برازیل صدارتی انتخابات کے پہلے راؤنڈ میں دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو نے موجودہ صدر لوئز اناسیو لولا ڈی سلوا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سرکاری نتائج کے مطابق فلاویو بولسونارو نے 47.03 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ لولا ڈی سلوا 45.16 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ چونکہ کوئی بھی امیدوار پچاس فیصد کی حد پار نہ کر سکا، اس لیے فیصلہ اب 25 اکتوبر کو ہونے والے دوسرے راؤنڈ میں ہوگا۔ برازیل کی اسی خبر کا اردو نسخہ ہماری مرکزی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے، جبکہ دنیا بھر کی مزید خبریں یہاں پڑھی جا سکتی ہیں۔
اہم نکات
پہلا راؤنڈ: فلاویو بولسونارو 47.03 فیصد (56.1 ملین ووٹ)، لولا ڈی سلوا 45.16 فیصد (53.9 ملین ووٹ)۔
دوسرا راؤنڈ: 25 اکتوبر کو ہوگا، کیونکہ کوئی امیدوار پچاس فیصد کی حد نہ چھو سکا۔
پولنگ کی ناکامی: تقریباً تمام جائزوں میں لولا کو برتری دی گئی تھی، نتائج توقعات سے یکسر مختلف نکلے۔
سینیٹ: بولسونارو کی لبرل پارٹی کی نشستیں 15 سے بڑھ کر 28 ہو گئیں، ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت۔
خاندان کی کامیابی: بولسونارو خاندان کے چار مزید افراد کانگریس میں نشستیں جیت گئے۔
تاریخی پس منظر: 1985 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد پہلے راؤنڈ میں آگے رہنے والا امیدوار ہمیشہ صدارتی انتخاب جیتا ہے۔
برازیل صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج
چار اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ کے سرکاری نتائج کے مطابق فلاویو بولسونارو کو 56.1 ملین ووٹ ملے جو ڈالے گئے درست ووٹوں کا 47.03 فیصد ہے۔ دوسری جانب موجودہ صدر لولا ڈی سلوا کو 53.9 ملین ووٹ ملے جو 45.16 فیصد بنتے ہیں۔ دونوں کے درمیان تقریباً دو فیصد پوائنٹس کا فرق ہے۔
پہلے راؤنڈ سے باہر ہونے والے دیگر امیدواروں نے مجموعی طور پر تقریباً آٹھ فیصد ووٹ حاصل کیے، جن میں آگستو کیوری، رینان سانتوس، رونالڈو کیائڈو اور رومیو زیما شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر دائیں بازو کے رجحان کے حامل ہیں، اس لیے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان کے ووٹوں کی منتقلی دوسرے راؤنڈ میں فلاویو بولسونارو کے حق میں جا سکتی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کی بڑی ناکامی
اس انتخاب کی سب سے حیران کن بات رائے عامہ کے جائزوں کی ناکامی رہی۔ ووٹنگ سے پہلے تقریباً تمام بڑے جائزوں میں موجودہ صدر لولا ڈی سلوا کو واضح برتری دی گئی تھی، مگر نتائج اس کے برعکس نکلے۔ برازیل میں یہ پہلا موقع نہیں؛ 2018 اور 2022 کے انتخابات میں بھی جائزوں نے بولسونارو خاندان کی حمایت کو کم آنکا تھا، تاہم اس بار غلطی کا پیمانہ کہیں زیادہ بڑا تھا۔
نتائج کے اعلان کے بعد فلاویو بولسونارو نے کہا کہ برازیل تبدیلی چاہتا ہے اور ان کے بقول ورکرز پارٹی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ دوسری جانب لولا ڈی سلوا نے ساؤ پالو میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل سے نئی مہم شروع ہوگی اور ناک آؤٹ مرحلے میں وہ بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔
بولسونارو خاندان کی سیاسی کامیابی
یہ دائیں بازو کی لہر بولسونارو خاندان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، خاص طور پر 71 سالہ سابق صدر جیر بولسونارو کے لیے۔ اگرچہ وہ 2022 کے انتخابات میں لولا سے ہارنے کے بعد بغاوت کی سازش کے الزام میں 27 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور اس وقت نظر بندی میں ہیں، ان کے خاندان کے چار مزید افراد نے کانگریس میں نشستیں حاصل کر لی ہیں۔
- میشیل بولسونارو (44 سالہ)، سابق صدر کی اہلیہ، وفاقی ضلع سے سینیٹ کی نشست جیت گئیں۔
- کارلوس بولسونارو (43 سالہ)، سابق صدر کے بیٹے، سانتا کاتارینا سے سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے۔
- جیر رینان بولسونارو (28 سالہ)، سابق صدر کے سب سے چھوٹے بیٹے، ایوان زیریں میں نشست جیت گئے۔
- رینیٹو بولسونارو (62 سالہ)، سابق صدر کے بھائی، ساؤ پالو سے ایوان زیریں کے لیے منتخب ہوئے۔
کانگریس اور گورنری انتخابات میں دائیں بازو کی لہر
لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی جمہوریت میں صدارتی دوڑ کے ساتھ ساتھ کانگریس اور گورنری انتخابات میں بھی سخت گیر بولسوناریستہ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ ساؤ پالو ریاست کے گورنر ٹارسیسیو ڈی فریٹاس پہلے ہی راؤنڈ میں 62.65 فیصد ووٹ لے کر دوبارہ منتخب ہو گئے اور انہوں نے فرنینڈو حداد کو شکست دی۔ جنوبی ریاست پرانا میں سابق جج سیرجیو مورو تقریباً 50.11 فیصد ووٹوں کے ساتھ گورنر منتخب ہوئے۔ یہ دونوں حضرات بولسونارو کی 2018 سے 2022 تک کی حکومت میں وزراء کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
سینیٹ میں پی ایل کی برتری
بولسونارو کی لبرل پارٹی (پی ایل) اب سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے؛ اس کی نشستیں 15 سے بڑھ کر 28 ہو گئی ہیں، جو 1985 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد کسی بھی جماعت کا بہترین نتیجہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق دائیں بازو کی دیگر حلیف جماعتوں کے ساتھ مل کر بولسونارو حامی بلاک کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مضبوط اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

لولا کے حامیوں کو سینیٹ میں شکست
دوسری جانب لولا کے حامی سینیٹ کے امیدواروں کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ساؤ پالو میں سابق وزیر ماحولیات مارینا سلوا اور مرکز پسند سابق وزیر منصوبہ بندی سیمون ٹیبیٹ دونوں سینیٹ کی دوڑ ہار گئیں؛ یہ نشستیں گیلہرمی ڈیریٹی اور آندرے دو پرادو کے حصے میں آئیں۔ ریو ڈی جنیرو میں بائیں بازو کی تجربہ کار رہنما بینیڈیٹا دا سلوا 20.22 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں اور دونوں نشستیں لبرل پارٹی کے امیدوار لے گئے۔ ان شکستوں کو لولا کی مہم کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل: ٹرمپ کی نظریں برازیل پر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بولسونارو خاندان کے دیرینہ اتحادی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ برازیل کے انتخابات کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے فلاویو بولسونارو کی کھل کر حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ جیر بولسونارو کے خلاف مقدمے پر شدید تنقید کرتی رہی ہے اور اسی معاملے پر برازیل پر تجارتی محصولات بھی عائد کیے گئے تھے۔ لولا حکومت ان اقدامات کو برازیل کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتی ہے۔
نتیجہ: 25 اکتوبر کا فیصلہ کن مقابلہ
برازیل کے صدارتی انتخابات کے پہلے راؤنڈ کے نتائج نے ملک کی سیاسی سمت کے بارے میں اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ فلاویو بولسونارو کی برتری نے لولا ڈی سلوا کے لیے دوسرا راؤنڈ انتہائی مشکل بنا دیا ہے، کیونکہ 1985 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد پہلے راؤنڈ میں آگے رہنے والا امیدوار ہمیشہ صدارتی انتخاب جیتتا آیا ہے۔ بولسونارو خاندان کی سیاسی طاقت کا ابھرنا اور کانگریس میں ان کی جماعت کی مضبوطی ملک کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ اب سب کی نظریں 25 اکتوبر کے فیصلہ کن مقابلے پر ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
فلاویو بولسونارو کون ہیں؟
فلاویو بولسونارو برازیل کے ایک دائیں بازو کے سیاستدان اور سینیٹر ہیں جنہوں نے صدارتی انتخابات کے پہلے راؤنڈ میں برتری حاصل کی ہے۔ وہ سابق صدر جیر بولسونارو کے بڑے بیٹے ہیں اور ان کی عمر 45 سال ہے۔
لولا ڈی سلوا کے دوسرے راؤنڈ میں امکانات کیا ہیں؟
لولا ڈی سلوا، جو 80 سالہ موجودہ صدر ہیں، پہلے راؤنڈ میں دوسرے نمبر پر رہے۔ ان کے لیے دوسرا راؤنڈ بڑا چیلنج ہے کیونکہ 1985 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد پہلے راؤنڈ میں پیچھے رہنے والا کوئی امیدوار دوسرا راؤنڈ نہیں جیت سکا۔
برازیل میں دوسرا صدارتی راؤنڈ کب ہوگا؟
برازیل میں دوسرا صدارتی راؤنڈ 25 اکتوبر کو ہوگا۔ برازیل کے انتخابی نظام کے تحت صدارتی امیدوار کو جیت کے لیے پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
بولسونارو خاندان نے کانگریس میں کیا حاصل کیا؟
فلاویو بولسونارو کے علاوہ خاندان کے چار افراد کانگریس پہنچے ہیں: میشیل اور کارلوس بولسونارو سینیٹ میں، جبکہ جیر رینان اور رینیٹو بولسونارو ایوان زیریں میں نشستیں جیت گئے ہیں۔
سینیٹ میں طاقت کا توازن کیا ہے؟
بولسونارو کی لبرل پارٹی کی سینیٹ میں نشستیں 15 سے بڑھ کر 28 ہو گئی ہیں اور یہ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ دائیں بازو کی حلیف جماعتوں کے ساتھ مل کر اس بلاک کو کانگریس میں مضبوط اکثریت حاصل ہے۔