- 0
- 3 words
سیول: یوکرین جنگ کے دوران روس کو جنوبی کوریا سے تیل کی ترسیل کا انکشاف ہوا ہے۔ تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ جولائی اور اگست میں 176,000 ٹن سے زائد ایندھن، زیادہ تر ڈیزل، جنوبی کوریائی بندرگاہوں سے سات بحری جہازوں پر لاد کر روس کی مشرقی بندرگاہوں تک پہنچایا گیا ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنوبی کوریا نے یوکرین کے لیے انسانی امداد اور غیر مہلک فوجی سامان کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے۔
جنوبی کوریا کا روس کو تیل کی ترسیل کا انکشاف
گارڈین کے تجزیے کے مطابق، جولائی اور اگست کے مہینوں میں 176,000 ٹن سے زیادہ ایندھن، خاص طور پر ڈیزل، جنوبی کوریا کی مختلف بندرگاہوں سے سات بحری جہازوں پر لادا گیا۔ ان بحری جہازوں نے 14 مرتبہ روس کی مشرقی بندرگاہوں کا سفر کیا۔ یہ انکشاف جنوبی کوریا کی جانب سے یوکرین کے لیے انسانی امداد اور غیر مہلک فوجی سامان کی فراہمی کے وعدوں کے برعکس ہے۔
- جولائی اور اگست میں 176,000 ٹن سے زائد ایندھن روس پہنچایا گیا۔
- زیادہ تر ایندھن ڈیزل پر مشتمل تھا۔
- سات بحری جہازوں نے 14 مرتبہ روس کا سفر کیا۔
- یہ ترسیل جنوبی کوریا کے یوکرین کے لیے اعلانیہ حمایت کے برعکس ہے۔
ممنوعہ بحری جہازوں کا استعمال
ان سات بحری جہازوں میں سے تین ایسے تھے جو برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی زد میں تھے۔ ایک جہاز نے تو جنوبی کوریائی پانیوں میں ہی جہاز سے جہاز میں ایندھن منتقل کیا، جو کہ ایک ایسی تکنیک ہے جس سے سامان کی اصل منزل اور اس کا ذریعہ چھپایا جا سکتا ہے۔
- تین بحری جہاز پابندیوں کی زد میں تھے۔
- ایک جہاز نے جنوبی کوریائی پانیوں میں تیل منتقل کیا۔
- یہ طریقہ کار سامان کے ذرائع کو چھپانے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کا ردعمل اور خدشات
سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (CREA) کے ایک تجزیہ کار، آئزک لیوی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ حیران کن ہے کہ یورپی یونین کی پابندیوں کی زد میں آنے والے بحری جہازوں نے جنوبی کوریائی بندرگاہوں سے ایندھن بھرا اور اسے روس پہنچایا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ “یہ پابندیوں کے نظام اور یوکرین کے لیے جنوبی کوریا کی حمایت کو کمزور کرتا ہے۔”
جنوبی کوریا کی پالیسی اور روس کے ساتھ تعلقات
جنوبی کوریا نے یوکرین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور غیر مہلک فوجی سامان فراہم کیا ہے، اور 2023 میں 2.3 بلین ڈالر کی امداد کا بھی وعدہ کیا ہے۔ تاہم، جنوبی کوریا نے ہمیشہ یوکرین کی حمایت اور روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جنگ کے دوران، سیول نے براہ راست یوکرین کو ہتھیار بھیجنے سے گریز کیا ہے، جو کہ جنگ میں شامل ممالک کو مہلک ہتھیار نہ بھیجنے کی اس کی پالیسی کے مطابق ہے۔
- جنوبی کوریا نے یوکرین کو انسانی اور غیر مہلک فوجی امداد فراہم کی ہے۔
- 2023 میں 2.3 بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔
- جنوبی کوریا نے روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔
- براہ راست ہتھیاروں کی فراہمی سے گریز کیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا کے قوانین اور مغربی دباؤ
اگرچہ تیل کی یہ تجارت مغربی ممالک کی پابندیوں کی زد میں آنے والے بحری جہازوں کے ذریعے ہو رہی ہے، لیکن یہ بظاہر جنوبی کوریائی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ جنوبی کوریا نے روس کے خلاف اپنی پابندیوں میں زیادہ تر صنعتی مشینری، الیکٹرانکس اور گاڑیوں کے برآمدی کنٹرول پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تاہم، یہ شپمنٹ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں میں سیول کو ایک کمزور کڑی کے طور پر ظاہر کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔
شپمنٹ کی تفصیلات اور مشکوک راستے
یہ واضح نہیں ہے کہ ایندھن کا مالک کون تھا یا کس نے اسے فروخت کیا۔ جنوبی کوریائی بندرگاہوں کے ریکارڈ میں اس کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ سب سے بڑا بحری جہاز، Layla، جو کہ پابندیوں کی زد میں ہے، نے 19 جولائی اور 10 اگست کو جنوبی مشرقی بندرگاہ اولسان سے ولاڈی ووستوک کے لیے دو سفر کیے، جس میں کل 57,000 ٹن ڈیزل لے جایا گیا۔ پہلے سفر میں، جہاز نے حکام کو بتایا کہ اس کی منزل ولاڈی ووستوک ہے، لیکن دوسرے سفر میں اس نے جاپان کے شہر نیگاتا جانے کا اعلان کیا۔ ایک اور پابندیوں کی زد میں آنے والا جہاز، روسی پرچم بردار Astoria، جس پر آسٹریلیا کی جانب سے بھی پابندیاں عائد ہیں، نے 1 اگست کو اولسان سے تقریباً 11,000 ٹن ایندھن بھرا اور جاپان کو اپنی منزل ظاہر کیا۔
نتیجہ
جنوبی کوریا سے روس کو تیل کی ترسیل کا یہ انکشاف عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف یوکرین کے لیے بین الاقوامی حمایت کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ روس پر عائد پابندیوں کے نظام کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔ جنوبی کوریا کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے اور عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس یوکرین جنگ کے دوران سپلائی کے ذرائع تلاش کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کی جانب سے اس قسم کی ترسیل، چاہے وہ براہ راست قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو، مغربی اتحادیوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ضرور ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا جنوبی کوریا روس پر پابندیاں عائد ہے؟
جنوبی کوریا نے روس پر براہ راست پابندیاں عائد نہیں کیں، لیکن اس نے یوکرین کے لیے انسانی اور غیر مہلک فوجی امداد فراہم کی ہے اور روس کے ساتھ تجارتی تعلقات میں احتیاط برت رہا ہے۔
روس کو تیل کی ترسیل کس نے کی؟
یہ واضح نہیں ہے کہ تیل کس نے فروخت کیا یا اس کا اصل مالک کون تھا، لیکن یہ ترسیل جنوبی کوریائی بندرگاہوں سے ممنوعہ بحری جہازوں کے ذریعے کی گئی۔
کیا یہ ترسیل جنوبی کوریائی قوانین کی خلاف ورزی ہے؟
ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ ترسیل بظاہر جنوبی کوریائی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیونکہ ملک نے صرف برآمدی کنٹرول پر توجہ مرکوز کی ہے۔
اس صورتحال سے یوکرین کی حمایت پر کیا اثر پڑے گا؟
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ انکشافات جنوبی کوریا کی یوکرین کے لیے اعلانیہ حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں اور مغربی ممالک کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔