امریکی فوج نے 2009 میں فورٹ ہڈ میں 13 بے گناہ فوجیوں کو ہلاک کرنے والے نیدال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ 60 سالوں میں امریکی فوج کی پہلی ایسی پھانسی ہوگی۔
- نیدال حسن کو 2009 میں فورٹ ہڈ میں 13 امریکی فوجیوں کے قتل اور 32 کے زخمی کرنے کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔
- یہ 60 سالوں میں امریکی فوج کی پہلی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی ہوگی۔
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سزائے موت کی منظوری دی ہے، جبکہ امریکی وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی۔
- یہ واقعہ امریکی فوجی اڈوں پر غیر جنگی حملوں میں سب سے مہلک تھا۔
فورٹ ہڈ حملہ
5 نومبر 2009 کو فورٹ ہڈ، ٹیکساس میں ہونے والے اس حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔ یہ کسی امریکی فوجی اڈے پر غیر جنگی حالات میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔
حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب فوجی طبی معائنے اور ویکسینیشن کے لیے ایک ہجوم والے طبی مرکز میں موجود تھے۔
سزائے موت کی منظوری
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسی نے سزائے موت کی سفارش کی تھی جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کر لیا ہے۔
عدالتی کارروائی اور اعتراف
نیدال حسن، جو ایک امریکی فوج کا سائیکیاٹرسٹ تھا، نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ وہی گن مین تھا۔ اس نے اپنے جرم پر معذرت بھی کی تھی۔
- 2013 میں عدالتِ جنگ کے دوران، حسن نے دعویٰ کیا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کا دفاع کر رہا تھا۔
- اس نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکہ کے خلاف جنگ میں ہے۔
- اس نے کہا کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جنگ میں ہے۔
فائرنگ اسکواڈ کا طریقہ کار
فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت امریکی فوج میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار دی جائے گی۔ یہ طریقہ کار موت کی سزا کے نفاذ کے لیے نسبتاً کم استعمال ہوتا ہے۔
دیگر ریاستوں میں استعمال
حال ہی میں جنوبی کیرولائنا میں 15 سال بعد فائرنگ اسکواڈ کا استعمال کیا گیا تھا۔ چار دیگر امریکی ریاستیں بھی اس طریقے کو استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہیں: ایڈاہو، مسیسپی، اوکلاہوما، اور یوٹاہ۔
امریکی فوج میں موت کی سزا
امریکی فوج میں موت کی سزا کے قانون کو 1984 میں صدر رونالڈ ریگن نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال کیا تھا۔ اس سے قبل 1983 میں اپیل کورٹ نے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔
فی الحال، امریکی فوج کی موت کی سزا کے منتظر قیدیوں میں چار افراد شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ وفاقی سطح پر موت کی سزا کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے جنوری 2025 میں اپنے اقتدار کے پہلے دن ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اسے بحال کیا تھا۔
ان کے پیشرو، صدر جو بائیڈن کے دور میں، محکمہ انصاف نے وفاقی سطح پر موت کی سزا پر عائد کردہ پابندی کو ختم کر دیا تھا۔
ایگزیکٹو آرڈر کا متن
صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں موت کی سزا کو “انتہائی ہولناک جرائم اور امریکی شہریوں کے خلاف مہلک تشدد کے مرتکب ہونے والوں کو روکنے اور سزا دینے کے لیے ایک ضروری آلہ” قرار دیا گیا ہے۔
نتیجہ
فورٹ ہڈ کے شوٹر نیدال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کا فیصلہ امریکی فوج میں ایک تاریخی واقعہ ہے۔ یہ 60 سالوں میں پہلی بار ہے کہ فوج اس طریقے سے کسی کو پھانسی دے گی۔ اس فیصلے نے موت کی سزا کے استعمال اور اس کے طریقہ کار پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔
نیدال حسن کا جرم امریکی فوجی تاریخ کے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک تھا، اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے ملک بھر میں گہرے صدمے کی لہر دوڑا دی تھی۔ اب، طویل عدالتی کارروائی کے بعد، اسے اس کے جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
فورٹ ہڈ حملہ کب ہوا تھا؟
فورٹ ہڈ حملہ 5 نومبر 2009 کو ہوا تھا۔
کتنے فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے؟
اس حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔
یہ امریکی فوج کی پہلی فائرنگ اسکواڈ سے پھانسی ہے؟
یہ 60 سالوں میں امریکی فوج کی پہلی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی ہوگی۔
فائرنگ اسکواڈ کا طریقہ کار کہاں کہاں استعمال ہوتا ہے؟
جنوبی کیرولائنا کے علاوہ، ایڈاہو، مسیسپی، اوکلاہوما، اور یوٹاہ جیسی ریاستیں بھی فائرنگ اسکواڈ کے استعمال کی اجازت دیتی ہیں۔