×
چینی کاروں پر محصولات — برطانوی بندرگاہ پر نئی برقی گاڑیوں کی آمد

برطانیہ چینی کاروں کی درآمدات پر محصولات عائد کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ اپنی تجارتی پالیسی کو یورپی یونین سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کے حوالے سے خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اقتصادی امور کے وزیر جوناتھن رینالڈز چینی گاڑیوں پر ممکنہ محصولات کا ایک پیکج تیار کر رہے ہیں، جبکہ وزرا یورپی یونین کے 45 فیصد محصولات سے ہم آہنگی کے لیے تیار ہیں۔

یہ اقدام یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں ایک نمایاں تبدیلی ہو گا، جس کا مقصد برطانوی صنعت کو چین کی سرکاری سبسڈی والی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے مقابلے سے بچانا ہے۔

اہم نکات

  • دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر جوناتھن رینالڈز چینی کاروں پر محصولات کا پیکج تیار کر رہے ہیں۔
  • برطانیہ یورپی یونین کے چینی برقی گاڑیوں پر عائد کردہ 45 فیصد تک کے محصولات سے ہم آہنگ ہونے پر غور کر رہا ہے۔
  • فنانشل ٹائمز کے مطابق یورپی یونین نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ «میڈ ان یورپ» فریم ورک میں شمولیت کے لیے اپنے محصولات بڑھائے۔
  • اس سال برطانیہ میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں چینی کاروں کا حصہ 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔
  • ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا ٹائم ٹیبل سامنے نہیں آیا۔

یورپی یونین کا دباؤ اور «میڈ ان یورپ» فریم ورک

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ چینی کاروں پر محصولات بڑھائے اور اپنی تجارتی پالیسی کو یورپی یونین سے قریب کرے، تاکہ «میڈ ان یورپ» کے مجوزہ قواعد کے تحت برطانوی برآمدات پر رکاوٹیں نہ لگیں۔ یورپی یونین کو خدشہ ہے کہ اگر برطانیہ تجارتی رکاوٹیں قائم نہ کرے تو چین یورپی محصولات سے بچنے کے لیے برطانیہ کو راستہ بنا سکتا ہے۔

«میڈ ان یورپ» پالیسی کا مقصد یورپ میں بنی اشیا کو ترجیح دے کر چین پر انحصار کم کرنا ہے۔ یہ پالیسی انڈسٹریل ایکسلریٹر ایکٹ کے ذریعے نافذ کی جا رہی ہے۔ برطانیہ اس فریم ورک میں کم از کم کچھ شعبوں، جیسے توانائی اور کیمیکلز، میں شمولیت چاہتا ہے تاکہ یورپی منڈی تک اس کی رسائی برقرار رہے۔ اسی تناظر میں برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کو «قابل اعتماد شراکت دار» تسلیم کروانے کی کوشش کریں گے اور خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو خارج کرنے سے اس کی کار انڈسٹری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

چینی کاروں پر محصولات — برطانوی بندرگاہ پر نئی برقی گاڑیوں کی آمد
برطانیہ میں چینی کاروں کا حصہ 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے بعد لندن یورپی یونین کے محصولات سے ہم آہنگی پر غور کر رہا ہے۔

45 فیصد محصولات کی تجویز کہاں سے آئی؟

یورپی یونین نے 2024 کے آخر میں چینی برقی گاڑیوں پر غیر منصفانہ سبسڈیز کے الزام میں 7.8 سے 35.3 فیصد تک اینٹی سبسڈی ڈیوٹیاں عائد کیں، جو 10 فیصد کے معمول کے درآمدی محصول کے علاوہ ہیں۔ اس طرح مجموعی محصول بعض مینوفیکچررز کے لیے 45 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ بریگزٹ کے بعد برطانیہ نے یہ محصولات نہیں اپنائے اور وہاں صرف 10 فیصد محصول لاگو ہے۔

رائٹرز کے مطابق برطانوی وزرا اب اسی 45 فیصد سطح سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تیار ہیں، تاکہ اگر یورپی رکاوٹیں برقرار رہیں تو یورپ سے موڑی گئی چینی گاڑیاں برطانوی منڈی میں خلل نہ ڈالیں۔ نسان کے افریقہ، مشرق وسطی، بھارت، یورپ اور اوشینیا خطے کے چیئرمین ماسیمیلیانو میسینا نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ چین میں بنی برقی گاڑیوں کے یورپی یونین میں داخلے کا راستہ بن سکتا ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف

برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ «ہم تجارتی اقدامات ہمیشہ آزادانہ طور پر اور صرف برطانیہ کے معاشی مفادات اور صنعت کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ تاہم یورپ اور برطانیہ کو بہت سے ایک جیسے چیلنجز درپیش ہیں، اسی لیے ہمارے درمیان تجارتی بہاؤ کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔» برطانیہ نے یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ یا کسٹمز یونین میں دوبارہ شمولیت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی چین کے ساتھ تجارت اور یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹیجک صنعتی تعلقات کے درمیان توازن قائم رکھنا اس کے لیے ایک مشکل امتحان ہے۔

عالمی تناظر اور چین کا ممکنہ ردعمل

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن نے رواں ماہ کہا تھا کہ یورپی یونین چین کے ساتھ «ناقابل برداشت» تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے «ہر دستیاب ذریعہ» استعمال کرے گا۔ امریکہ پہلے ہی چینی برقی گاڑیوں پر 100 فیصد محصولات عائد کر چکا ہے، جبکہ یورپی یونین کا 13 ماہ کی تحقیقات کے بعد اکتوبر 2024 میں محصولات کا نفاذ اسی سلسلے کی کڑی تھا۔

ماہرین کے مطابق چینی کاروں پر برطانوی محصولات کا فیصلہ بیجنگ کی جانب سے سخت ردعمل کو جنم دے سکتا ہے اور بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی برطانوی کوششوں کے لیے بھی ایک امتحان ہو گا۔ برطانوی آٹو انڈسٹری کے لیے یہ ایک نازک دور ہے، جسے یورپی منڈی تک رسائی اور چینی سرمایہ کاری کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔ اسی خبر کا اردو ایڈیشن یہاں پڑھیں۔

نتیجہ

برطانیہ کی جانب سے چینی کاروں پر محصولات عائد کرنے پر غور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی پالیسیوں میں ہم آہنگی اور مقامی صنعتوں کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن اگر لندن یورپی سطح کے محصولات اپناتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بلکہ چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی پر بھی مرتب ہوں گے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ محصولات کے معاملے میں ہم آہنگ ہو رہا ہے؟

اطلاعات کے مطابق برطانیہ چینی کاروں کی درآمدات پر محصولات عائد کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ اس کی پالیسی یورپی یونین سے ہم آہنگ ہو سکے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

یورپی یونین نے چینی کاروں پر کتنے محصولات عائد کیے ہیں؟

یورپی یونین 10 فیصد معمول کے محصول کے علاوہ 7.8 سے 35.3 فیصد اینٹی سبسڈی ڈیوٹیاں عائد کرتا ہے، جس سے مجموعی محصول بعض مینوفیکچررز کے لیے 45 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔

برطانیہ میں چینی کاروں کا حصہ کتنا ہے؟

رپورٹس کے مطابق اس سال برطانیہ میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں چینی کاروں کا حصہ 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔

اس اقدام سے برطانوی آٹو انڈسٹری پر کیا اثر پڑے گا؟

یہ اقدام مقامی صنعت کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یورپی یونین کی منڈی تک رسائی اور چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھی چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔

کیا چین اس اقدام پر ردعمل دے گا؟

ماہرین کے مطابق یہ ممکن ہے کہ چین اس اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کرے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Author

usmanjaved13132@gmail.com

Related Posts

میڈرڈ میں رہائشی بحران کے خلاف مظاہرہ — ہسپانیہ میں قبل از وقت انتخابات

ہسپانوی وزیراعظم کی ہاؤسنگ بحران کے باعث فوری انتخابات کی کال

ہسپانیہ کے وزیراعظم پدرو سانچیز نے رہائشی بحران پر پارلیمنٹ میں دو ہنگامی احکامات مسترد ہونے کے بعد 29 نومبر کو قبل...

Read out all
کیمرے اور نوٹ بک کے ساتھ ایک صحافی جو سبز چمکتی ہوئی زمین کے سامنے کھڑا ہے، سیارہ صحت صحافت کی علامت

جانز ہاپکنز کا ۵۰۰ ڈالر صحافت ایوارڈ: آبادیاتی تبدیلی اور سیارہ صحت کی رپورٹنگ پر عالمی اعزاز

ایک نیا بین الاقوامی سیارہ صحافت ایوارڈ صحافیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آب و ہوا کی کوریج کے کم...

Read out all
میکیلے شہر کا فضائی منظر، تیگرائی کا دارالحکومت — ٹی پی ایل ایف نے شہر سے عارضی پسپائی اختیار کر لی ہے

ایتھوپیا: باغی فورسز نے تیگرائی دارالحکومت سے پسپائی اختیار کر لی

ٹی پی ایل ایف نے ہفتے کو تیگرائی کے دارالحکومت میکیلے سے عارضی پسپائی کا اعلان کیا۔ حکومتی اتحادی فورسز اور وفاقی...

Read out all
Skoleelever spiser farverige vegetariske skolemåltider i et svensk kantineområde — en ny undersøgelse viser, at smag, mæthed og genkendelighed afgør opbakningen til klimavenlige skolemåltider

سویڈن کی تحقیق: ذائقہ دار ہوں تو طلبہ ماحول دوست اسکول کھانے کی حمایت کرتے ہیں

طلبہ ماحول دوست اسکول کھانوں کے بارے میں نہ واضح طور پر مثبت ہیں اور نہ واضح طور پر منفی — اور...

Read out all
Solar panels and wind turbines at sunrise in India — Sumitomo and Hero Future Energies' 500 MWp hybrid project with battery storage will supply 24/7 renewable power

بھارت میں چوبیس گھنٹے قابل تجدید بجلی کے لیے سوموٹومو کی ہیرو فیوچر انرجیز کے 500 میگاواٹ شمسی و ہوا منصوبے میں سرمایہ کاری

جاپان کی سوموٹومو کارپوریشن بھارت کی ریاست کرناٹک میں شمسی اور ہوا توانائی کے ایک نئے 500 میگاواٹ منصوبے میں 49 فیصد...

Read out all
غروب آفتاب کے منظر میں شمسی پینل اور ہوائی پنکھے — 2025 میں قابل تجدید توانائی کا ریکارڈ اضافہ، 2030 کے ہدف سے دنیا اب بھی پیچھے

قابل تجدید توانائی نے 2025 میں ریکارڈ 693 گیگا واٹ کا اضافہ کیا مگر 2030 کے ہدف سے دنیا اب بھی پیچھے — آئی آر ای این اے

آئی آر ای این اے اور کاپ31 صدارت کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں 693 گیگا واٹ ریکارڈ قابل تجدید بجلی صلاحیت...

Read out all