متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹر جنرل نے تصدیق کی ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں کو پائلٹ نے کاک پٹ میں رکھے کریش ایکس سے کپتان پر حملہ کر کے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی — جسے حکام نے دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش قرار دیا ہے۔ خوش قسمتی سے مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کر لیا، اور طیارہ سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا گیا۔
حقیقت: واقعے کے اہم نکات
- پرواز: فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073، دبئی سے تل ابیب — بدھ 30 ستمبر 2026، بوئنگ 737؛ 170 سے زائد مسافر و عملہ سوار، اکثر مسافر اسرائیلی۔
- حملہ: کو پائلٹ نے کاک پٹ کے کریش ایکس سے کپتان سمٹ مچھر پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
- طیارے کی حالت: طیارہ تقریباً 33,000 فٹ کی بلندی سے گر کر تقریباً 17,000 فٹ تک آ گیا۔
- بچاؤ: زخمی کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا؛ مسافروں اور عملے نے حملہ آور کو قابو کیا، دو ریزرو پائلٹوں نے طیارہ تبوک، سعودی عرب میں اتار لیا۔
- سرکاری موقف: پراسیکیوٹر جنرل حمد سیف الشمسی (ہفتہ 3 اکتوبر، سرکاری خبر رساں ادارے وام کے حوالے سے) — تحقیقات جاری، متحدہ عرب امارات قیادت کر رہا ہے۔
فلائی دبئی کی پرواز میں کیا ہوا؟
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ جا رہی تھی کہ تقریباً دو گھنٹے بعد، سعودی عرب کے اوپر پرواز کے دوران، کو پائلٹ نے کپتان پر حملہ کر دیا۔ حملے کے لیے اس نے وہی کریش ایکس استعمال کیا جو بین الاقوامی ضابطوں کے تحت ہر مسافر طیارے کے کاک پٹ میں ہنگامی حالات کے لیے رکھا جاتا ہے۔
حملے کے بعد طیارہ تیزی سے نیچے آنے لگا اور تقریباً 33,000 فٹ سے گر کر 17,000 فٹ کے قریب پہنچ گیا۔ اس دوران شدید زخمی ہونے کے باوجود کپتان سمٹ مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس سے مسافر اور عملہ اندر داخل ہوئے اور حملہ آور کو قابو کر لیا۔ طیارے میں سفر کرنے والے دو ریزرو پائلٹوں نے کنٹرول سنبھال کر طیارے کو سعودی عرب کے شمال مغربی شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا، جہاں حملہ آور کو سعودی حکام نے حراست میں لے لیا۔

کپتان کی بہادری نے بڑا حادثہ ٹال دیا
بھارتی کپتان سمٹ مچھر کو حملے میں شدید زخم آئے، اس کے باوجود انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھول کر مدد حاصل کی — اسی اقدام نے مسافروں کو مداخلت کا موقع دیا اور ممکنہ تباہی ٹل گئی۔ متحدہ عرب امارات کے سینئر سفارتی مشیر انور قرقاش نے اسے “خطرناک دہشت گردانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے کپتان کو تباہی روکنے کا سہرا دیا۔
حملہ آور کون تھا؟
رائٹرز کے مطابق معاملے سے براہ راست واقف ایک ذریعے نے حملہ آور کی شناخت ہمام الحمامی کے طور پر کی ہے، جو عمان کا شہری ہے؛ تحقیقات سے واقف دوسرے ذریعے نے بھی نام کی تصدیق کی ہے، تاہم اماراتی حکام نے تاحال سرکاری طور پر نام کی تصدیق نہیں کی۔ اسرائیلی حکام پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ حملہ آور عمانی شہری ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذرائع کے مطابق الحمامی متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوا اور اس کی والدہ شامی ہیں؛ عمان نے شدت پسندانہ خیالات کے خدشے پر اسے پرواز سے روک دیا تھا، جس کے بعد وہ فلائی دبئی سے منسلک ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق الحمامی نے برطانیہ کی بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی سے ایوی ایشن مینجمنٹ میں ڈگری حاصل کی تھی، جہاں یونیورسٹی کے مطابق اس نے کوئی پائلٹ ٹریننگ نہیں لی۔ خلیجی سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تحقیقات میں یہ جانچا جا رہا ہے کہ آیا اس نے تنہا کارروائی کی یا کسی شدت پسند گروہ سے رابطہ تھا۔
نیتن یاہو اور اماراتی حکام کا ردعمل
پراسیکیوٹر جنرل حمد سیف الشمسی نے سرکاری خبر رساں ادارے وام کے حوالے سے کہا کہ “تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کو پائلٹ نے دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش کی” اور واقعے کے تمام پہلوؤں، محرکات، رابطوں اور طبّی و ڈیجیٹل شواہد کی جانچ جاری ہے۔ رائٹرز کے مطابق اسرائیلی تفتیش کار بھی متحدہ عرب امارات کی قیادت میں ہونے والی تحقیقات میں شریک ہوں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ حملہ آور “اسلامی شدت پسندانہ ذہن سازی” سے گزرا تھا اور بظاہر خودکشی کے موڈ میں تھا — “اس بات کا قوی امکان تھا کہ وہ طیارہ گرانے والا تھا”۔ نیتن یاہو کے مطابق قابو کیے جانے کے بعد حملہ آور عملے سے کہہ رہا تھا “مجھے مار دو، مجھے مار دو”، اور اب یہ جانچا جا رہا ہے کہ آیا اسے کسی نے بھیجا تھا: “جس نے بھی اسے بھیجا، اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی”۔ رائٹرز کی مکمل رپورٹ یہاں پڑھیں۔
نتیجہ
فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 پر ہونے والا حملہ ہوائی سفر کی تاریخ کے خطرناک ترین واقعات میں سے ایک ہے، جس میں کپتان، عملے اور مسافروں کی بروقت بہادری نے 170 سے زائد جانوں کو بچا لیا۔ متحدہ عرب امارات کی قیادت میں تحقیقات جاری ہیں جن سے حملہ آور کے محرکات اور ممکنہ رابطوں کا تعین ہوگا — اور یہی تحقیقات مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اہم سبق فراہم کریں گی۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے وطن نیوز کی یہی خبر یہاں پڑھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
فلائی دبئی کی پرواز پر حملہ کس نے کیا؟
رائٹرز کے ذرائع کے مطابق کو پائلٹ ہمام الحمامی نے، جو عمان کا شہری ہے؛ اماراتی حکام نے تاحال سرکاری طور پر نام کی تصدیق نہیں کی۔
حملے میں کون سا ہتھیار استعمال ہوا؟
کاک پٹ میں ہنگامی حالات کے لیے رکھا جانے والا کریش ایکس، جس سے کو پائلٹ نے کپتان سمٹ مچھر پر حملہ کیا۔
طیارہ کہاں اتارا گیا؟
دو ریزرو پائلٹوں نے طیارے کو سعودی عرب کے شمال مغربی شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا؛ حملہ آور کو سعودی حکام نے حراست میں لے لیا۔
متحدہ عرب امارات کا سرکاری موقف کیا ہے؟
پراسیکیوٹر جنرل حمد سیف الشمسی نے اسے “دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش” قرار دیا ہے اور تحقیقات متحدہ عرب امارات کی قیادت میں جاری ہیں۔
کیا کپتان بچ گئے؟
جی ہاں — شدید زخمی ہونے کے باوجود کپتان سمٹ مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ کھول کر مدد حاصل کی، اور اماراتی حکام نے ان کی بہادری کو تباہی ٹالنے کا سہرا دیا ہے۔