×
چیلنج فیشن

اسلام آباد: چینی کمپنی چیلنج فیشن نے پاکستان میں جدید ٹیکسٹائل برآمدی مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق کمپنی کی سی ای او چن ین نے بتایا کہ ان کی کمپنی پاکستان سے پہلے ہی تیس کروڑ ڈالر سے زائد کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کر چکی ہے اور اب جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس بڑا کارخانہ لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے جہاں کپڑا اور تیار ملبوسات تیار کیے جائیں گے۔ اس منصوبے سے پچیس ہزار سے زائد نوکریاں پیدا ہونے اور مکمل پیداوار پر سالانہ چالیس کروڑ ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اہم نکات

  • چینی کمپنی چیلنج فیشن پاکستان میں جدید ٹیکسٹائل برآمدی مرکز قائم کرے گی۔
  • کمپنی پہلے ہی پاکستان سے تیس کروڑ ڈالر سے زائد کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کر چکی ہے۔
  • نئے منصوبے سے پچیس ہزار سے زائد نوکریاں پیدا ہونے اور سالانہ چالیس کروڑ ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف ہے۔
  • وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے چینی وفد کی ملاقات میں توسیعی منصوبے پر تبادلہ خیال ہوا۔
  • ماہرین کے مطابق یہ سرمایہ کاری پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

چیلنج فیشن کا اعلان: منصوبے کی تفصیل

چیلنج فیشن کی سی ای او چن ین کے مطابق مجوزہ سہولت جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہو گی اور کپڑے کے ساتھ ساتھ تیار ملبوسات کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل تیاری کی صلاحیت مضبوط ہو گی اور ملک عالمی ٹیکسٹائل فراہمی کے نظام میں مزید ضم ہو گا۔ اعلیٰ قدر کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات کی برآمد اس منصوبے کا مرکزی ہدف ہے۔

چیلنج فیشن پاکستان ٹیکسٹائل کارخانے میں ملبوسات کی تیاری
ملبوسات کے کارخانے میں تیار ملبوسات کی تیاری؛ چیلنج فیشن کے منصوبے سے اعلیٰ قدر کی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ ملے گا۔

چینی وفد کی وفاقی وزیر تجارت سے ملاقات

انڈپینڈنٹ نیوز پاکستان کی ویلتھ پاکستان سروس کے مطابق اس توسیعی منصوبے پر حال ہی میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے چینی وفد کی ملاقات میں تبادلہ خیال ہوا۔ وفد کی قیادت چیلنج فیشن کے چیئرمین ہوآنگ ویگو اور چیلنج اپیرل کی سی ای او کیرن چن کر رہے تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق توسیعی منصوبے سے سالانہ چالیس سے پچاس کروڑ ڈالر برآمدات اور تقریباً بیس ہزار نوکریوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ کمپنی نے پہلے چیلنج خصوصی اقتصادی زون کا منصوبہ شروع کیا تھا جس میں پانچ سال میں دس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری شامل تھی، اور اب بین الاقوامی پیداواری معیار کے مطابق جدید کارخانے پر کام جاری ہے جس کا پہلا مرحلہ رواں سال مکمل ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کا تناظر

ٹیکسٹائل پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مطابق یہ شعبہ ملکی جی ڈی پی کا تقریباً ساڑھے آٹھ فیصد اور صنعتی افرادی قوت کا تقریباً چالیس فیصد فراہم کرتا ہے۔ وزارت تجارت کے سالنامے کے مطابق مالی سال پچیس۔دو ہزار چوبیس میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات سترہ ارب پچانوے کروڑ ڈالر رہیں جو کل بتیس ارب ڈالر برآمدات کا تقریباً چھپن فیصد بنتی ہیں۔ درج ذیل جدول منصوبے کے اہم اعداد و شمار اور قومی تناظر پیش کرتا ہے:

معاملہ اعداد و شمار ماخذ
چیلنج فیشن کی موجودہ برآمدات تیس کروڑ ڈالر سے زائد کمپنی کا اعلان
منصوبے کا سالانہ برآمدی ہدف چالیس کروڑ ڈالر سے زائد ریڈیو پاکستان
متوقع نوکریاں پچیس ہزار سے زائد (دوسرے تخمینے میں تقریباً بیس ہزار) ریڈیو پاکستان اور ویلتھ پاکستان
مالی سال پچیس۔دو ہزار چوبیس میں ٹیکسٹائل برآمدات سترہ ارب پچانوے کروڑ ڈالر وزارت تجارت کا سالنامہ

ماہرین کی رائے

ویلٹھ پاکستان سے گفتگو میں نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے اسکول آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عروہ محمود نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری پاکستان کی ٹیکسٹائل تیاری کے منظر نامے کو بدلنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے منصوبے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، صنعتی پیداواری صلاحیت بہتر بنا سکتے ہیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہنر کی تربیت اور قدر میں اضافے کے ذریعے عالمی ملبوسات کی منڈیوں میں پاکستان کا مقام مضبوط کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے طویل مدتی پالیسی استحکام ناگزیر ہے اور برآمدی صنعتوں کے لیے توانائی کی قیمتوں کی طویل مدتی وضاحت اور بلا تعطل فراہمی نہایت اہم ہے۔

چیلنج فیشن ٹیکسٹائل منصوبے کے لیے کپڑے کے رولز
ٹیکسٹائل گودام میں کپڑے کے رولز؛ نیا منصوبہ کپڑے اور تیار ملبوسات دونوں کی پیداوار پر مرکوز ہو گا۔

کراچی گارمنٹ سٹی کمپنی کی آزاد ڈائریکٹر سارہ عدنان نے چیلنج فیشن کی توسیع کو پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کے لیے ممکنہ طور پر انقلابی پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ سالانہ پچاس کروڑ ڈالر تک برآمدات پیدا کر سکتا ہے اور تقریباً بیس ہزار کارکنوں کو روزگار دے سکتا ہے، جس سے یہ حالیہ برسوں کی اہم ترین غیر ملکی ٹیکسٹائل سرمایہ کاریوں میں سے ایک بن جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کے موجودہ بین الاقوامی خریداروں کے نیٹ ورک سے مقامی تیار کنندگان اور سپلائرز کے لیے بھی وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی برآمدی صنعتی سرمایہ کاری کو مسلسل راغب کرنے کی صلاحیت کا اہم امتحان ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ملک دیرینہ ساختی اور پالیسی چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہو۔

پاکستان کی برآمدی معیشت اور تجارتی اعداد و شمار سے متعلق مزید خبریں پڑھیں: ستمبر کے تجارتی اعداد و شمار اور چین کو پاکستانی برآمدات۔

نتیجہ

چیلنج فیشن کا ٹیکسٹائل برآمدی مرکز کا منصوبہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنے اعلان کردہ اہداف کے مطابق مکمل ہوتا ہے تو اس سے ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی، برآمدات میں اضافہ ہو گا اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کا مقام مضبوط ہو گا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس کے لیے مستحکم صنعتی پالیسی، توانائی کی مسلسل فراہمی اور سرمایہ کار دوست ماحول ناگزیر ہیں۔

عمومی سوالات

چیلنج فیشن پاکستان میں کیا منصوبہ بنا رہی ہے؟

چینی کمپنی چیلنج فیشن پاکستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس بڑا ٹیکسٹائل کارخانہ لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے جہاں کپڑا اور تیار ملبوسات تیار کیے جائیں گے۔

اس منصوبے سے کتنی نوکریاں پیدا ہوں گی؟

ریڈیو پاکستان کے مطابق پچیس ہزار سے زائد نوکریاں پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ ویلتھ پاکستان کے تخمینے کے مطابق یہ تعداد تقریباً بیس ہزار ہو سکتی ہے۔

منصوبے کا برآمدی ہدف کیا ہے؟

مکمل پیداوار پر سالانہ چالیس کروڑ ڈالر سے زائد برآمدات کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ کچھ تخمینوں میں یہ ہدف پچاس کروڑ ڈالر تک بتایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usman2344913@gmail.com

Related Posts

یورپی یونین گرین واشنگ قوانین: سپر مارکیٹ کی شیلف پر ماحولیاتی لیبل والی مصنوعات

یورپی یونین کے گرین واشنگ مخالف نئے قوانین نافذ: ‘ماحول دوست’ کا دعویٰ اب ثابت کرنا ہوگا

یورپی یونین کے گرین واشنگ مخالف قوانین پورے یورپ میں نافذ ہو گئے ہیں: مبہم 'ماحول دوست' دعوے ممنوع اور پائیداری کے...

Read out all
Navi Pillay 2026 Nobel Peace Prize — gold medal and scales of justice with Oslo City Hall

نوی پِلے کو 2026 کا نوبل امن انعام؛ بین الاقوامی قانون کے فروغ پر اعزاز

اوسلو: ناروے کی نوبل کمیٹی نے جنوبی افریقہ کی جج نوانیتھم “نوی” پِلے کو امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کی...

Read out all

بھارت میں تیرتے شمسی منصوبے کے لیے ٹاٹا پاور اور ناروے کی اوشن سن کا اشتراک

نئی دہلی، 8 اکتوبر — بھارت کی ایک بڑی مربوط بجلی کمپنی ٹاٹا پاور نے ناروے کی اوشن سن کے ساتھ شراکت...

Read out all
Canadisk hus med ny varmepumpe om vinteren

کینیڈا کا دو ارب ڈالر کا موسمیاتی منصوبہ: دس لاکھ گھروں کی توانائی اپ گریڈ

کینیڈا نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے گھریلو توانائی منصوبوں میں سے ایک کا اعلان کیا ہے: آٹھ سال میں دو...

Read out all

سبز سفیر: موسمیاتی تحریک کے خاموش کارکن

یہ ایک معلوماتی وضاحتی مضمون ہے — تازہ خبر نہیں۔ یہ دنیا بھر کے بڑھتے ہوئے سبز سفیر پروگراموں کے پیچھے کام...

Read out all
Young climate champions holding a green award trophy on stage at the 2026 Brower Youth Awards

براؤر یوتھ ایوارڈز 2026: چھ نوجوان موسمیاتی چیمپئنز کو اعزاز

اہم نکات کون: ریاستہائے متحدہ، میکسیکو اور کینیڈا سے چھ نوجوان ماحولیاتی رہنما کیا: براؤر یوتھ ایوارڈز برائے ماحولیاتی قیادت 2026 کے...

Read out all