- 0
- 2 words
برطانیہ نے اسرائیل کے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، جو پہلے ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں سے متعلق برطانوی پابندیوں کی وجہ سے خراب ہو چکے ہیں۔
قونصل خانے کی بندش اور برطانوی ردعمل
اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانے کو رواں ہفتے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کے جواب میں، برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے ہر اس برطانوی سفارت کار کے بدلے ایک اسرائیلی سفارت کار کو ملک بدر کرے گا جسے اسرائیل سے نکالا جائے گا۔
- برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو سفارت کاروں کو نکالنے کی دھمکی۔
- یہ اقدام مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی بندش کے ردعمل میں ہے۔
- اسرائیلی اخبار ‘ynet’ کے مطابق، برطانیہ 27 اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کر سکتا ہے۔
- یہ اقدام برطانوی-اسرائیلی سفارتی تعلقات میں نچلی ترین سطح کو ظاہر کر سکتا ہے۔
اسرائیلی پابندیوں کا پس منظر
برطانیہ نے حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والے اشیاء پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے علاوہ، برطانیہ نے ان برطانوی فرموں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جو غیر قانونی بستیوں کی تعمیر میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
اسرائیل کا موقف اور الزامات
اسرائیل نے برطانوی پابندیوں کو “اخلاقی طور پر مسخ شدہ” قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ، گیڈیون سار نے برطانوی حکومت پر ملک کے خلاف دشمنی کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ اسرائیل کے خلاف جارحانہ اقدام ہے۔
قونصل خانے کا کردار اور محل وقوع
مشرقی یروشلم میں واقع برطانوی قونصل خانہ، تل ابیب میں واقع برطانوی سفارت خانے سے الگ ہے۔ اس کا دائرہ اختیار مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ قونصل خانہ شیخ جراح کے علاقے میں واقع ہے۔
سفارتی کوششیں ناکام
برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر، جوناتھن پاول نے یروشلم کا دورہ کیا تھا تاکہ اسرائیلی حکومت کو قونصل خانے کی بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر قائل کیا جا سکے۔ تاہم، یہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
سیاسی تناؤ اور انتخابی اثرات
برطانوی وزیر خارجہ، ایڈ ملی بینڈ کے بستیوں سے متعلق تجارت پر پابندی کے فیصلے پر قومی سلامتی کے مشیر کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ یہ خدشہ تھا کہ یہ فیصلہ 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
قانونی پہلو اور بین الاقوامی قوانین
سابق برطانوی اٹارنی جنرل، ڈومینک گریو نے برطانوی دفتر خارجہ کو مشورہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں واقع قونصل خانے کو بند کرتا ہے تو یہ غیر قانونی ہوگا۔
نتیجہ
برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانوی قونصل خانے کی بندش کا معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کے خلاف برطانوی پابندیوں پر یہ ردعمل بین الاقوامی تعلقات میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
برطانیہ نے اسرائیل پر کیا الزام لگایا ہے؟
برطانیہ نے اسرائیل پر مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا الزام لگایا ہے۔
برطانیہ نے اسرائیلی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی کیوں دی ہے؟
یہ دھمکی اسرائیل کے برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کے فیصلے کے جواب میں دی گئی ہے۔
اسرائیلی بستیوں پر برطانوی پابندیوں کا کیا مطلب ہے؟
برطانوی پابندیوں کا مطلب ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر برطانیہ میں پابندی ہوگی۔
برطانوی قونصل خانہ کہاں واقع ہے؟
برطانوی قونصل خانہ مشرقی یروشلم کے شیخ جراح کے علاقے میں واقع ہے۔