برطانوی مہم جو کارل بشبی نے 28 سال سے جاری اپنے غیر معمولی پیدل عالمی سفر کا آخری بڑا مرحلہ بھی عبور کر لیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بشبی نے انگلش چینل تیر کر پار کیا اور 5 اکتوبر 2026 کو ڈوور کے قریب شیکسپیئر بیچ پر برطانوی سرزمین پر قدم رکھا۔
بشبی نے یہ تاریخی مہم نومبر 1998 میں چلی کے جنوبی سرے سے شروع کی تھی۔ ان کا بنیادی اصول رہا ہے کہ سفر کے دوران کسی بھی قسم کی موٹر والی سواری استعمال نہیں کی جائے گی۔ اب ان کی آخری منزل آبائی شہر ہل ہے، جہاں وہ یکم نومبر 2026 تک پہنچنے کا ہدف رکھتے ہیں۔
اہم نکات
- نام: کارل بشبی — عمر 57 سال، تعلق ہل، انگلستان سے؛ سابق برطانوی پیراٹروپر
- مہم: گولیاتھ مہم؛ بغیر کسی موٹر والی سواری کے دنیا کا مسلسل پیدل چکر
- آغاز: یکم نومبر 1998؛ پونٹا ایریناس، چلی
- طے شدہ فاصلہ: تقریباً 36 ہزار میل (مختلف رپورٹس میں 50 سے 58 ہزار کلومیٹر تک کے اندازے)
- آخری مرحلہ: انگلش چینل کی تیراکی؛ معاون کشتی پر آرام کے وقفوں کے ساتھ تقریباً 4 دن میں مکمل
- لینڈنگ: 5 اکتوبر 2026؛ شیکسپیئر بیچ، ڈوور
- اگلی منزل: آبائی شہر ہل؛ ہدف یکم نومبر 2026 — آغاز کے ٹھیک 28 سال بعد
انگلش چینل: آخری بڑی رکاوٹ
نقشے پر محض 33 کلومیٹر کی یہ آبی پٹی بشبی کے 28 سالہ سفر کی سب سے مشکل رکاوٹ ثابت ہوئی۔ جون 2026 میں یورو ٹنل نے سروس سرنگ سے پیدل گزرنے کی ان کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد تیراکی ہی واحد راستہ بچی تھی۔ ستمبر کے اوائل میں فرانسیسی حکام نے انہیں چینل تیرنے کی خصوصی اجازت دی اور یکم اکتوبر کو تیراکی کا منصوبہ بنایا گیا۔
بشبی نے کئی مراحل میں تیراکی کی اور وقفوں میں معاون کشتی پر آرام کیا۔ حفاظتی خدشات کے پیش نظر ان کی ٹیم نے روانگی کا مقام اور وقت خفیہ رکھا۔ برطانوی سرزمین پر قدم رکھنے کے تقریباً 24 گھنٹے بعد اس کامیابی کی خبر میڈیا میں آئی۔

کارل بشبی کا 28 سالہ سفر
بشبی جنوبی امریکہ سے شمال کی طرف بڑھے، خطرناک ڈیرین گیپ عبور کیا، شمالی امریکہ طے کیا اور 2006 میں منجمد آبنائے بیرنگ پیدل پار کر کے روس میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد روسی ویزا کے مسائل نے ان کے کئی سال ضائع کیے، جبکہ عالمی وبا نے بھی سفر روکے رکھا۔ روس اور ایران سے گزرنے کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے بحیرہ کیسپیئن تیر کر آذربائیجان کا رخ کیا — تقریباً 300 کلومیٹر کی یہ تیراکی 31 دن میں مکمل ہوئی۔
اس کے بعد ان کا سفر ترکی، بلغاریہ، رومانیہ، ہنگری، آسٹریا اور بیلجیم سے ہوتا ہوا فرانس پہنچا۔ بریگزٹ کے بعد شینگن علاقے میں 90 دن قیام کی حد کے باعث انہیں میکسیکو میں وقفے لینا پڑے، لیکن ہر بار انہوں نے سفر ٹھیک اسی مقام سے دوبارہ شروع کیا جہاں رکا تھا، تاکہ ان کا راستہ مسلسل رہے۔
اب منزل: آبائی شہر ہل
ڈوور سے ہل تک کا آخری پیدل مرحلہ جاری ہے۔ بشبی کی والدہ اینجیلا 1998 سے ان کی واپسی کی منتظر ہیں۔ بشبی کے مطابق اس مہم کا اختتام ان کے لیے ملے جلے جذبات کا موقع ہے، کیونکہ یہ سفر ان کی زندگی کا مقصد بن چکا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اصل ہدف صرف ایک ہے: کام مکمل کرنا اور زندہ سلامت گھر پہنچنا۔
نتیجہ
کارل بشبی کی گولیاتھ مہم انسانی برداشت اور مستقل مزاجی کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ انگلش چینل عبور کرنے کے بعد ان کا 28 سالہ خواب تکمیل کے دہانے پر ہے، اور یکم نومبر 2026 کو ہل پہنچ کر وہ تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔ اس تاریخی مہم کی مزید تفصیلات یہاں پڑھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کارل بشبی کون ہیں؟
ہل، انگلستان سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ سابق برطانوی پیراٹروپر، جو 1998 سے گولیاتھ مہم کے تحت پیدل دنیا کا چکر لگا رہے ہیں۔
انہیں 28 سال کیوں لگ گئے؟
ویزا کے مسائل، روسی حکام کی پابندیاں، عالمی وبا، مالی مشکلات اور انگلش چینل جیسی قدرتی رکاوٹوں نے سفر کو بار بار روکے رکھا۔
کیا انہوں نے واقعی کوئی سواری استعمال نہیں کی؟
ان کے اصول کے مطابق سفر میں آگے بڑھنے کے لیے کوئی موٹر والی سواری استعمال نہیں کی گئی؛ سمندری رکاوٹیں تیر کر عبور کی گئیں اور آرام کے لیے معاون کشتی استعمال ہوئی۔
اب ان کا اگلا قدم کیا ہے؟
ڈوور سے ہل تک پیدل سفر جاری ہے، اور ہدف یکم نومبر 2026 تک آبائی شہر پہنچنا ہے — مہم کے آغاز کے ٹھیک 28 سال بعد۔