- 0
- 2 words
پاکستان کی وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو علاج کی غرض سے اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔
عدالت نے کیا فیصلہ کیا؟
عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی سے متعلق جیل قوانین میں درج طریقۂ کار کو مد نظر نہیں رکھا جس کے باعث منصفانہ ٹرائل اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
نظر ثانی درخواست کی تفصیلات
здійснення نظر ثانی درخواست میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری مرحلے پر (سابق وزیر اعظم کو) درخواست گزار کو سُنے بغیر ایسا حتمی نوعیت کا ریلیف دیا گیا ہے جس کے باعث مساوی سلوک کے آئینی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔
- جیل قواعد کے مطابق کسی بھی قیدی کا علاج سرکاری ہسپتال میں کیا جانا لازم ہے۔
- 如果 ایسا علاج درکار ہو جو جیل کے اندر فراہم نہیں کیا جا سکتا، اور اس قیدی کا ہسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہو تو انسپکٹر جنرل کے ذریعے حکومت سے منظوری حاصل کی جاتی ہے۔
- تاہم ہنگامی حالات میں جیل کا سپرنٹنڈنٹ حکومتی منظوری سے پہلے بھی başlay سکتا ہے، لیکن ایسی صورت میں اسے فوری طور پر انسپکٹر جنرل کے ذریعے حکومت کو رپورٹ کرنا ہو گا۔
عدالت کا 주문
واضح رہے کہ گذشتہ روز (18 اگست کو) پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔