دنیا کے سب سے بڑے سائنسی تحقیقی ذخیرے آرکائیو نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھے گئے ناقص تحقیقی مقالوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب پر قابو پانے کے لیے ایک سخت اور غیر معمولی اقدام اٹھایا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہونے والی نئی پالیسی کے تحت اب ہر مصنف ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ دو تحقیقی مقالے جمع کرا سکے گا۔ تحقیقی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ نے خود تحقیقی اشاعت کے نظام کو متاثر کیا ہے۔
اہم نکات
- آرکائیو نے یکم اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ ہر جمع کنندہ ایک کیلنڈر ماہ میں زیادہ سے زیادہ دو تحقیقی مقالے جمع کرا سکے گا۔
- ایک وقت میں تین سے زیادہ مقالے نگرانی کے عمل میں نہیں رہ سکیں گے۔
- مسترد کیے گئے مقالے بھی ماہانہ حد میں شمار ہوں گے تاکہ مصنفین سوچ سمجھ کر مقالے جمع کرائیں۔
- ستمبر 2026 میں آرکائیو کو ریکارڈ 40,363 مقالے موصول ہوئے، جو ستمبر 2024 کے 20,569 مقالوں سے تقریباً دو گنا زیادہ ہیں۔
- مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جمع ہونے والے مقالوں کی تعداد صرف دو سال میں چھ گنا بڑھ گئی ہے۔
- ستمبر 2026 میں ایک ہی ماہ کے دوران نگران عملے کو تقریباً 9,000 شکایتی ٹکٹ موصول ہوئے۔
- آرکائیو کے مطابق یہ پابندی عارضی ہے اور طویل مدتی قوانین و بہتر نگرانی کے اوزاروں پر کام جاری ہے۔
نئی پابندی کی تفصیلات
نئی پالیسی کے مطابق ہر جمع کنندے کا اکاؤنٹ ایک کیلنڈر مہینے میں زیادہ سے زیادہ دو مقالے جمع کرا سکتا ہے اور ایک وقت میں اس کے تین سے زیادہ مقالے نگرانی کے عمل میں نہیں ہو سکتے۔ آرکائیو کے ترجمان کے مطابق کوئی مقالہ اس وقت “فعال” شمار ہوتا ہے جب وہ جمع ہو چکا ہو، اس پر غور اور جائزہ جاری ہو، لیکن وہ ابھی ویب سائٹ پر شائع نہ ہوا ہو۔
قواعد اس طرح بنائے گئے ہیں کہ ان سے بچ نکلنے کے واضح راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ مسترد شدہ مقالے ماہانہ حد میں شمار ہوں گے، جس کا مقصد مصنفین کو احتیاط سے مقالے منتخب کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ حد صرف اس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو مقالہ جمع کراتا ہے، اس کے تمام شریک مصنفین پر نہیں، اس لیے بڑی تحقیقی ٹیمیں مختلف شریک مصنفین کے ذریعے مقالے جمع کرا سکتی ہیں۔ البتہ اعلان سے پہلے واپس لیے گئے مقالے اس حد میں شمار نہیں ہوں گے۔ اس تبدیلی کا اعلان آرکائیو کی کمیونٹی رابطہ منیجر کیٹ بوبورس نے کیا تھا۔

مصنوعی ذہانت کے باعث مقالوں کے سیلاب کے اعداد و شمار
آرکائیو کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مقالوں کی تعداد میں اضافہ غیر متوازن ہے اور اس کی اصل وجہ مصنوعی ذہانت ہے۔ مجموعی طور پر دو سال میں مقالوں کی تعداد تقریباً دو گنا ہو گئی، لیکن مصنوعی ذہانت کے شعبے کے مقالوں میں چھ گنا اضافہ ہوا۔ دس سال پہلے ستمبر 2016 میں صرف 9,869 مقالے جمع ہوئے تھے، جبکہ اب یہ تعداد چار گنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
| مدت | موصول شدہ مقالے |
|---|---|
| ستمبر 2016 | 9,869 |
| ستمبر 2024 | 20,569 |
| ستمبر 2026 | 40,363 (ریکارڈ) |
نگرانوں کے مطابق انہیں ایسے مقالوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا سامنا ہے جن کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے اور جن میں کوئی خاص علمی گہرائی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ “سلامی طرز” کے مقالے بھی عام ہو رہے ہیں، جن میں ایک ہی تحقیق کو کئی چھوٹے حصوں میں کاٹ کر الگ الگ مقالوں کے طور پر جمع کرایا جاتا ہے تاکہ مقالوں کی تعداد بڑھائی جا سکے۔ آرکائیو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اوزاروں نے کاغذ نما دستاویز تیار کرنا بہت سستا اور آسان بنا دیا ہے، جس سے یہ سیلاب آیا ہے۔
محققین کا ملا جلا ردعمل
اس فیصلے پر محققین کی رائے منقسم ہے۔ رٹگرز یونیورسٹی کے ریاضی دان الیکس کونٹورووچ نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ کوئی بھی ایک مہینے میں کسی کے بیالیس مقالے نہیں پڑھے گا، اس لیے محققین کو اپنے صرف دو بہترین مقالے منتخب کرنے چاہئیں۔
دوسری جانب ہارورڈ بزنس اسکول کے اسکاٹ کومینرز، جو تقریباً بیس سال سے آرکائیو میں مقالے جمع کرا رہے ہیں، نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پلیٹ فارم کو نگرانی کے اخراجات میں بچت کرنی چاہیے، نہ کہ علمی کام کو محدود کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق نگرانی میں کامیاب ہونے والے مقالے کا انتخاب سب سے قیمتی مقالے کے انتخاب جیسا نہیں ہے۔
آرکائیو کی ادارتی مشاورتی کونسل کے سربراہ تھامس ڈیٹرش نے وضاحت کی کہ مصنفین کا ایک نسبتاً چھوٹا گروہ بڑی تعداد میں ناقص مقالے جمع کرا رہا ہے اور نگرانوں کے وقت کا غیر متناسب حصہ استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ ان مصنفین کے لیے ناانصافی ہے جو معیاری مقالے جمع کراتے رہتے ہیں، کیونکہ ان کے مقالے بھی دنوں یا ہفتوں تک تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا کردار
تحقیق کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی مصنوعی ذہانت تیزی سے جگہ بنا رہی ہے۔ اس موضوع پر بیجنگ کے پچاس ماڈل اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کی ہماری رپورٹ بھی پڑھیں۔
نتیجہ
آرکائیو کی نئی پابندی اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مصنوعی ذہانت نے علمی اشاعت کے نظام کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ وہی ٹیکنالوجی جس کی بنیاد رکھنے والی زیادہ تر تحقیق آرکائیو پر شائع ہوئی، اب اسی پلیٹ فارم کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو گا کہ آیا ہر شخص کی ماہانہ حد ناقص مقالوں کے سیلاب کو کم کرتی ہے یا صرف اسے ان اکاؤنٹس کی طرف منتقل کر دیتی ہے جنہوں نے ابھی اپنی حد استعمال نہیں کی۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
آرکائیو کیا ہے؟
آرکائیو دنیا کا سب سے بڑا مفت تحقیقی ذخیرہ ہے جہاں سائنس دان اپنے تحقیقی مقالے باضابطہ اشاعت سے پہلے جمع کراتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی زیادہ تر تحقیق سب سے پہلے یہیں سامنے آتی ہے۔
نئی حد کن لوگوں پر لاگو ہوتی ہے؟
یہ حد ہر اس شخص کے اکاؤنٹ پر لاگو ہوتی ہے جو مقالہ جمع کراتا ہے۔ شریک مصنفین پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا، اس لیے تحقیقی ٹیمیں مختلف ارکان کے ذریعے مقالے جمع کرا سکتی ہیں۔
کیا مسترد شدہ مقالے بھی ماہانہ حد میں شمار ہوں گے؟
جی ہاں۔ آرکائیو کے مطابق مسترد شدہ مقالے بھی ماہانہ حد میں شمار ہوں گے تاکہ مصنفین زیادہ سوچ سمجھ کر اور احتیاط سے مقالے جمع کرائیں۔