- 0
- 14 words
content bytes: 11035
article” dir=”rtl” lang=”ur” style=”direction:rtl;text-align:right;unicode-bidi:embed;”>
ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائی میں تیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) نے ہفتے کے روز علاقائی دارالحکومت میکیلے سے عارضی پسپائی کا اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم کے بیان کے مطابق علاقائی حکومت عارضی طور پر میکیلے سے باہر کسی اور مقام سے کام کرے گی، تاکہ شہر کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے اور لڑائی تنظیم کی اپنی شرائط پر جاری رکھی جا سکے۔
اہم نکات
- ٹی پی ایل ایف نے 3 اکتوبر کو میکیلے سے عارضی انخلا کا اعلان کیا؛ علاقائی حکومت عارضی طور پر کسی اور مقام سے کام کرے گی۔
- حکومتی اتحادی تیگرائی پیس فورسز اور وفاقی فوج ہفتے کی سہ پہر شہر میں داخل ہو گئیں۔
- وفاقی فورسز نے میکیلے کے الولا آبا نیگا ہوائی اڈے کا کنٹرول واپس لے لیا؛ ایتھوپین ایئرلائنز نے میکیلے، اکسم اور شائرے کی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
- تازہ لڑائی 23 ستمبر کو سات مسلح و سیاسی گروہوں کے اتحاد کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
- امریکی محکمہ خارجہ نے تمام فریقین سے تحمل اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے؛ افریقی یونین نے بھی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
- اتوار کو مصر کے ساحلی شہر العلمین میں مصر، صومالیہ، سوڈان اور اریٹیریا کے صدور نے علاقائی کشیدگی پر اجلاس کیا۔
ٹی پی ایل ایف کی میکیلے سے پسپائی
ہفتے کی سہ پہر حکومت کی اتحادی ملیشیا تیگرائی پیس فورسز کے جنگجو شہر کے مرکز میں داخل ہوئے، جن کے پیچھے ایتھوپیا کی وفاقی فوج بھی پہنچی۔ رائٹرز نے ملیشیا کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی، جبکہ شہر کے ایک امدادی کارکن اور ایک رہائشی نے بھی تصدیق کی کہ میکیلے اب حکومتی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل وفاقی فورسز نے میکیلے کے مرکزی ہوائی اڈے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔ یہ ہوائی اڈہ ستمبر میں تیگرائی کے جنگجوؤں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جس کے باعث تجارتی پروازیں معطل ہو گئی تھیں۔ ٹی پی ایل ایف نے گزشتہ ماہ ہوائی اڈے سمیت میکیلے پر قبضہ کیا تھا، اور اب اس کے جنگجو ہفتے کی سہ پہر تک شہر چھوڑتے رہے۔

لڑائی کیسے شروع ہوئی
تازہ جھڑپوں کا آغاز 23 ستمبر کو ہوا، جب سات مسلح و سیاسی گروہوں نے ایک اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کے خاتمے اور ایک ہمہ گیر عبوری انتظامیہ کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ابتدا میں اس اتحاد نے امہارا اور افار کے کچھ علاقوں میں پیش قدمی کی، جس کے بعد وفاقی اور اتحادی فورسز نے تیز جوابی کارروائی کی۔
ٹی پی ایل ایف کے چیئرمین ڈیبریشن گبرایمائیکل نے جمعرات کو کہا تھا کہ یہ لڑائی پچھلی جنگ کا تسلسل ہے اور ان کے دستے تیگرائی کا دفاع اور حملے جاری رکھیں گے۔ یہ صورتحال 2020ء سے 2022ء تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کی یاد تازہ کرتی ہے، جس میں وفاقی فورسز نے نومبر 2020ء میں میکیلے پر قبضہ کیا تھا، تاہم تیگرائی کی فورسز جون 2021ء میں شہر میں واپس آ گئی تھیں۔ وہ جنگ 2022ء کے امن معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔
بین الاقوامی ردعمل
امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کو ایتھوپیا اور اریٹیریا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہمسایوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور بات چیت کی طرف لوٹیں۔ ایتھوپیا نے اریٹیریا، سوڈان اور مصر پر مخالف اتحاد کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے، جس کی خرطوم اور قاہرہ نے تردید کی ہے، جبکہ اریٹیریا نے ان الزامات پر ایتھوپیا سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔
افریقی یونین نے بھی فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ لڑائی 2022ء کے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اتوار کو مصر کے ساحلی شہر العلمین میں مصر، صومالیہ، سوڈان اور اریٹیریا کے صدور نے علاقائی کشیدگی پر غور کے لیے اجلاس کیا۔

میکیلے میں موجودہ صورتحال
ہفتے بھر انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک شدید متاثر رہے، جس سے تیگرائی سے معلومات کی تصدیق مشکل ہو گئی تھی۔ اتوار کو کچھ رابطے بحال ہونے کی اطلاعات ملیں۔ میکیلے کے ایک تاجر نے اے پی کو بتایا کہ حکومتی اتحادی فورسز کے چھوٹے دستے شہر میں داخل ہوئے، جبکہ ٹی پی ایل ایف کے حامی جنگجو ہفتے کی سہ پہر تک شہر چھوڑتے رہے۔
شہر میں دکانیں اور کاروبار بند رہے اور دکاندار ممکنہ لوٹ مار سے بچنے کے لیے سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرتے رہے۔ ایک رہائشی کے مطابق حکومتی حامی جنگجوؤں کے داخلے پر خوشی میں فائرنگ بھی کی گئی۔ علاقے پر مکمل کنٹرول کی حد ابھی واضح نہیں ہو سکی ہے۔
نتیجہ
ایتھوپیا کے تیگرائی خطے میں ٹی پی ایل ایف کی جانب سے دارالحکومت میکیلے سے پسپائی تنازع میں ایک اہم موڑ ہے۔ اگرچہ اس اقدام سے فوری طور پر شہر کو ممکنہ تباہی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن تنظیم کی جانب سے اپنی شرائط پر لڑائی جاری رکھنے کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔ بین الاقوامی برادری کی تحمل اور مذاکرات کی اپیلوں کے باوجود زمینی حقائق غیر یقینی ہیں، اور خدشہ ہے کہ لڑائی ہمسایہ ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ دنیا کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
ٹی پی ایل ایف کیا ہے؟
ٹی پی ایل ایف یعنی تیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ تیگرائی خطے کی ایک سیاسی و عسکری تنظیم ہے، جو اس وقت وفاقی حکومت کے خلاف لڑنے والے مخالف اتحاد کی قیادت کر رہی ہے۔
میکیلے کہاں واقع ہے؟
میکیلے ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائی کا دارالحکومت ہے اور اس کا مرکزی ہوائی اڈہ الولا آبا نیگا ہے۔
تازہ لڑائی کب شروع ہوئی؟
تازہ جھڑپوں کا آغاز 23 ستمبر کو ہوا، جب سات مسلح و سیاسی گروہوں کے اتحاد نے وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کے خلاف حملے کا اعلان کیا۔
بین الاقوامی برادری کا ردعمل کیا رہا ہے؟
امریکی محکمہ خارجہ اور افریقی یونین نے فریقین سے تحمل اور بات چیت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مصر، صومالیہ، سوڈان اور اریٹیریا کے صدور نے العلمین میں علاقائی کشیدگی پر اجلاس کیا ہے۔
کیا یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے؟
تجزیہ کاروں اور امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کشیدگی میں اضافے سے پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے، اور افریقی یونین نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی 2022ء کے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔