دنیا بھر میں ماحولیاتی صحافت کے بہترین نمونوں کو اعزاز دینے والے کورنگ کلائمیٹ ناؤ صحافتی ایوارڈز 2026 کے فاتحین کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ چھٹے سال میں داخل ہونے والے ان ایوارڈز کے لیے درجنوں ممالک کے صحافیوں کی بارہ سو سے زائد شرکتیں موصول ہوئیں، جن کا جائزہ تیس سے زائد ممالک کے ایک سو بیس نامور صحافیوں پر مشتمل جیوری نے لیا۔ چودہ موضوعاتی کیٹیگریز کے ساتھ تین صحافیوں کو سال کا صحافی قرار دیا گیا جبکہ دی گارڈین کی فیونا ہاروی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔
اہم نکات
- کورنگ کلائمیٹ ناؤ ایوارڈز 2026 کے لیے بارہ سو سے زائد شرکتیں موصول ہوئیں۔
- تیس سے زائد ممالک کے ایک سو بیس صحافیوں نے فاتحین کا انتخاب کیا۔
- سال کے صحافی: جنوبی کوریا کے کم من ووک، بھارت کی رولی سریواستو اور امریکہ کے سیمی راتھ۔
- دی گارڈین کی فیونا ہاروی کو دوسرا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔
- فاتحین میں اے پی، بی بی سی ورلڈ سروس، میامی ہیرالڈ، گرسٹ، کاربن بریف اور کینیا، میکسیکو و برازیل کے ادارے شامل ہیں۔

ماحولیاتی صحافت کے سال کے ستارے
سال کے صحافی قرار پانے والے تینوں صحافی اپنے اپنے انداز میں نمایاں ہیں۔ کم من ووک جنوبی کوریا کے معروف ایم بی سی نیوز کے جدید نشریاتی صحافی اور فلم ساز ہیں۔ رولی سریواستو نے دی مائیگریشن اسٹوری کی بنیاد رکھی، جو بھارت کی کروڑوں مہاجر مزدوروں کی کہانی کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بیان کرتا ہے۔ سیمی راتھ نے لاس اینجلس ٹائمز میں نمایاں خدمات کے بعد 2025 میں ثقافتی نیوز لیٹر کلائمیٹ کلرڈ گوگلز کی بنیاد رکھی۔
| صحافی | ادارہ | نمایاں کام |
|---|---|---|
| کم من ووک | ایم بی سی نیوز، جنوبی کوریا | جدید نشریاتی صحافت اور ماحولیاتی فلم سازی |
| رولی سریواستو | دی مائیگریشن اسٹوری، بھارت | مہاجر مزدوروں کی کہانی موسمیاتی تناظر میں |
| سیمی راتھ | کلائمیٹ کلرڈ گوگلز، امریکہ | ثقافتی زاویے سے موسمیاتی رپورٹنگ |
فیونا ہاروی — لائف ٹائم اچیومنٹ
دی گارڈین کی ماحولیاتی ایڈیٹر فیونا ہاروی کو صحافت میں زندگی بھر کی نمایاں خدمات پر دوسرا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ اس سے پہلے یہ اعزاز بل میک کبن کو ملا تھا۔ ہاروی نے پندرہ سال تک دی گارڈین اور اس سے پہلے فنانشل ٹائمز میں موسمیاتی کہانی کو غیر معمولی مہارت سے بیان کیا ہے۔ وہ انیس موسمیاتی کانفرنسوں کی کوریج کر چکی ہیں اور ان کی تحریریں عام قارئین کے لیے سادہ جبکہ پالیسی سازوں کے لیے گہری بصیرت رکھتی ہیں۔
مشکل دور میں صحافت کی اہمیت
کورنگ کلائمیٹ ناؤ کے شریک بانی کائل پوپ کے مطابق اس سال ان ایوارڈز کی اہمیت دو چند ہے، کیونکہ دنیا بھر کے کئی نیوز رومز موسمیاتی کوریج سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، حالانکہ گرم ہوتی دنیا کے اثرات روز بروز شدید ہوتے جا رہے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارک ہرٹسگارڈ کا کہنا ہے کہ یہ فاتحین عوام کی خدمت کے اسی عزم کی مثال ہیں جو صحافت کا اصل جوہر ہے۔ ماحولیاتی صحافت کی مزید خبریں یہاں پڑھیں۔
نتیجہ
کورنگ کلائمیٹ ناؤ ایوارڈز 2026 نے ثابت کیا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود دنیا بھر میں ماحولیاتی صحافت زندہ اور توانا ہے۔ ان صحافیوں کی محنت آنے والے صحافیوں کے لیے مشعل راہ ہے کہ موسمیاتی کہانی کو دیانت، مہارت اور انسانیت کے ساتھ بیان کیا جائے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کورنگ کلائمیٹ ناؤ ایوارڈز کیا ہیں؟
یہ ماحولیاتی رپورٹنگ میں بہترین کارکردگی کو اعزاز دینے والے عالمی ایوارڈز ہیں، جو اب چھٹے سال میں ہیں۔
2026 میں سال کے صحافی کون قرار پائے؟
کم من ووک، رولی سریواستو اور سیمی راتھ کو سال کا صحافی قرار دیا گیا۔
لائف ٹائم اچیومنٹ کسے ملا؟
دی گارڈین کی ماحولیاتی ایڈیٹر فیونا ہاروی کو یہ اعزاز دیا گیا۔