عالمی ادارہ صحت کے خصوصی کینسر تحقیقی ادارے اینٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی ایک نئی تحقیق کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں 23 لاکھ نئے کینسر کیس کسی نہ کسی انفیکشن سے منسلک تھے، یعنی ہر آٹھ میں سے ایک کینسر کیس کا تعلق انفیکشن سے تھا۔ دی لینسٹ آنکالوجی میں 29 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی اس تحقیق نے انفیکشن سے کینسر کے تعلق کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ ان میں سے بیشتر کیسوں کا بچاؤ موجودہ ویکسین، اسکریننگ اور علاج کے ذریعے ممکن ہے۔
اہم نکات
- 2024 میں انفیکشن سے منسلک نئے کینسر کیس کی تعداد تقریباً 23 لاکھ رہی، جو تمام کینسر کیسوں کا 12 فیصد ہے۔
- محققین نے 12 ایسے انفیکشن کا جائزہ لیا جو کینسر پیدا کرنے والے قرار دیے گئے ہیں؛ ان میں سے صرف پانچ انفیکشن نے تقریباً تمام کیسوں کا سبب بنایا۔
- سب سے بڑا سبب معدے کا ایک جرثومہ ہیلیکوبیکٹر پائلوری رہا، جس سے تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار کیس منسلک تھے۔
- انفیکشن سے ہونے والے 77 فیصد کینسر کیس کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں سامنے آئے۔
- ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین، سروائیکل اسکریننگ اور اینٹی وائرل علاج کے ذریعے ان میں سے اکثر کیسوں کا بچاؤ ممکن ہے۔
پانچ انفیکشن جو سب سے زیادہ کینسر کا سبب بنتے ہیں
تحقیق کے مطابق یہ پانچ انفیکشن 20 سے زائد اقسام کے کینسر سے منسلک پائے گئے، جن میں معدے، جگر، خون اور رحم کے منہ کے کینسر شامل ہیں۔ ہیلیکوبیکٹر پائلوری معدے کے کینسر کا سب سے بڑا سبب ہے، جب کہ ہیومن پیپیلوما وائرس سروائیکل کینسر کی بنیادی وجہ ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی جگر کے کینسر سے منسلک ہیں، اور ایپسٹین بار وائرس حلق کے اوپری حصے کے کینسر اور لمفوما سے جڑا ہوا ہے۔
| انفیکشن | منسلک کینسر | 2024 میں اندازہ کیس |
|---|---|---|
| ہیلیکوبیکٹر پائلوری | معدے کا کینسر | 7,60,000 |
| ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) | سروائیکل اور دیگر کینسر | 7,50,000 |
| ہیپاٹائٹس بی | جگر کا کینسر | 3,60,000 |
| ایپسٹین بار وائرس | حلق اور لمفوما | 2,60,000 |
| ہیپاٹائٹس سی | جگر کا کینسر | 1,60,000 |
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سروائیکل کینسر کے تمام تقریباً 6 لاکھ کیس ایچ پی وی سے منسلک تھے، جب کہ ہیپاٹائٹس بی جگر کے سب سے عام کینسر کے تقریباً نصف اور ہیپاٹائٹس سی پانچویں حصے کے کیسوں سے جڑا ہوا تھا۔ ایپسٹین بار وائرس حلق کے اوپری حصے کے 88 فیصد کینسر سے منسلک پایا گیا۔

انفیکشن سے کینسر کیسے ہوتا ہے؟
سائنس دانوں کے مطابق وائرس کئی طریقوں سے خلیوں کو کینسر کی طرف لے جا سکتا ہے۔ بعض وائرس خلیے کے اندرونی حفاظتی نظام کو بند کر دیتے ہیں جو خراب خلیوں کو ختم کرتا ہے، بعض اپنا ڈی این اے خلیے کے ڈی این اے میں شامل کر کے اس کے کنٹرول کے جین خراب کر دیتے ہیں، اور بعض وائرس خود ایسا جین لے کر چلتے ہیں جو کینسر پیدا کر سکتا ہے۔ جرثوموں اور پرجیویوں کی دیرپا انفیکشن سے پیدا ہونے والی سوزش بھی خلیوں کے ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
محققین نے واضح کیا ہے کہ انفیکشن کا مطلب یہ نہیں کہ کینسر ضرور ہوگا۔ خطرہ اس بات پر منحصر ہے کہ انفیکشن دیر تک برقرار رہے، مدافعتی نظام کا ردعمل کیسا ہو اور دیگر انفرادی عوامل کیا ہیں۔ طویل عرصے کی انفیکشن سوزش یا خلیوں کو نقصان پہنچا کر وقت کے ساتھ کینسر کے امکان کو بڑھا سکتی ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں بوجھ سب سے زیادہ
تحقیق میں سامنے آیا کہ انفیکشن سے ہونے والے تقریباً 77 فیصد کینسر کیس کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں تھے۔ مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ تقریباً 9 لاکھ 90 ہزار کیس ریکارڈ کیے گئے، جو عالمی تعداد کا 42 فیصد بنتے ہیں۔ صحارا کے جنوبی افریقہ، وسطی و مشرقی یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی شرح عالمی اوسط سے زیادہ رہی۔
ماہرین کے مطابق انفیکشن کی شرح، ویکسینیشن، اسکریننگ، ٹیسٹنگ اور علاج تک رسائی میں فرق اس عدم توازن کی بڑی وجہ ہے۔ غریب ممالک میں بچاؤ کے یہ پروگرام محدود ہیں، اس لیے رسائی کی بہتری کینسر کے خلاف جنگ میں مساوات کا اہم مسئلہ ہے۔
ان میں سے بیشتر کینسر کا بچاؤ ممکن ہے
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ان کینسروں کی ایک بڑی تعداد کو روکا جا سکتا ہے۔ ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہیں، جب کہ سروائیکل اسکریننگ کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی کر سکتی ہے۔ ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین موجود نہیں، لیکن اینٹی وائرل ادویات سے بیشتر انفیکشن کا مکمل علاج ممکن ہے، اور ہیلیکوبیکٹر پائلوری کا علاج اینٹی بایوٹک ادویات سے کیا جا سکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس شعبے پر تقریباً 30 سال سے تحقیق جاری ہے۔ 2002 میں انفیکشن سے ہونے والے کینسر کی شرح 18 فیصد بتائی گئی تھی، لیکن محققین نے واضح کیا کہ ڈیٹا کے ذرائع اور طریقوں میں تبدیلی کی وجہ سے نئے اعداد و شمار کا پرانے سے براہ راست موازنہ درست نہیں ہوگا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر ہیریٹ رمگے نے کہا کہ ویکسینیشن، اسکریننگ اور علاج نے مدد کی ہے، لیکن انفیکشن سے ہونے والے کینسر اب بھی کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان انفیکشن پر قابو پانے پر توجہ بڑھا کر کینسر کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
نتیجہ
یہ نئی عالمی تحقیق اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کے کینسر کے بوجھ کا ایک نمایاں حصہ بنیادی طور پر قابل بچاؤ ہے۔ متعدی بیماریوں اور کینسر کو الگ الگ شعبے سمجھنے کے بجائے انہیں ایک ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ویکسین، اسکریننگ اور علاج کے ذریعے لاکھوں مستقبل کے کینسر کیسوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صحت اور تندرستی سے متعلق مزید خبریں وطن نیوز کے تندرستی سیکشن پر پڑھیں۔
عام سوالات
سوال: کیا ہر انفیکشن کینسر کا سبب بنتا ہے؟
نہیں۔ تحقیق میں صرف 12 ایسے انفیکشن کا جائزہ لیا گیا ہے جنہیں کینسر پیدا کرنے والا قرار دیا گیا ہے، اور ان میں سے بھی صرف پانچ نے تقریباً تمام کیسوں کا سبب بنایا۔ عام نزلہ زکام یا بخار جیسی انفیکشن کینسر کا سبب نہیں بنتیں۔
سوال: ایچ پی وی سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ایچ پی وی کی ویکسین اس وائرس کے ان اقسام سے تحفظ دیتی ہے جو سروائیکل کینسر سے مضبوطی سے منسلک ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا ہدف ہے کہ 2030 تک 15 سال کی عمر کی 90 فیصد لڑکیوں کو ویکسین لگائی جائے۔
سوال: ہیپاٹائٹس بی اور سی سے جگر کے کینسر کا خطرہ کیسے کم کیا جائے؟
ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین خطرے کو کم کرتی ہے، جب کہ ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین نہیں ہے مگر اینٹی وائرل ادویات سے بیشتر انفیکشن کا مکمل علاج ممکن ہے۔ بروقت ٹیسٹ اور علاج جگر کے کینسر کا خطرہ گھٹا سکتے ہیں۔
سوال: غریب ممالک میں انفیکشن سے کینسر کے کیس زیادہ کیوں ہیں؟
ان ممالک میں انفیکشن کی شرح زیادہ ہونے کے ساتھ ویکسینیشن، اسکریننگ اور علاج تک رسائی محدود ہے، اس لیے بچاؤ کے قابل کیس بھی کینسر میں بدل جاتے ہیں۔ رسائی کی بہتری اس عدم توازن کو کم کر سکتی ہے۔