پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں نے ان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے مظاہرین کو دارالحکومت پہنچنے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جن میں شہر کو بند کرنا اور راستوں کو کنٹینرز اور ریت کے تھیلوں سے بلاک کرنا شامل ہے۔
مارچ کا آغاز اور حکومتی اقدامات
عمران خان کے حامیوں کا یہ مارچ اتوار کو شمال مغربی پاکستان کی خیبر پختونخوا صوبے سے شروع ہوا، جو ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا گڑھ ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، مظاہرین کو دارالحکومت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
- مارچ کا آغاز خیبر پختونخوا صوبے سے ہوا، جو پی ٹی آئی کا مضبوط علاقہ ہے۔
- حکومت نے اسلام آباد کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے اور شہر کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
- عمران خان کی بہنوں سمیت متعدد پارٹی رہنماؤں کو حفاظتی خدشات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
- حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے کیونکہ خان کی شمولیت پر اصرار کیا گیا۔
عمران خان کی صحت اور قید کی صورتحال
عمران خان، جو 74 سالہ سابق کرکٹ کپتان ہیں، 2023 سے جیل میں ہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور خاندان کا دعویٰ ہے کہ انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں صحت کے سنگین مسائل، جیسے آنکھوں کی بیماری اور ہائی بلڈ پریشر کے باوجود ڈاکٹر یا اہل خانہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
- عمران خان کو 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
- ان کے خاندان اور پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
- سنگین صحت کے مسائل کے باوجود، انہیں طبی امداد اور خاندان سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔
- پی ٹی آئی کے مطابق، عمران خان کو تنہائی میں رکھا گیا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
پی ٹی آئی کا موقف اور اپیل
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کارکنان اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے قائد کے لیے باہر نکلیں۔ صوبائی وزیر اعلیٰ سوہیل آفریدی نے مارچ کی قیادت کرتے ہوئے شرکاء کو ‘عمران خان کے سپاہی’ قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے لیڈر کے لیے نکلیں۔
مارچ کی قیادت اور شرکاء
مارچ کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سوہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ ہزاروں حامیوں نے پیر کی دوپہر تک مارچ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور یہ تعداد پشاور تک پہنچنے تک بڑھنے کی توقع ہے۔
- سوہیل آفریدی نے مارچ کرنے والوں کو ‘عمران خان کے سپاہی’ کہا ہے۔
- نوجوانوں کو اپنے قائد کی حمایت میں نکلنے کی اپیل کی گئی ہے۔
- پشاور، جو خیبر پختونخوا کا بڑا شہر ہے، بدھ تک مارچ کے پہنچنے کی توقع ہے۔
ملکی سیاسی صورتحال اور معاشی بحران
عمران خان، جو 2018 سے 2022 تک وزیراعظم رہے، پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹائے گئے تھے۔ اس کے بعد سے، وہ اور پی ٹی آئی حکومت کے دباؤ کا شکار ہیں۔ موجودہ حکومتی اتحاد، جسے فوج کی حمایت حاصل ہے، معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باعث عوامی ناراضی کا سامنا کر رہا ہے۔
حکومتی ردعمل اور الزامات
اطلاعات کے مطابق، حکومتی وزراء نے پی ٹی آئی پر ‘دوہرے معیار اور منافقت’ کا الزام لگایا ہے۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مارچ غیر قانونی ہے اور اسے ہر صورت روکا جائے گا۔ حکومت نے مظاہرین کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سخت ترین اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
نتیجہ
عمران خان کے حامیوں کا اسلام آباد کی جانب مارچ ملک میں سیاسی کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے کیے جانے والے سخت اقدامات اور پی ٹی آئی کے اپنے موقف پر قائم رہنے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ عمران خان کی صحت اور قید کی صورتحال بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ مارچ ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی استحکام کا فقدان اور معاشی چیلنجز اس وقت عروج پر ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری اور ان کے حامیوں کی جانب سے احتجاج نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ حکومت کو داخلی امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عوامی خدشات کو بھی دور کرنا ہوگا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
مارچ کا مقصد کیا ہے؟
مارچ کا بنیادی مقصد سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔
حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
حکومت نے اسلام آباد کو بند کر دیا ہے، شہر کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور مظاہرین کو دارالحکومت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔
کیا عمران خان کی صحت ٹھیک ہے؟
عمران خان کے خاندان اور پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ جیل میں سنگین صحت کے مسائل کا شکار ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا؟
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی نے مذاکرات میں عمران خان کی شمولیت کا مطالبہ کیا تھا۔