روس نے چھ اور سات اکتوبر کی درمیانی رات یوکرین پر بڑا میزائل اور ڈرون حملہ کیا ہے، جس میں ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 34 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یورپی یونین نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف دہشت گردی کی دانستہ حکمت عملی چلا رہا ہے، یعنی روس کا دہشت گردی کا منصوبہ اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
اہم نکات
- واقعہ: چھ اور سات اکتوبر 2026 کی درمیانی رات روس کے میزائل اور ڈرون حملے
- پیمانہ: صدر زیلنسکی کے مطابق تقریباً 50 میزائل اور 100 حملہ آور ڈرون استعمال ہوئے
- نقصان: یوکرینی حکام کے مطابق کم از کم 11 افراد ہلاک اور 34 سے زائد زخمی
- متاثرہ شہر: کیف، پریلوکی، دنیپرو، کریمنچوک، زاپوریزیا اور اولیکساندریا
- نشانہ: توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور رہائشی عمارتیں
- یورپی ردعمل: یورپی یونین کی شدید مذمت؛ روس کی دانستہ دہشت گردی کی حکمت عملی کا الزام
- یوکرین کا دعویٰ: جوابی کارروائی میں روس کی دو تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا
رات بھر کے حملے اور متاثرہ شہر
یوکرینی حکام کے مطابق روسی افواج نے رات گئے تقریباً 50 میزائلوں اور 100 حملہ آور ڈرونز سے یوکرین کے مختلف شہروں پر حملہ کیا۔ ان حملوں کا بڑا نشانہ ملک کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تھا، کیونکہ سردیاں قریب آنے کے ساتھ روس بجلی کے نظام کو مفلوج کرنا چاہتا ہے۔
سب سے زیادہ نقصان پریلوکی میں ہوا، جہاں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت پر حملے کے بعد نو افراد ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ دارالحکومت کیف میں رہائشی علاقوں میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اولیکساندریا میں دو اموات کی اطلاع ملی۔ دنیپرو، کریمنچوک اور زاپوریزیا میں بھی بلند رہائشی عمارتوں پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔

حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکن ملبہ ہٹا رہے ہیں — علامتی تصویر
روس کے ’دہشت گردی کے منصوبے‘ کی یورپی یونین کی شدید مذمت
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے روس کے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے بارہا واضح کیا ہے کہ روس یوکرین میں شہری آبادی کے خلاف دہشت گردی کی دانستہ حکمت عملی چلا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری بنیادی ڈھانچے پر دانستہ حملے کر کے عام لوگوں کو بجلی، پانی اور حرارت سے محروم کرنا دہشت گردی کے مترادف ہے، اور روس کو اس کا حساب دینا ہو گا۔

برسلز میں یورپی کمیشن کا صدر دفتر — یورپی یونین یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے — علامتی تصویر
یورپی یونین یوکرین کی دفاعی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں یورپی کمیشن نے ستمبر میں یوکرین کو میزائلوں اور ڈرونز کی خریداری کے لیے 3.3 بلین یورو کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا، جبکہ فضائی دفاع، گولہ بارود، ڈرونز اور الیکٹرانک جنگی سازوسامان کے لیے 6.1 بلین یورو کے مزید پیکج کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ یہ امداد یوکرین کو روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔ یورپی یونین نے دیگر عالمی شراکت داروں سے بھی یوکرین کی حمایت بڑھانے کی اپیل کی ہے۔
زیلنسکی کا ردعمل: پوتن کی سالگرہ پر حملہ
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملے سے ایک شام قبل ہی خبردار کیا تھا کہ روس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ حملہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی 74ویں سالگرہ کی رات کیا گیا، جو سات اکتوبر کو منائی گئی۔ صدر زیلنسکی نے ان حملوں کو جنگ کے سب سے زیادہ وحشیانہ حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ روس دانستہ طور پر شہریوں کی زندگی مشکل بنا رہا ہے تاکہ یوکرینی عوام میں خوف پھیلایا جا سکے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ روس پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں اور یوکرین کو فضائی دفاع کے مزید نظام فراہم کیے جائیں۔
یوکرین کا جوابی وار: روسی تیل تنصیبات نشانہ
یوکرین کے دعوے کے مطابق اس نے روسی حملوں کے جواب میں روس کی دو تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کیف کا موقف ہے کہ جب تک روس یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے جاری رکھے گا، یوکرین روس کے توانائی کے ذرائع کو جواب میں نشانہ بناتا رہے گا۔ یوکرین حالیہ مہینوں میں روسی تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور برآمدی ڈھانچے پر حملوں کی مہم چلا رہا ہے۔
نتیجہ
پوتن کی سالگرہ کی رات یوکرین پر ہونے والے ان حملوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ روس شہری آبادی اور توانائی کے ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنا رہا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے روس کے دہشت گردی کے منصوبے کی مذمت اور یوکرین کے لیے جاری امداد اس بحران پر بین الاقوامی ردعمل کی عکاسی کرتی ہے۔ سردیاں قریب آنے کے ساتھ یوکرین کے لیے فضائی دفاع اور توانائی کے شعبے میں فوری مدد پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
یہ خبر وطن نیوز انٹرنیشنل پر بھی شائع ہوئی ہے؛ یورپ کی مزید خبریں یورپ سیکشن اور دنیا بھر کی خبریں ورلڈ سیکشن میں پڑھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
یوکرین پر تازہ روسی حملے کب ہوئے؟
یہ حملے چھ اور سات اکتوبر 2026 کی درمیانی رات کیے گئے، جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کی 74ویں سالگرہ کی رات تھی۔
حملوں میں کتنا جانی نقصان ہوا؟
یوکرینی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 34 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
یورپی یونین نے کیا ردعمل دیا ہے؟
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف دہشت گردی کی دانستہ حکمت عملی چلا رہا ہے۔
یوکرین کو یورپی یونین سے کیا امداد مل رہی ہے؟
یورپی کمیشن نے میزائلوں اور ڈرونز کے لیے 3.3 بلین یورو کی ادائیگی اور فضائی دفاع سمیت دیگر دفاعی ضروریات کے لیے 6.1 بلین یورو کے پیکج کی منظوری دی ہے۔
یوکرین نے جوابی کارروائی کی ہے؟
یوکرین کے دعوے کے مطابق اس نے جوابی کارروائی میں روس کی دو تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔