خارجہ اور افریقی یونین نے فریقین سے تحمل اور بات چیت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مصر، صومالیہ، سوڈان اور اریٹیریا کے صدور نے العلمین میں علاقائی کشیدگی پر اجلاس کیا ہے۔

کیا یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے؟

تجزیہ کاروں اور امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کشیدگی میں اضافے سے پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے، اور افریقی یونین نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی 2022ء کے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanjaved13132@gmail.com

Related Posts

کیمرے اور نوٹ بک کے ساتھ ایک صحافی جو سبز چمکتی ہوئی زمین کے سامنے کھڑا ہے، سیارہ صحت صحافت کی علامت

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم...

Read out all
Skoleelever spiser farverige vegetariske skolemåltider i et svensk kantineområde — en ny undersøgelse viser, at smag, mæthed og genkendelighed afgør opbakningen til klimavenlige skolemåltider

سویڈن کی تحقیق: ذائقہ دار ہوں تو طلبہ ماحول دوست اسکول کھانے کی حمایت کرتے ہیں

طلبہ ماحول دوست اسکول کھانوں کے بارے میں نہ واضح طور پر مثبت ہیں اور نہ واضح طور پر منفی — اور...

Read out all
Solar panels and wind turbines at sunrise in India — Sumitomo and Hero Future Energies' 500 MWp hybrid project with battery storage will supply 24/7 renewable power

بھارت میں چوبیس گھنٹے قابل تجدید بجلی کے لیے سوموٹومو کی ہیرو فیوچر انرجیز کے 500 میگاواٹ شمسی و ہوا منصوبے میں سرمایہ کاری

جاپان کی سوموٹومو کارپوریشن بھارت کی ریاست کرناٹک میں شمسی اور ہوا توانائی کے ایک نئے 500 میگاواٹ منصوبے میں 49 فیصد...

Read out all
غروب آفتاب کے منظر میں شمسی پینل اور ہوائی پنکھے — 2025 میں قابل تجدید توانائی کا ریکارڈ اضافہ، 2030 کے ہدف سے دنیا اب بھی پیچھے

قابل تجدید توانائی نے 2025 میں ریکارڈ 693 گیگا واٹ کا اضافہ کیا مگر 2030 کے ہدف سے دنیا اب بھی پیچھے — آئی آر ای این اے

آئی آر ای این اے اور کاپ31 صدارت کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں 693 گیگا واٹ ریکارڈ قابل تجدید بجلی صلاحیت...

Read out all
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال، نیویارک — انتونیو گوتریس کے دورہ پاکستان کا اعلان یہیں سے ہوا

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اسلام آباد پہنچ گئے: پاک-ایران امن مذاکرات کو فروغ دینے کی کوشش

اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کی دعوت قبول کر لی ہے...

Read out all
EN: Hands holding a green leaf globe — green ambassador climate action | UR: ہری پتیوں سے بنا گلوب تھامے ہاتھ — ماحولیاتی سفیر کی موسمیاتی کارروائی | DK: Hænder der holder en grøn blad-globus — grøn ambassadør klimahandling

ماحولیاتی سفیر: مشہور شخصیات موسمیاتی کارروائی کے لیے اپنی شہرت کیسے استعمال کرتی ہیں

اقوام متحدہ کے ایوانوں میں انیس سو نوے کی دہائی کی سپر ماڈل سے لے کر اریٹریا میں درخت لگاتے ٹور ڈی...

Read out all