×

برطانیہ کی گرین پارٹی نے حال ہی میں ایک متنازعہ پالیسی ووٹ کے بعد بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہو گئی ہے، جس میں ‘صیہونیت نسل پرستی ہے’ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اقدام نے یورپی گرین پارٹی کے اتحاد اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔

یورپی گرین پارٹی کا ردعمل

یورپی گرین پارٹی، جو 47 رکن جماعتوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے اس پالیسی کو اپنے موقف کے خلاف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد اسرائیل کے وجود کے حق کی حمایت کرتا ہے اور دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

  • یورپی گرین پارٹی نے گرین پارٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز (GPEW) کی قیادت سے فوری وضاحت طلب کی ہے۔
  • اس سوال پر زور دیا گیا ہے کہ GPEW کی سرکاری پالیسی کیا ہے اور وہ اسرائیلیوں اور یہودیوں کی خود ارادیت کے بارے میں کیا موقف رکھتی ہے۔
  • یورپی گرین پارٹی نے پارٹی کے اندر یہودی اراکین اور ان کے تحفظ کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جرمن گرین پارٹی کا سخت موقف

جرمن گرین پارٹی کے شریک رہنما، فیلکس بنسازاک، نے اس پالیسی کو ‘ناقابل برداشت اور ناقابل قبول’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام جرمنی میں ان کی پارٹی کے اصولوں اور یورپی گرین پارٹی کے موقف کے منافی ہے۔

  • بنسازاک نے کہا کہ یورپی گرین پارٹی کے اندر یہ وسیع پیمانے پر رائے پائی جاتی ہے کہ اسرائیل کو وجود کا حق حاصل ہے اور اس حق کو کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔
  • انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی یورپ میں اپنے شراکت داروں سے رابطہ کرے گی تاکہ اس معاملے کو حل کرنے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔
  • یہ پالیسی برائٹن میں گرین پارٹی کے سالانہ کنونشن میں اتوار کو منظور کی گئی۔

نئی پالیسی کی تفصیلات

گرین پارٹی کی منظور شدہ پالیسی کے مطابق، صیہونیت، جو ایک یہودی ریاست کے لیے تحریک ہے، کو ‘نسل پرستی کی کسی بھی دوسری شکل کی طرح سمجھا جانا چاہیے’۔

  • اس پالیسی میں تاریخی فلسطین میں ایک واحد جمہوری فلسطینی ریاست کی حمایت کی گئی ہے جہاں تمام کے لیے مساوی حقوق ہوں۔
  • پارٹی کے پانچ ایم پیز میں سے چار نے اس پالیسی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
  • اس پالیسی نے پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور فیصلہ سازی کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

پارٹی کے اندرونی اختلافات اور استعفیٰ

اس ووٹ کے نتیجے میں پارٹی کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل یوکے کے چیئرپرسن اور طویل عرصے سے گرین پارٹی کی رکن، سینڈی رتھوین، نے اس پالیسی پر پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

استعفیٰ کی وجوہات

رتھوین نے پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ وہ یہود دشمنی کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی پالیسیوں نے انہیں اس فیصلے پر مجبور کیا۔

  • یہ واقعہ پارٹی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رکنیت کے تناظر میں اس کے وکندریقرت پالیسی سازی کے ڈھانچے کی مناسبت پر بھی بحث کو تیز کر رہا ہے۔
  • پارٹی کے ڈپٹی لیڈر، موہتھن علی، نے ووٹ کے دوران مندوبین سے بات چیت کی۔
  • زیک پولانسکی، جنہیں پارٹی کو قیادت کی ضرورت تھی، نے اس معاملے پر بروقت کارروائی نہیں کی۔

عالمی سطح پر تنہائی کا خدشہ

اس متنازعہ پالیسی کے بعد، گرین پارٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے۔ یورپی گرین پارٹی کے اتحاد اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں نے اس اقدام پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

  • یہ صورتحال پارٹی کے بین الاقوامی تعلقات اور مستقبل کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
  • دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، یہ ووٹ 5 اکتوبر 2026 کو ہوا۔
  • جرمن گرین پارٹی نے یورپی سطح پر دیگر شراکت داروں سے مشاورت کا عندیہ دیا ہے۔

نتیجہ

برطانیہ کی گرین پارٹی کا ‘صیہونیت نسل پرستی ہے’ کے ووٹ نے پارٹی کو شدید بین الاقوامی تنقید اور اندرونی خلفشار کا شکار کر دیا ہے۔ یورپی گرین پارٹی اور جرمن گرین پارٹی جیسے اہم اتحادیوں نے اس پالیسی کو سختی سے مسترد کیا ہے، جس سے پارٹی کے بین الاقوامی تعلقات اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور کچھ اہم اراکین کے استعفے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ یہ واقعہ پارٹی کے پالیسی سازی کے عمل اور اس کے بنیادی اصولوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر، گرین پارٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پارٹی کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی پالیسیاں اس کے بنیادی اقدار کے مطابق ہوں اور کسی بھی قسم کی نفرت یا امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کریں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

‘صیہونیت نسل پرستی ہے’ کا کیا مطلب ہے؟

‘صیہونیت نسل پرستی ہے’ کا مطلب یہ ہے کہ صیہونیت، جو ایک یہودی ریاست کے قیام کی تحریک ہے، کو نسل پرستی کی ایک شکل سمجھا جائے۔ یہ موقف اسرائیل کے وجود اور یہودی لوگوں کے خود ارادیت کے حق کو چیلنج کرتا ہ

یورپی گرین پارٹی کا اس ووٹ پر کیا ردعمل ہے؟

یورپی گرین پارٹی نے اس پالیسی کو ‘ناقابل برداشت اور ناقابل قبول’ قرار دیا ہے اور اسے اپنے موقف کے خلاف قرار دیا ہے۔ وہ اسرائیل کے وجود کے حق کی حمایت کرتے ہیں اور دو ریاستی حل کے حامی ہیں۔

کیا گرین پارٹی کے تمام اراکین اس پالیسی کے حامی ہیں؟

نہیں، گرین پارٹی کے تمام اراکین اس پالیسی کے حامی نہیں ہیں۔ پارٹی کے پانچ ایم پیز میں سے چار نے اس پالیسی کے خلاف ووٹ دیا، اور پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

اس ووٹ کے نتیجے میں پارٹی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

اس ووٹ کے نتیجے میں گرین پارٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پارٹی کے اندرونی اختلافات بڑھ سکتے ہیں اور اس کے بین الاقوامی تعلقات پر بھی منف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanjaved13132@gmail.com

Related Posts

برازیل صدارتی انتخابات: فلاویو بولسونارو کی بڑی فتح، ابتدائی نتائج

برازیل میں صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج نے سیاسی منظر نامے کو حیران کر دیا ہے، جہاں دائیں بازو کے امیدوار فلاویو...

Read out all
نئی سمندری مخلوقات — گہرے سمندر کی تحقیق کے لیے روبوٹک آبدوز

ارجنٹائن کے سمندر میں 57 نئی سمندری مخلوقات کی دریافت

ارجنٹائن کے ساحل کے قریب مار ڈیل پلاٹا زیر آب وادی میں سائنسدانوں نے ستاون نئی سمندری مخلوقات اور پانچ نئی جنسیں...

Read out all
ماحول دوست نوجوان — موسمیاتی ریلی میں نوجوان

کاپ31 سے پہلے نوجوان متحرک: سڈنی میں ریلی، بنگلہ دیش میں چارٹر

کاپ31 سے پہلے دنیا بھر کے نوجوان متحرک ہو گئے۔ سڈنی میں چوبیس اکتوبر کو طلبہ کی احتجاجی ریلی کا اعلان، بنگلہ...

Read out all
ماحولیاتی صحافت ایوارڈز 2026 — پریس کانفرنس میں مائیکروفونز

کورنگ کلائمیٹ ناؤ ایوارڈز 2026: ماحولیاتی صحافیوں کا عالمی اعزاز

کورنگ کلائمیٹ ناؤ نے 2026 کے صحافتی ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان کر دیا۔ بارہ سو سے زائد شرکتوں میں سے کم...

Read out all
ماحولیاتی سفیر — نیویارک کلائمیٹ ویک کا میزبان شہر

ترکیہ کے ماحولیاتی سفیر کی نیویارک میں پلاسٹک کے خلاف مہم

کاپ31 کے اعلی سطحی چیمپئن سامد آئیرباش نے نیویارک کلائمیٹ ویک میں ترکیہ کے زیرو ویسٹ اور پلاسٹک ایجنڈے کو عالمی سطح...

Read out all
کاپ31 — یورپی پارلیمنٹ کا اجلاس، ماحولیاتی قرارداد پر ووٹنگ

یورپی پارلیمنٹ کا کاپ31 ایجنڈا: فوسل ایندھن سے تیزی سے چھٹکارے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ کی ماحولیاتی کمیٹی نے کاپ31 کے لیے ترجیحات کی قرارداد پچاس کے مقابلے میں سولہ ووٹوں سے منظور کر لی۔...

Read out all