سائبیریا طاعون کے خدشے نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے — سائبیریا کے علاقے شیلیخوف میں طاعون پر تحقیق کرنے والے ادارے کی 28 سالہ لیبارٹری ورکر دریا شیپیلووا کی 2 اکتوبر کو نامعلوم اصل کے نمونیا سے موت کے بعد اس مہلک بیماری کے پھیلاؤ کے اندیشے بڑھ گئے۔ روسی حکام نے ان خدشات کو سختی سے مسترد کیا ہے، مگر یورپی مرکز برائے بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول (ای سی ڈی سی) اور امریکا صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہے ہیں۔
اہم نکات
متوفی: دریا شیپیلووا، 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن، ارکتسک ریسرچ اینٹی پلیگ انسٹیٹیوٹ آف سائبیریا اینڈ دی فار ایسٹ، شیلیخوف۔
موت: 2 اکتوبر 2026 بروز جمعہ؛ وجہ نامعلوم اصل کا نمونیا بتائی گئی۔
روس کا مؤقف: صحت نگران ادارے روسپوترےبنادزور کے مطابق متوفیہ کے رابطوں میں طاعون کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا اور ان کے جسم میں پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق کوئی بیکٹیریا نہیں ملے۔
احتیاطی تدابیر: مقامی میڈیا کے مطابق تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا؛ شیلیخوف ضلع کی نائب سربراہ ایلینا سوفینا کے مطابق 60 فیصد افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی نگرانی: ای سی ڈی سی صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہا ہے اور 6 اکتوبر تک ثانوی کیسز کا کوئی ثبوت نہیں ملا؛ امریکا بھی محکمہ خارجہ اور سی ڈی سی کے ذریعے نگرانی کر رہا ہے۔
سائبیریا طاعون: خدشات کیسے شروع ہوئے
معاملے نے اس وقت بین الاقوامی توجہ حاصل کی جب ہمسایہ علاقے بوریاتیا کے گورنر الیکسی تسیدنوف نے ٹیلی گرام پر اعلان کیا کہ ارکتسک کے علاقے کی ایک خاتون «شاید طاعون سے» ہلاک ہو گئی ہیں۔ بعد میں مقامی میڈیا نے ان کی شناخت 28 سالہ لیبارٹری ٹیکنیشن دریا شیپیلووا کے طور پر کی، جو شیلیخوف میں واقع ارکتسک ریسرچ اینٹی پلیگ انسٹیٹیوٹ آف سائبیریا اینڈ دی فار ایسٹ میں کام کرتی تھیں۔
روس کے صحت نگران ادارے روسپوترےبنادزور نے تصدیق کی کہ خاتون کو «نامعلوم اصل کے نمونیا» کی تشخیص ہوئی تھی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ متوفیہ کے نمونوں کے وسیع تجزیے میں ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق کوئی جراثیم نہیں ملے اور علاقے میں وبائی صورتحال مستحکم ہے۔ سائبیریا میں طاعون کے خدشے کی یہ خبر عالمی میڈیا میں بھی نمایاں رہی۔
احتياطی تدابیر: قرنطینہ اور نگرانی
خدشات کے باوجود روسی حکام نے فوری اور وسیع احتیاطی اقدامات کیے۔ روسپوترےبنادزور کے مطابق متوفیہ کے رابطے میں آنے والے تمام افراد کی شناخت کر کے انہیں روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ کے ساتھ ہسپتالوں میں طبی نگرانی میں رکھا گیا۔ شیلیخوف میں ایک مقامی ہسپتال کو قرنطینہ میں رکھا گیا۔

ایلینا سوفینا، شیلیخوف ضلع کی نائب سربراہ، نے کہا کہ «خطرناک تشخیص» کی تصدیق نہیں ہوئی اور احتیاطاً قرنطینہ میں رکھے گئے 60 فیصد افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ روسپوترےبنادزور کے مطابق رابطوں کے ٹیسٹوں میں کووڈ 19 کے دو اور رائنو وائرس کے دو کیسز سامنے آئے، مگر کوئی اور متعدی بیماری نہیں ملی۔ ادارے کی سربراہ آنا پوپووا خود ارکتسک پہنچیں اور علاقائی گورنر ایگور کوبزیف نے ہنگامی وبائی کمیشن کا اجلاس بلایا۔
ای سی ڈی سی اور امریکا کی نگرانی
یورپی مرکز برائے بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول (ای سی ڈی سی) نے کہا ہے کہ وہ دستیاب محدود معلومات کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور اسے قریبی نگرانی میں رکھے ہوئے ہے۔ 6 اکتوبر تک ادارے کو ثانوی کیسز یا انسان سے انسان میں مسلسل منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
امریکا بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وہ سی ڈی سی اور دیگر اداروں کے ساتھ صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہا ہے اور روس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ درست معلومات جلد اور کھلے عام فراہم کرے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ تشویش کی نہیں بلکہ توجہ کی بات ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مدد کی پیشکش کی ہے۔ عالمی صحت کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔
طاعون کی اقسام اور خطرات
طاعون ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے جو یرسینیا پیسٹس نامی بیکٹیریا سے ہوتا ہے۔ اس کی تین بنیادی اقسام ہیں: بوبونک طاعون سب سے عام ہے اور عموماً انسان سے انسان میں نہیں پھیلتا؛ سیپٹیسیمک طاعون اس وقت ہوتا ہے جب بیکٹیریا خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جائیں؛ اور نمونیا طاعون پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اور کھانسی کے ذریعے ہوا سے پھیل سکتا ہے، مگر اس کے لیے متاثرہ مریض سے قریبی اور طویل رابطہ درکار ہوتا ہے۔

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو بوبونک طاعون 30 سے 60 فیصد مریضوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ سیپٹیسیمک اور نمونیا طاعون بغیر علاج کے تقریباً ہمیشہ مہلک ہوتے ہیں۔ تاہم ابتدائی مرحلے میں یہ بیماری عام اینٹی بائیوٹکس سے قابل علاج ہے۔ تاریخ میں طاعون کئی بار وبائی شکل اختیار کر چکا ہے، جن میں 14ویں صدی کی بلیک ڈیتھ سب سے مشہور ہے۔
نتیجہ
سائبیریا میں ایک لیبارٹری ورکر کی موت کے بعد طاعون کے خدشات نے عالمی صحت کے اداروں کو متحرک کر دیا ہے، تاہم اب تک کے تمام شواہد روسی حکام کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ یہ طاعون کا معاملہ نہیں۔ رابطوں میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا، ثانوی منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور قرنطینہ میں رکھے گئے بیشتر افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پھر بھی ای سی ڈی سی اور امریکی اداروں کی مسلسل نگرانی اس بات کی علامت ہے کہ نمونیا طاعون جیسی بیماریوں کو کتنی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
طاعون کیا ہے؟
طاعون ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے جو عام طور پر چوہوں جیسے جانوروں اور ان کے پسوؤں سے انسانوں میں پھیلتا ہے، مگر اس کی نمونیا والی شکل کھانسی کے ذریعے انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
سائبیریا میں طاعون کے خدشات کی وجہ کیا بنی؟
شیلیخوف میں طاعون پر تحقیق کرنے والے ادارے کی 28 سالہ ورکر دریا شیپیلووا کی 2 اکتوبر 2026 کو نامعلوم اصل کے نمونیا سے موت ہوئی، جس کے بعد ہمسایہ علاقے کے گورنر کے بیان نے طاعون کے خدشات کو ہوا دی۔
روس نے ان خدشات پر کیا مؤقف اختیار کیا؟
روسی صحت نگران ادارے روسپوترےبنادزور نے کہا ہے کہ متوفیہ کے رابطوں میں طاعون کا کوئی کیس نہیں ملا اور ان کے جسم میں پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق کوئی بیکٹیریا نہیں پائے گئے۔
کیا طاعون انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے؟
بوبونک طاعون عام طور پر انسان سے انسان میں نہیں پھیلتا، لیکن نمونیا طاعون کھانسی کے ذریعے پھیل سکتا ہے — اس کے لیے متاثرہ مریض سے قریبی اور طویل رابطہ درکار ہوتا ہے۔
کیا طاعون کا علاج ممکن ہے؟
جی ہاں — اگر ابتدائی مرحلے میں علاج شروع کر دیا جائے تو طاعون عام اینٹی بائیوٹکس سے قابل علاج ہے۔ تاخیر کی صورت میں یہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔