کوپ 31 کے لیے بحرِ الکاہل کے موسمیاتی ایلچی تین افراد ہیں، جن کے نام پیسیفک آئلینڈز فورم کے سیکریٹریٹ کی 15 جون 2026 کی مشترکہ ریلیز میں ہیں۔ خطے کے موسمیاتی وزرا نے انہیں منظور کیا۔ تقرری کوپ 31 کے صدرِ نامزد اور مذاکرات کے صدر کے مشترکہ خط سے ہوئی۔
مارشل آئلینڈز کی کرسٹینا ایونیمٹو سٹیگ اوشیانیا کی ایلچی ہیں۔ ان کا کام 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کو پہنچ میں رکھنا ہے۔ پاپوا نیو گنی کے روئل یامونا موسمیاتی مالیات تک رسائی کے ایلچی ہیں۔ فجی کی پارلیمان کے رکن اینیا بی سیروئراتو سمندر کے ایلچی ہیں۔
ہر ذمہ داری کیا ہے، اور کانفرنس میں ان کی جگہ
ریلیز کہتی ہے کہ یہ تینوں حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور ریاست سے باہر کے فریقین سے مضبوط حمایت مانگیں گے۔ کوپ 31 کی آسٹریلیا۔بحرِ الکاہل شراکت کے ساتھ وہ میزبان ترکی کے ساتھ ایسی کانفرنس کی طرف کام کریں گے جو نتائج، مشورے، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری پر ہو۔ وہ فجی اور تووالو کے پری کوپ اجتماعات میں شامل ہوں گے اور یہی وکالت انطالیہ کے مذاکرات میں لے جائیں گے۔ کوپ 31 انطالیہ، ترکی میں 9 سے 20 نومبر 2026 کو مقرر ہے۔
آسٹریلیا کے وزیرِ موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کرس بوون نے کہا کہ ان تقرریوں پر بحرِ الکاہل کی اقوام کے ساتھ شراکت باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایلچی خطے کی وکالت کریں گے اور روزگار، سلامتی اور بہبود کے تحفظ میں مدد دیں گے۔ ان کے الفاظ تھے: “ہم مل کر زیادہ مضبوط ہیں۔”
فورم کے سیکریٹری جنرل بیرن دیواویسی واکا نے کہا کہ پری کوپ کی میزبانی اور کوپ 31 کو شکل دینے میں حصہ لینے سے خطے کی ترجیحات نتائج میں آئیں۔ ریلیز تقرریوں کو موافقت، لچک، نقصان اور تباہی، سمندر کے تحفظ اور موسمیاتی مالیات سے جوڑتی ہے۔ اس ترتیب میں کوپ 31 کی صدارت ترکی کے پاس ہے، مذاکرات کی صدارت آسٹریلیا کے پاس، اور پری کوپ کی میزبانی بحرِ الکاہل کرے گا۔
سٹیگ پہلے ہی مارشل آئلینڈز کی موسمیاتی ایلچی ہیں اور برسوں سے موسمیاتی سفارت میں ہیں، بشمول ہائی ایمبیشن کولیشن۔ یامونا پاپوا نیو گنی کے خصوصی ایلچی برائے موسم اور ماحول ہیں اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے متبادل بورڈ ممبر۔ ان کا کام وہ مالیات ہے جو بحرِ الکاہل کے ممالک اور سب سے زیادہ متاثر آبادیوں تک پہنچے۔ سیروئراتو، جو پہلے عالمی موسمیاتی چیمپئن رہ چکے ہیں، سمندر کی صحت، ساحلی لچک اور سمندر پر مبنی حل آگے بڑھائیں گے۔ کوپ 31 دیکھنے والا کوئی دفتر یا نیوز روم ان تین ناموں اور ذمہ داریوں کو انطالیہ تک بحرِ الکاہل کا راستہ سمجھ سکتا ہے۔